ایران کے متنازع ایٹمی پروگرام پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات
ایران کے جوہری پروگرام پر اس کے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات ہفتہ 12 اپریل کو عمان میں شروع ہونے جا رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران نے جمعے کو کہا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر ’حقیقی اور منصفانہ‘ معاہدہ چاہتا ہے۔ جب کہ امریکہ نے ان انتہائی اہم مذاکرات سے قبل لچک دکھانے کا عندیہ دیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ تہران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سات مارچ کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ایٹمی معاملے پر مذاکرات پر زور دیا گیا ہے۔ تہران نے اسی ماہ کے آخر میں اس خط کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے متضاد اور معاندانہ رویے کے باعث وہ واشنگٹن کے ساتھ براہ راست بات چیت مسترد کرتے ہیں لیکن بالواسطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’صرف دکھاوا کرنے اور کیمروں کے سامنے باتیں کرنے کی بجائے، تہران ایک حقیقی اور منصفانہ معاہدے کا خواہاں ہے، اہم اور قابلِ عمل تجاویز تیار ہیں۔‘
انہوں نے تصدیق کی کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ’امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے لیے مکمل اختیار کے ساتھ عمان جا رہے ہیں۔‘ اگر واشنگٹن نیک نیتی کا مظاہرہ کرے تو آگے کا راستہ ’ہموار‘ ہو سکتا ہے۔ مذاکرات سے قبل ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے سخت خلاف ہیں۔
ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ایران شاندار، عظیم اور خوشحال ملک ہو۔ لیکن وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ یہ بات انہوں نے اُس وقت کہی جب ان کے نمائندے سٹیو وٹکوف کی عباس عراقچی سے ملاقات چند گھنٹوں بعد متوقع تھی۔ وٹکوف ٹرمپ کے قریبی دوست ہیں اور اُن کے عالمی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مذاکرات سے قبل لچک کا عندیہ دیا۔
وٹکوف نے دا وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ’ہمارا آج کا مؤقف‘ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرے۔ یہ وہ مؤقف ہے جو ٹرمپ کے گرد موجود سخت گیر عناصر رکھتے ہیں۔ اور جسے قبول کرنے کی توقع ایران سے بہت کم کی جاتی ہے۔ وٹکوف نے مزید کہا کہ ’اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی نہ کسی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتے کے دوسرے راستے تلاش نہیں کریں گے۔‘ ہماری سرخ لکیر یہ ہے کہ آپ اپنی جوہری صلاحیت کو ہتھیار بنانے کی طرف نہیں لے جا سکتے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے 2015 میں ایک معاہدہ کیا جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔ ٹرمپ نے اس معاہدے کو ناقص قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ اور امریکہ کو اس سے الگ کرتے ہوئے ایران کے تیل کے شعبے پر وسیع پابندیاں عائد کر دیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق مشرق وسطیٰ کے جغرافیے اور سیاست سے جڑے کچھ انتہائی اہم معاملات پر ایک بار پھر بحث اس پرسکون ساحلی شہر میں ہوگی جہاں فلک بوس عمارتیں نہیں ہیں۔ مسقط میں، جو عمان کا دارالحکومت ہے اور سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے، ایران اور امریکہ تہران کے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام پر مذاکرات کریں گے۔
کسی فوری معاہدے کا امکان تو نہیں لیکن ان مذاکرات کی اہمیت ان دونوں ممالک کے لیے کسی طور کم نہیں جو نصف صدی سے دشمنی کی راہ پر گامزن ہیں۔
ٹرمپ بارہا دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے شروع کر سکتے ہیں۔
اس سے قبل ایران کے ترجمان عراقچی نے بتایا کہ عمان ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران، عمان پر اس کے ماضی کے سفارتی کردار کے سبب اعتماد کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اس بات چیت کے ذریعے مسئلے کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے مخلصانہ خواہش کا مظاہرہ کرے گا۔