نوبل امن انعام بیچنے کے لیے نہیں

نارویجن سیاسی جماعت پارٹی سینٹرم کے سربراہ گائیر لیپستاد نے اعلان کیاہے کہ انہوں نے نوبل امن انعام کے لیے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو نامزد کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ناروے کے سب سے بڑے اخبار آفتن پوستن نے 5 اپریل کو اس موضوع پہ اداریہ لکھا ہے۔ جس کا عنوان ہے: ’نوبل امن انعام بیچنے کے لیے نہیں‘۔

اداریے کے مطابق گائیر لپستاد نے اختلاف رائے رکھنے والوں کو نوبل امن انعام دینا اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ 2010 میں جب نوبل کمیٹی نے چینی منحرف لیو ژیاؤ باؤ کو امن انعام دیا، تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ چینی حکام شدید ناراض ہو گئے، ناروے کے ساتھ سفارتی تعلقات منجمد کر دیے گئے، طے شدہ سرکاری دورے منسوخ کر دیے گئے، حتیٰ کہ جاری تحقیقی تعاون بھی متاثر ہوا۔

اُس وقت کے وزیر اعظم اور لیبر پارٹی کے سربراہ ینس ستولتن برگ نے بتایا کہ چین نے ناروے پر معافی مانگنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ چینی حکام کا مؤقف تھا کہ یہ ناقابلِ قبول ہے کہ ناروے کی حکومت چین میں ایک منحرف آواز کی حمایت کرے۔ ناروے کی حکومت کے لیے یہ بات واضح کرنا انتہائی ضروری تھا کہ نوبل کمیٹی ایک آزاد ادارہ ہے۔ ناروے کی طرف سے کبھی کوئی معذرت نہیں کی گئی کیونکہ لیو ژیاؤ باؤ کو انعام ناروے کی پارلیمنٹ یا سیاست دانوں نے نہیں بلکہ نوبل کمیٹی نے دیا تھا۔

لیکن یہ فرق بین الاقوامی برادری کو سمجھانا ہمیشہ سے مشکل رہا ہے۔ نوبل کمیٹی کو اگرچہ پارلیمانی جماعتوں کی متناسب نمائندگی کی بنیاد پر مقرر کیا جاتا ہے مگر انعام کے فیصلے میں پارلیمنٹ کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ کئی سابق سینئر سیاست دان اس کمیٹی کا حصہ رہے ہیں مگر کمیٹی کے فیصلے آزاد اور خودمختار ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے پارٹی سینٹرم کے سربراہ گائیر لپستاد پہ شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے اب نوبل امن انعام کو سیاسی ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ جنوری میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف پارلیمانی سیاست دان ہی نامزدگی دے سکتے ہیں، اس لیے یا تو وہ ان سیاست دانوں سے رابطہ کریں گے یا عوام انہیں پارلیمان میں منتخب کریں تاکہ وہ یہ تجویز خود پیش کر سکیں۔

دوسرے لفظوں میں: پارٹی سینٹرم کو ووٹ دیں تاکہ ہم عمران خان کو نوبل انعام دلوا سکیں۔

یہ ایک الگ بحث ہے کہ آیا عمران خان اس انعام کے مستحق ہیں یا نہیں۔ وہ 2022 میں وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے گئے اور چار سال حکومت میں رہنے کے بعد اب کئی الزامات، جن میں بدعنوانی بھی شامل ہے، کے تحت قید کاٹ رہے ہیں۔ ان کے حامی اور خود وہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک سیاسی سازش کا شکار ہوئے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ عمران خان اہل ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ گائیر لپستاد نے نوبل انعام کو کھلے عام ایک انتخابی ہتھیار میں بدل دیا ہے۔ تاکہ پاکستانی نژاد ووٹرز کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ عمران خان اس ووٹر گروپ میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔

یہ بڑی ستم ظریفی ہوگی اگر لیپستاد کی کوشش کامیاب ہوجائے۔ کیونکہ اس سے مستقبل میں سیاسی اپوزیشن رہنماؤں جیسے کہ خان کو انعام دینا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ اگر لیو کو پارلمانی انتخابی مہم کے دوران انعام ملا ہوتا تو ستولتنبرگ چین کو کبھی یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ نوبل کمیٹی ایک ازاد ادارہ ہے۔ اگر لیپستاد واقعی عمران خان کے خیرخواہ ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ انعام کو انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بند کر دیں۔ خوش قسمتی سے لیپستاد اور ان کی معمولی جماعت کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ اس عمل کو نقصان پہنچا سکیں۔

(عمران خان کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کے حوالے سے گزشتہ دنوں پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت سی خبریں اور تبصرے سامنے آئے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے حقیقی صورت حال غیر واضح تھی۔ ناروے کے اہم اخبار آفتن پوستن نے 5 اپریل کے اداریے میں اس خبر کی حقیقت اور ایک سیاسی پارٹی لیڈر کی طرف سے یہ اعلان کرنے پر تبصرہ کیا ہے۔ ڈاکٹر سید ندیم حسین نے کاروان کی درخواست پر اس اداریے کا ترجمہ کیا ہے جو یہاں پیش کیا جارہا ہے: مدیر)