ناروے کی مساجد میں رمضان البارک کے دوران افطاری کے نظارے

اس رمضان میں نے اوسلو کی متعدد مساجد میں افطاری کی سعادت حاصل کی۔ دس گیارہ مساجد میں افطاری، نمازِ مغرب، نمازِعشا اور نمازِجمعہ کی ادائیگی ایک دلچسپ تجربہ رہا۔

مسلمانوں، مساجد اور اسلامی طرزِ عمل کے بارے میں عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ یہ سب یکساں ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمان خود بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم اور ہماری تمام مساجد اور ان میں ہونے والے معاملات ایک ہی طرح کے ہیں اور ایک ہی طرح سے ہوتے ہیں۔ حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔

رمضان روحانیت اور اجتماعیت کا مہینہ ہے۔  رمضان میں عام دنوں کی نسبت زیادہ لوگ مسجد آتے ہیں۔ خاص طور پر مغرب کی نماز، افطاری، عشا اور تراویح کے وقت اہل ایمان کی بڑی تعداد مساجد میں جانا بابرکت مانتی ہے۔ اس تناظر میں اوسلو کی مختلف مساجد میں نمازیوں کی تعداد میں فرق دیدنی تھا۔ اوسلو کی ایک بڑی مسجد میں مغرب کی نماز کے وقت صرف چھ نمازی موجود تھے۔ انہی میں سے ایک نے امامت کرائی۔ اس مسجد اور اس میں نمازیوں کی کم تعداد کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ مسجد کم از کم اپنی عمارت اور اراکین کی تعداد کے اعتبار سے اوسلو میں انتہائی نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہاں نماز مغرب سے فارغ ہو کرمیں چند سو میٹر کے فاصلہ پر ایک دوسری مسجد گیا۔ وہاں کی گہما گہمی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہاں تین سو کے لگ بھگ مرد و خواتین اور نوجوان بچے موجود تھے۔

ایک مسجد میں مجھے دو تین بار جانے کا موقع ملا۔ وہاں رمضان میں ہر شام تین سو سے زائد افراد کو مکمل افطاری فراہم کی گئی۔ جبکہ ایک اور مسجد میں صرف پانی اور کھجور سے افطار کیا گیا۔ کچھ جگہوں پر کھانے کے انتظامات عطیہ دہندگان کے نام جا ہ و جلال کے ساتھ اعلان کیے گئے، جبکہ دیگر میں یہ عطیات گمنام رکھے گئے۔

افطاری کے بارہ میں ایک اور مشاہدہ دلچسپی کا باعث تھا۔ بڑی تعداد میں لوگوں کو افطاری کا کھانا دینا ایک بڑا انتظامی پراجیکٹ ہوتا ہے۔ افطاری اور مغرب کے نماز کے درمیان محدود وقت ہوتا ہے۔  اس محدود وقت میں کھانا دینا اور تنظیم کے ساتھ کھانے اور نماز کا انتظام کرنا بڑی مہارت کا کام ہے۔ اس سلسلہ میں بھی مساجد کے مابین بہت فرق پایا گیا۔ ایک مسجد میں انتہائی منظم طریقے سے افطاری کے لیے پلاسٹک کے دستر خوان بچھائے جاتے تھے اور کھجوروں، پکوڑوں اور فروٹ چاٹ سے روزہ افطار کرنےکے فوراً بعد دسترخوانوں کو ہٹا کر نمازیوں کے لیے جگہ بنا دی جاتی تھی۔ بعد از نماز مغرب یہ دستر خوان نئے سرے سے انتہائی ترتیب اور اہتمام سے کھانے کے لیے بچھائےجاتے۔ رضاکارمؤثر طریقے سے کھانے کی سروس اور صفائی کا انتظام کرتے۔ حتیٰ کہ کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے لیے واضح ہدایات بھی دی جاتیں۔ دوسری جانب ایک مسجد میں انتطامی امور سے ناواقفیت اتنی ناقص تھی کہ لسّی سے بھرا پلاسٹک کا گلاس جب لڑھک گیا اور لسّی انتہائی عمدہ قالین پر گری تو یار لوگ پکارتے ہی رہے اور جاذبی کاغذ یا تولیہ کی غیر موجودگی میں لسّی قالین میں دھنس گئی۔

مساجد میں خواتین کے کردار اور ان کی جگہ کے بارہ میں بھی نمایاں فرق دیکھنے کو ملا۔ ایک مسجد میں خواتین کو مغرب کی نماز اور افطار میں شرکت پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک بابا جی کو جب پتہ چلا کہ چند خواتین بھی مسجد میں آ گئی ہیں اور پوچھ رہی ہیں کہ نماز کہاں ادا کریں تو انہوں نے پوری مسجد کو سر پر اٹھا لیا۔ انہیں نے خواتین کو بہت جلی کٹی سنائیں۔ جب میں نے انہیں بڑے ادب سے گزارش کی کہ وہ اللہ کی بندیاں ہیں اور اللہ کے گھر میں آ گئی ہیں تو انہیں نماز کی جگہ بتا دیں۔ اس پر ان کا جواب تھا کہ کیا اب میں ان کے لیے اپنی نماز بھی برباد کر لوں؟

اس کے برعکس ایک اور مسجد میں جب ایک مقرر نے مائیکروفون استعمال کیے بغیر گفتگو شروع کی تو ایک نمازی نے اس پر احتجاج کیا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اس طرح دوسری منزل پر بیٹھی خواتین منبر پر کی گئی بات نہیں سن سکتیں۔ یہ ان کی حق تلفی اور تحقیرہے۔

مخلتف مساجد میں فروعی سے فقہی اختلافات بھی واضح تھے۔ حتیٰ کہ ایک ہی فقہ کے ماننے والوں میں بھی روایت کا فرق دیکھا گیا۔ مثلا منبرکے استعمال کے طریقے میں فرق دیکھا گیا۔ کئی سنی مساجد میں امام احتراماً منبر پر نہیں بیٹھے اور جہاں بیٹھے ہیں، وہاں وہ دوسرے زینہ سے آگے بڑھنے سے احتراز کرتے ہیں۔ میرے استفسار پر دو اماموں نے وضاحت کی کہ منبر کے سب سے بلند زینہ پر بیٹھنے کا حق صرف رسول اللہ ﷺ کو حاصل تھا اور سیدنا ابوکر اور سیدنا عمر تک نے تیسرے زینہ پر بیٹھنے سے اسی وجہ سے انکار کیا تھا۔ لیکن ایک سنی مسجد میں امام نے منبر کے سب سے اوپر والے زینہ پر بیٹھ کر جمعہ کا خطبہ دیا۔ بعد ازاں جب میں نے ان سے اس کا پس منظر پوچھا تو عین واضح تھا کہ انہیں اس کا علم ہی نہ تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ جہاں دیگر آئمہ انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں ایک امام بلا سوچے سمجھے تیسرے زینہ پر خطبہ دیتا ہے اور اسے اس کی وجہ بھی معلوم نہیں۔ شیعہ مساجد میں خطیب باقاعدہ طور پر منبر کی سب سے اونچی سیڑھی پر بیٹھتے ہیں۔

اذان، جماعت اور افطار کی ترتیب بھی مختلف نظر میں آئی۔ زیادہ تر مساجد میں پہلے اذان دی گئی اور پھر افطار کے طور پر کھجور یا ہلکی غذا کھانے کے بعد نماز ادا کی گئی۔ اور پھر کھانے کا اہتمام ہوا۔ لیکن کچھ جگہوں پر افطار کے فوراً بعد کھانے کی تقسیم شروع کر دی گئی اور اذان و نماز آخر میں ہوئی۔

مائیکروفون جو کبھی کفر کی علامت ہوا تھا فی زمانہ مساجد میں بے تحاشہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کے استعمال میں بھی فرق دیکھا گیا۔ کچھ مساجد میں سو سے زائد افراد کی موجودگی کے باوجود اذان بغیر مائیکروفون اور صوتی نظام کے دی گئی جبکہ کچھ جگہوں پر چند نمازیوں کے باوجود مائیکروفون کا استعمال کیا گیا۔

میں نے ان مشاہدات سے سیکھا ہے کہ اسلام کی عملی شکل اجمالی طور پر تو اجتماعی ہے لیکن انفرادی اور گروہی طور پر اس میں فرق ہے۔ اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت انسانوں اور ان کے باہمی اور سماجی تعلقات کی ہے، نہ کہ بلند و بالا اور مزین عمارات اور سہولیات کی۔ یہ ضروری نہیں کہ بڑی اور خوبصورت مساجد سب سے زیادہ آباد ہوں۔ اصل چیز اہل قیادت ہے جو اچھے تعلقات استوار کرے اور ایک جامع ماحول پیدا کرے۔

بہت سی مساجد اب بھی ایسی جگہوں پر قائم ہیں جو پہلے گیراج، دکانیں یا صنعتی عمارتیں تھیں۔ لیکن وہاں کے منتظمین نے وسائل کو میناروں اور سجاوٹ پر خرچ کرنے کے بجائے بچوں، خواتین اور مردوں کے لیے سرگرمیوں پر لگایا۔ وسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں اور ان کا درست تر استعمال منتظمین کی ذمہ داری ہے۔ یہ منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی عظیم الشان مساجد تعمیر کرنے کی بجائے کی وسائل پر خرچ کریں۔