آربائیدر پارٹی کے کنونشن میں جیت کا ولولہ
- تحریر خالد محمود اوسلو
- بدھ 09 / اپریل / 2025
پانچ اپریل کو اختتام پذیر ہونے والے نارویجن آربائیدر پارٹی کے سہ روزہ قومی کنونشن میں بطور مندوب شرکت کرتے ہوئے محسوس ہوا کہ پارٹی ستمبر میں ہونے والےانتخابات میں اپنی فتح کی خود اعتمادی سے سرشار ہے۔
اس کی ایک وجہ تو بظاہر مختلف رائے عامہ کے جائزے ہیں جو تسلسل کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ لیکن اس کی بڑی وجہ اس کنونشن میں شرکا کی طرف سے اپنے اپنے علاقوں میں عوامی حمایت و وابستگی میں اضافہ کے ملنے والےاشاروں میں ایک دوسرے کو شریک کرنا بھی ہے۔ عوامی سطح پہ کام کرنے والے پارٹی کارکن عوامی سیاسی رجحانات کو قائدین تک پہنچانے کا اہم ذریعہ بنتے ہیں جس سے حکومت عوامی مسائل سے ہمہ وقت آگاہ رہتی ہے۔ یہی نارویجن جمہوریت کا سب سے طاقتور عنصر ہے جس سے حکومت عوامی رجحانات سے کبھی بے خبر نہیں ہوتی۔
یہی چیز مقامی سطح کےمنتخب پارٹی اراکین کو ناقابل تلافی بناتی ہے۔ کیونکہ عوام سے رابطے میں رہتے ہوئے وہ ہمہ وقت عوامی مسائل سے آگاہ اور سیاسی رجحانات کے تغیر کو بروقت محسوس کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے گوش گزار کرتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر پارٹی عوامی مسائل کے حل کو مد نظر رکھ کر اپنی پالیسی کو مرتب کرتی رہتی ہے۔ اس طرح پارٹی کو عوامی رائے دہندگان کی توجہ حاصل رہتی ہے۔ آربائیدر پارٹی کے کنونشن کے دوران سب سے زیادہ وقت ملک بھر سے آئے ہوئے مندوبین کی تقاریر کے لیے مقرر ہوتا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ مشاہدہ کیا اور پہلے بھی ایسے کنونشنوں میں دیکھتا آیا ہوں کہ مندوبین کی تقاریر کا محور عوامی مسائل ہوتے ہیں۔ شاید ہی کسی نے اپنی تقریر میں پارٹی کے قائدین کی ذات کے بارے کوئی خوشامدی یا تعریفی کلمات پہ زور دیا ہو بلکہ ہر کوئی اپنے نقطہ نظر سے پارٹی کی مستقبل کی پالیسیوں کو ترتیب دینے اور ماضی کے کیے ہوئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیتے رہے۔
اسی دوران سب سے زیادہ متاثر کن بات یہ دیکھنے کو ملتی ہے کہ پارٹی سربراہ اور اس کے نائبین ہمہ وقت ان تقاریر کے دوران اپنی نشستوں پر برجمان بڑے انہماک کے ساتھ ادنیٰ سے ادنیٰ کارکن کی تقریر کو سن رہے تھے اور ساتھ ساتھ اُٹھائے جانے والے نکات کو نوٹ بھی کر رہے تھے۔ ہر دن کے اجلاس کے اختتام پر ساری بحث کو سمیٹتے وقت تقریباً ہر مقرر کی طرف سے اُٹھائے گئے نکات کے بارے رائے بھی دے رہے تھے۔ اور اگر کسی مقرر نے کوئی سوال کیا ہو تو اس کا جواب بھی دے رہے تھے۔ یہ ساری مشق دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نارویجن جمہوریت صرف ملکی نظام کا ہی حصہ نہیں بلکہ سیاسی پارٹیوں کا تنظیمی ڈھانچہ بھی جمہوری روایات کے تابع ہے جس پر سختی سے عمل کرتے ہوئے پارٹی قیادت اپنے آپ کو عام اراکین کے سامنے جوابدہ سمجھتی ہے۔ اس مشق کو دیکھ کرآسانی سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے قومی سیاست میں عوامی مسائل کی عکاسی ہوتی ہے۔
میں نے کیونکہ عملی سیاست سے دستبرداری حاصل کر رکھی ہے تو اس دفعہ کافی عرصہ کے بعد بطور مندوب پارٹی کے قومی کنونشن کا حصہ بنا۔ اتنے عرصہ کے بعد سب سے زیادہ خوشگوار حیرت یہ تھی کہ پارٹی کی سرکردہ قیادت میں کس قدر تجدید ہو چکی ہے۔ آج سے دس سال پہلے پارٹی کی نوجوان اور یوتھ ونگ کی نمائندگی کرنے والے، باغیانہ پالیسی اور بے باکی کے علمبردار پختہ سوچ کے ساتھ پارٹی کی باگ ڈورسنبھال چکے ہیں۔ جس کی مثال یہ ہے کہ اس وقت نارویجن کابینہ کے صرف تین وزرا کی عمر ساٹھ سال سے اوپر ہے جبکہ آٹھ وزرا چالیس سال سے کم اور بقیہ چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہیں۔ پارٹی کے دونوں نائب صدور بھی چالیس سال سے کم عمر کے ہیں۔ جس سے پارٹی کی نئی اُبھرتی قیادت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ تقریباً تمام نئے وزرا اور پارلیمنٹ ممبران میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کے والدین یا عزیزواقارب ان عہدوں پر فائز رہے ہوں جو میرٹ کی طرف اشارہ ہے۔ اور ہر نیا آنے والا اپنے نسب کی بجائے اپنی قابلیت و صلاحیت کی بنیاد پر ہی اپنا مقام بناتاہے۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہر قائد اپنی خدمات پیش کرنے کے بعد بڑے سکون کے ساتھ کنارہ کش ہو کر نئے آنے والوں کے لیے جگہ خالی کر دیتا ہے۔ جس سے نارویجن معاشرے اور سیاسی پارٹیوں کے اندر جمہوریت مسلسل پروان چڑھ رہی ہے۔
اسی طرح کنونشن شرکا کی بڑی تعداد کا کثیرالثقافتی پس منظر رکھنا پارٹی میں معاشرے کی تکثیریت کی عکاسی ہے۔کنونشن میں شرکاکے جذبہ و ولولہ کے ساتھ سب سےبڑھ کر جمہوریت پر یقین اور اس کے ثمرات پہ غیر متزلزل اعتقاد ملکی نظام کی پائندگی کا عندیہ ہے، جو اس نارویجن اصول پہ قائم ہے کہ اپنا حق لینے کے لیے اپنا فرض نبھاؤ۔