فلسطین کے لیے ’جہاد‘ کا فتویٰ اور امن کی تلقین

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی  ’قومی فلسطین کانفرنس‘ کے شرکا نے ایک اعلامیہ میں فتویٰ جاری کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی  مظالم کے بعد’  شرعاً الاقرب فی الاقرب کے اصول کے تحت تمام مسلمانوں پر جہاد واجب ہوچکا ہے‘۔ اس موقع پر اس  ’متفقہ‘ فتویٰ کی روشنی میں خطاب کرتے ہوئے مفتی  تقی عثمانی نے سوال کیا کہ مسلم ممالک کی فوجیں اور اسلحہ کس کام کے ہیں،  اگر وہ مسلمانوں کو اس ظلم وستم سے نجات نہیں دلاسکتے۔

مفتی تقی عثمانی کے علاوہ مولانا فضل الرحمان، مفتی منیب الرحمان اور  مختلف گروہوں  و جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے متعدد لوگوں نے اس موقع پر پرجوش تقریرں کیں اور  عوام کو جہاد کے فضائل سے آگاہ کیا۔ اور واضح کیا کہ اس کانفرنس کے متفقہ اعلامیہ اور فتویٰ کے بعد اب  تمام مسلمان ملکوں پر فرض ہوگیا ہے کہ وہ  اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کریں۔   جیسا  کہ پاکستانی دینی رہنماؤں کا وتیرہ ہے کہ تقریر کرتے ہوئے لوگوں کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے اور کسی دلیل یا حجت سے معاملہ فہمی کا کوئی نکتہ سننے میں  نہیں آتا۔ اس کانفرنس میں تقریر کرنے والے سارے بڑے چھوٹے  علما کو یقین ہوگا کہ ان کی باتیں نہ اسرائیلی مظالم ختم کرسکتی ہیں اور نہ  ہی اس سے غزہ یا فلسطین کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ البتہ  اپنی سیاست کو زندہ رکھنے اور خود کو پاکستانی عوام کا  ’حقیقی رہنما‘ ثابت کرنے کے لیے، مختلف  مسالک اور نقطہ نظر  سے تعلق رکھنے والے یہ سارے ملا ’متفق ‘تھے ۔  کیوں کہ اسی طرح وہ اپنا اثر و رسوخ قائم رکھ سکتے ہیں۔

اس کانفرنس کے مقررین نے   اس بات پر زور بیان صرف کیا کہ اب علما کا متفقہ فتویٰ آچکا ہے اور تمام مسلمان حکومتیں اس پر عمل کرنے کی پابند ہیں۔   کانفرنس کے اعلامیہ میں جہاد کا فتویٰ ایک فقرے میں بیان کیا گیا ہے جبکہ باقی ’تفصیلات‘ ان پرجوش تقاریر میں  موجود ہیں جو اس موقع پر ارزاں کی گئیں۔   فتویٰ جاری کرنے اور تقریروں میں اسے نافذ کرنے کا حکم دینے والے سب علما ، دین کے ماہر  کہلاتے ہیں اور دینی  امور میں عوام کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ البتہ ان میں کسی عالم دین نے بھی اس موقع پر یہ سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ کیا اسرائیل کے خلاف عسکری جہاد  کا فتویٰ جاری کرتے ہوئے ان علمائے کرام نے فتویٰ کی بنیادی شرائط کو پورا کیا ہے۔  عام مسلمان بھی یہ جانتا ہے کہ کسی عالم دین کا  لکھا یا کہا ہؤا کوئی فقرہ فتویٰ نہیں ہوسکتا۔ فتویٰ خواہ ایک عالم دے یا متعدد علما اسے مل کر جاری کریں،  اسے کسی قانونی دستاویز کی صورت میں  سامنے آنا چاہئے۔ اس دستاویز میں متعلقہ سوال کی نوعیت سے بحث کرنے کے بعد    شرعی احکامات،  قرآنی احکامات اور احادیث کی روشنی میں مثالیں دے کر واضح کرنا چاہئے کہ اس سوال کی روشنی میں کس قسم کا اقدام ضروری ہوجاتا ہے۔   فلسطین کانفرنس میں دھؤاں دار تقریریں کرنے والے  مولویوں کو سب سے پہلے خود ہی یہ غور کرنا چاہئے کہ کیا انہوں نے فتویٰ جاری کرنے کی یہ بنیادی شرط پوری کی ہے؟

کانفرنس کے دورا ن یا اس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں اسرائیل کے خلاف جہاد کے فتویٰ کی کوئی باقاعدہ دستاویز سامنے نہیں لائی گئی۔ نہ ہی یہ بتانے کی زحمت کی گئی ہے کہ کون کون سے علما اس فتویٰ  پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے اور  کس نے کیا دلیل دی۔   کیا یہ دلائل متفقہ تھے یا مختلف الخیال  علما نے اس موضوع پر اپنی دینی رائے دیتے ہوئے کسی اختلاف کا اظہار بھی کیا۔  یہ دلائل اور ان میں اختلاف کی نوعیت کیا تھی اور اس اتفاق رائے پر پہنچنے کا فیصلہ کیسے  اور کیوں کر کیا گیا؟  ان سوالوں کے جواب موجود نہیں ہیں۔ علمائے کرام پرجوش تقریریں کرنے کے بعد اب اپنے عشرت کدوں میں محو استراحت ہوں گے۔ لیکن  کوئی ان سوالوں کا جواب دینے کے لیے موجود نہیں ہے جو  کانفرنس کے  اعلامیے میں جاری کیے گئے نام نہاد فتویٰ اور ان علمائے کرام کی تقاریر   سے سامنے آتے ہیں۔ ان سوالوں میں چند بنیادی سوال یہ ہیں:

اوّل: کیا ایک مسلمان آبادی والے ملک میں جہاں  مسلمان حکومت کام کررہی ہے اور اسلامی آئین کے تحت نظم حکومت  چلایا جارہا ہے، کسی باقاعدہ  استفسار کے بغیر ملک کے علما کو   ’فلسطین کے لیے جہاد‘ کا فتویٰ دینے کا خیال  کیوں آیا۔

دوئم:  کیا حکومت نے اس معاملہ پر کسی پریشانی یا بے چینی کا اظہار کیا  تھا اور  ملک کے علما سے  اس بے چینی کو دور کرنے کے لیے دینی رائے   کے لیے استفسار کیا گیا تھا؟ کیا  علمائے کرام نے یہ غور کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ ملک کے آئین کے تحت قائم اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کو بھی اس مشاورت میں شامل کرلیا جائے تاکہ   اجماع  کی دینی شرط  پوری ہوجائے۔

سوئم: اگر  عملی جہاد فرض ہوچکاہے  اور تمام  مسلمانوں اور اسلامی فوجوں  کو اس فتویٰ پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف مسلح جنگ کا آغاز کرنا چاہئے تو  کیا  اس  فتویٰ میں اس طریقہ کار کی وضاحت فرما دی گئی ہے جس کے تحت انفرادی مسلمان اور حکومتیں اور منظم افواج اس جہاد کا آغاز کریں اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔

چہارم: تقریروں میں اسرائیل کو نیست و نابود کرنے اور  اعلامیہ میں جہاد کا فتوی  جاری کرنے  کے سوا صرف یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ’فلسطین کے معاملے میں کوئی معاہدہ اس جہاد میں شرکت سے مانع نہیں ہے ۔البتہ فلسطین کے نام پر اپنی حکومتوں کے خلاف مسلح جدو جہد یا ایسی کارروائیاں جائز نہیں ہوں گی۔ سلامتی کونسل کا فوری اجلاس طلب کیا جائے اور پاکستان اس میں پہل کرے‘۔ ان  نکات میں جو تجاویز دی گئی ہیں ، وہ تو براہ راست جہاد کے فتویٰ کو مسترد کرتی محسوس ہوتی ہیں اور مقررین کے ارشادات کی  بھی نفی کرتی ہیں۔ اعلامیہ سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی بات کررہا ہے جبکہ علما اسرائیل کے خلاف چڑھ دوڑنے کا حکم صادر کررہے ہیں۔   تقریروں میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اسرائیل اور امریکہ کی غلام بنی ہوئی ہے اور ساتھ ہی اسی کے ایک  ادارے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔کیا علمائے کرام غور  فرمائیں گے کہ یہ الجھن  صرف اس لیے پیدا ہورہی ہے کیوں کہ انہوں نے دینی   شرائط کے مطابق  فتویٰ جاری کرنے کی بجائے ،  ذاتی ضرورتوں اور سیاسی خواہشات کو فتویٰ کا نام دیا ہے۔ اسی لیے فتویٰ دینے کے لیے مقرر ہ طریقہ کار  پر بھی عمل نہیں ہؤا۔

پنجم:   کسی دینی معاملہ پر فتویٰ کسی دارلافتا یا کسی مفتی صاحب کی طرف سے  تحریری طور پر جاری ہوسکتا ہے۔ لیکن دنیا کے حساس ترین اور مشکل سیاسی مسئلہ  پر فتویٰ جاری کرنے کے لیے چند علما کی تقریروں کو کافی سمجھا جارہا ہے۔

فتویٰ دینے کاطریقہ، وجہ اور حجت سے قطع نظر  یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ اسرائیل فلسطین تنازعہ پاکستانی حدود میں وقوع پزیر نہیں ہورہا۔ نہ پاکستان کی سرحدیں فلسطین یا اسرائیل کے ساتھ ملتی ہیں۔  ایسے میں پاکستانی علمائے کرام کو اس اہم معاملہ پر  کوئی حکم جاری کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ پاکستانی علما کی فہم دین کو پاکستانی حکومت یا خود علمائے کرام کیوں کر دنیا بھر کے مسلمان ملکوں پر  نافذ کریں گے؟ یوں بھی  کسی اہم مسئلہ پر اجماع   کا مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے  جب   کل عالم اسلام کے علمائے کرام اور مفتیوں کی واضح اکثریت کسی ایک نکتہ پر متفق ہوجائے۔ کیا فلسطین کے لیے جہاد کا فتویٰ جاری کرتے ہوئے پاکستانی علما نے( جن میں سے ایک خود کو سیاست کا  ’بادشاہ گر‘ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور دوسرے خود کو ’مفتی اعظم ‘ُ کہلا کر اتراتے ہیں)کسی بھی دوسرے ملک کے علما سے رابطہ کرکے انہیں بھی اس فتویٰ پر اتفاق کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش  کی؟ دریں حالات حقیقت احوال تو یہی ہے کہ  اگر پاکستان کے  سارے علما یا دین کی فہم رکھنے والے مفتی مل کر بھی کوئی رائے دیں اور اسے فتویٰ قرار دیں تو بھی  ان کے پاس اس رائے کو ملکی حدود سے باہر نافذ کرنے کا  اختیار نہیں ہے۔  نہ وہ اسے اجماع ملت کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔ پاکستانی لوگوں کو ’مسلم امتہ ‘ قرار دیناشدید غلطی ہوگی۔  پاکستان کی آبادی 24 کروڑ ہے جبکہ دنیا  میں مسلمانوں کی کل آبادی دو ارب سے کچھ کم ہے۔ یہ مسلمان 50 سے زائد مختلف ممالک میں آباد ہیں۔

فلسطین کانفرنس کے اعلامیہ میں  اسرائیل کے ساتھ  سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک کے ساتھ غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی تک تعلقات منقطع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ 2023 کے آخر تک اقوام متحدہ کے 193 ممالک میں سے 164 رکن  ممالک اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرچکے تھے۔ ان میں پانچ مسلمان ممالک بھی شامل ہیں۔ ان پانچ میں سے ایک متحدہ عرب امارات ہے  جہاں ہمارے متعدد علمائے کرام آرام و تفریح کے لیے فروکش ہونا پسند بھی فرماتے ہیں۔ کیا  کانفرنس میں شریک ہونے والے علما بنفیس نفیس یہ اعلان کرسکتے ہیں کہ وہ ذاتی حیثیت میں ایسے کسی ملک کے ساتھ تعلق نہیں رکھیں گےجو اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے۔ ایسی صورت میں مغربی ممالک میں ان علما کے اہل خاندان ، بچوں اور  اثاثوں کا کیا بنے گا؟ شاید فاضل علمائے کرام نے جوش خطابت میں اس حساسیت  پر غور نہیں فرمایا۔ یا افغان جہاد کے فتوؤں کی طرح فلسطین میں جہاد کا فتویٰ بھی صرف غریب عوام کے بچوں کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں فلسطین کانفرنس کے نام سے علمائے کرام کا اجتماع ایک ایسے موقع  پر منعقد ہؤا ہے جب  دین کا  لبادہ اوڑھے ایک سیاسی جماعت کے کارکن ملک کے مختلف شہروں میں   فوڈ کی عالمی چینز  پر حملے کرنے میں ملوث ہیں۔ گو کہ اعلامیہ میں بالواسطہ طور سے پرامن احتجاج کی تلقین کی گئی ہے لیکن مفتی تقی عثمانی اور مولانا فضل الرحمان کو بتانا چاہئے کہ آگ پر تیل چھڑکنے کے بعد شعلے بھڑکیں گے یا پھول کھلیں گے؟