فوج اور عوام میں فاصلہ کی وجوہات

آج کل ہمارے علاقے بھمبر اور دوسرے کئی چھوٹے شہروں میں شہدا کی قربانیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ریلیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں چند سرکاری لوگ اور کچھ شہدا کے لواحقین شامل ہوتے ہیں۔

اس کی ضرورت کیوں کر محسوس ہوئی ہے؟ کیا کوئی ایسا بھی پاکستانی ہے جو اپنے شہدا کی قربانیوں کی قدر نہیں کرتا ہے؟ شہدا تو ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ شہدا کی قربانیوں سے ہی قوم کی حیات ہے تو پھر ریلیوں کے ذریعے شہدا کی تکریم کروانے کی ضرورت کیا ہے۔ البتہ فوجی قیادت سے کچھ لوگ نالاں ہو سکتے ہیں۔ انہیں اعتماد میں لینے کے لیے فوجی قیادت کو عملی طور پر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے عام لوگوں کو اعتبار آ جائے کہ پاک فوج کسی سیاسی گروہ یا کسی علاقے کی نمائندگی نہیں کرتی۔ بلکہ یہ فوج پاکستان کی فوج ہے جس کا کام صرف وطن کا دفاع ہے۔

1971 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ہر گاوں سے لوگ کھانے بنا کر اپنے فوجیوں کے لیے سرحدوں پر لے جاتے تھے اور ساتھ پیشکش کرتے تھے کہ ہم فوج کے شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں چھوٹا تھا اور ضد کر کے اپنے والد صاحب کے ساتھ فوجیوں کو کھانا دینے ساتھ چلا گیا۔ اس دن سرحد کی بجائے چھمب بارڈر سے 18 کلومیٹر دور کڈھالہ سے کچھ آگے پاک فوج کے کچھ لوگ شہدا کے جسد خاکی لے کر آئے ہوئے تھے۔ جنہیں بطور امانت دفن کرنا ہوتا تھا. وہی بہت زیادہ سولین لوگ جمع تھے جو زبردستی فوج کے ساتھ جنگ میں حصہ لینے جانا چاہتے تھے۔ وہاں ایک فوجی افسر نے خطاب کیا تھا جس میں اس نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ کی یہ والہانہ محبت ہمارا حوصلہ ہے۔ ہم غیر تربیت یافتہ لوگوں کو دشمن کے مقابلے میں لے جا کر شہید نہیں کروانا چاہتے۔ آپ دعا کریں آپ کی فوج چھمب کی سرحد پر دشمن کو شکست فاش دے گی۔ اس نے کھانے پہنچانے پر عوام کا شکریہ ادا کیا اور یہ بھی کہا کہ ہم بھوکے رہ کر بھی دشمن کا مقابلہ کریں گے۔

اس سے پہلے 1965 کی جنگ میں بھی صرف فوج نہیں لڑی تھی بلکہ پورا مغربی َور مشرقی پاکستان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گیا تھا۔ 1971 میں گو کہ ہم اپنی غلطیوں سے جنگ ہار گئے تھے لیکن چھمب سمیت بہت سارے محاذوں پر پاک فوج فاتح رہی تھی۔ اس تمہید کا مطلب یہ ہے کہ پاک فوج اور پاک عوام ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ پاکستان میں جتنے قدرتی طوفان آئے پاک فوج نے عوام کے لیے سب سے زیادہ کام کیا اور اپنی جانوں پر کھیل کر عوام کی جانیں بچائیں۔ اور اب ایک یہ وقت ہے کہ شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہمیں سرکاری سطح پر اتنی چھوٹی چھوٹی ریلیوں کی ضرورت پیش آ گئی ہے، کیوں؟ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے بھی متعدد بار پریس کانفرنس کر کے عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے۔ مگر بظاہر فوج اور عوام میں خلیج بڑھتی جا رہی ہے تو پھر کیوں نہ ان وجوہات کو تلاش کیا جائے جو اس لازوال سمجھے جانے والے رشتے کو کمزور کر رہی ہیں؟

اس سلسلے کا پہلا سوال یہ ہے کہ 65 اور 71 کی جنگوں کے بعد فوج کو کس جنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں شہادتیں ہوئی ہیں؟ 80 کے آواخر سے 90 کی دہائی میں کشمیر کی سرحد پر بھارتی فوج کی گولہ باری ہوتی رہی جس میں زیادہ سویلین کو نقصان پہنچا تھا۔ لیکن ظاہر ہے کہ پاک فوج ہی بھارتی جارحیت کے خلاف لڑ رہی تھی تو فوجیوں نے بھی جام شہادت نوش کیے لیکن یہ جو مغربی محاذ پر پچھلے 24 برس سے جنگ جاری ہے اور دونوں طرف کلمہ گو لڑ رہے ہیں اس جنگ کی نوبت کس وجہ سے آئی تھی؟ امریکہ سوویت جنگ میں ہمیں کس نے دھکیلا، جس کی وجہ سے پاکستان کو 25 لاکھ مہاجرین کے دباو اور بیسیوں ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا؟

پھر امریکہ افغان جنگ یا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کودنے کی ہمیں ضرورت کیا تھی؟ اگر امریکہ ہمیں زبردستی اس جنگ میں لے گیا تھا تو کہیں نہ کہیں ہمارا کوئی عمل دخل رہا ہوگا۔ ورنہ امریکہ نے ایران یا ازبکستان کو کیوں زبردستی جنگ میں نہیں کھینچا تھا؟ دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ عوام اور فوج کے درمیان دوری پیدا کرنے میں سیاستدانوں کا جو ہاتھ ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو معزول کر کے مارشل لا لگانے سے سیاسی معاملات میں شروع ہونے والی فوجی مداخلت ابھی تک جاری ہے۔ ہماری فوجی قیادت پہلے خود سیاسی لیڈر بناتی ہے، انہیں انتخابات میں زبردستی جتوایا جاتا ہے، پھر انہی کے خلاف بدعنوانیوں اور غداری کے الزامات لگا کر انہیں اقتدار سے باہر کیا جاتا ہے۔ بعد میں انہی کو ڈیٹول سے غسل دے کر پاک صاف کر کے واپس لایا جاتا ہے۔

 ایک جماعت کی قیادت پر بدعنوانی کے مقدمات قائم ہوتے ہیں، عدالتوں کے وقت کے علاوہ ریاستی وسائل کا ضیاع ہوتا ہے اور کچھ برس بعد تمام مقدمات ختم اور وہی لوگ جیلوں اور جلاوطنی سے نکل کر سیدھے مسند اقتدار پر ہوتے ہیں۔ اور جو بھی سیاستدان یا جماعت اقتدار بدر ہوتے ہیں وہ براہ راست اپنی انگلی راولپنڈی کی طرف کر کے اشارے کرتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ اسی طرح انتخابات میں ہار جانے والوں کا رونا بھی یہی ہوتا ہے کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ نے شکست سے دوچار کیا ہے۔ 2024 کے انتخابات تک کون سا انتخاب ایسا ہوا جو متنازعہ نہیں تھا؟ 18 اور 24 کے انتخابات میں تو بہت کچھ واضح ہو گیا کہ ہماری سیاست کی باگ ڈور کہاں ہے۔

جب آپ عوام کو اس حد تک بے دست و پا کر دیں گے تو پھر عوام کا آپ پر اعتماد کیوں کر رہے گا؟ اس وقت جو لیڈر عوام میں مقبول ہے اور جس پر 9 مئی کی کارروائیوں کا الزام ہے، اسے اقتدار میں کون لایا تھا۔ یہ کوئی راز نہیں ہے، پھر اس کے خلاف عدم اعتماد کیسے کامیاب ہوا، یہ بھی سب پر عیاں ہے، اور پھر اس کے خلاف تمام تر سختیوں اور پابندیوں کے باوجود عوام نے اسے اکثریت دی، اس اکثریت کو اقلیت میں کیسے بدلا گیا، یہ بچہ بچہ جانتا ہے۔ فوجی قیادت کو شہدا کے پیچھے چھپنے کی بجائے سامنے آ کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے سیاست سے دور رہنے اور اپنی ساری توجہ ملکی دفاع پر مرکوز کر کے عوام کے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔ اس کے بعد عوام خود فوج کی عزت بھی کریں گے اور ہر محاذ پر فوج کے شانہ بشانہ ہوں گے۔