ایران امریکہ مذاکرات کا مثبت آغاز

آٹھ سال کے وقفہ کے بعد   امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا آغاز ہؤا ہے تاکہ ایران کے جوہری  پروگرام  پر پابندی کے حوالے سے کسی نتیجہ پر پہنچا جاسکے۔  امریکی صدر ڈونلڈ  ٹرمپ نے  گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے ذریعے  ایرا ن کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ایک خط میں مذاکرات کی دعوت دی تھی تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ ختم ہوسکے۔ ایران نے اس خط کے جواب میں بالواسطہ مذاکرات کی دعوت قبول کی تھی۔

آج عمان  میں عمانی  حکومت کے توسط سے ہونے والے مذاکرات کے بارے  میں  امریکہ اور ایران کا مؤقف مختلف ہے۔ امریکہ اسے  ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت قرار دے رہا ہے لیکن ایران کا دعویٰ ہے کہ بات   چیت عمان کی  معاونت سے بالواسطہ  طور سے ہوئی  ہے۔  آج سہ پہر ہونے والے  مذاکرات اڑھائی  گھنٹے تک جاری رہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ملکوں کے وفود علیحدہ کمروں میں بیٹھے تھے جبکہ  عمان کے  اہلکاروں کے ذریعے خیالات و تجاویز کا تبادلہ ہورہا تھا۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ  عباس عراقچی نے بتایا کہ مذاکرات کے اختتام پر دونوں ملکوں کے وفود نے عمانی حکام کی موجودگی میں  مختصر براہ راست بات چیت کی۔ ایرانی نیوز ایجنسی  ارنا نے اس بارے میں بتایا کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف نے باہمی احترام پر مبنی تعمیری ماحول میں اپنی اپنی حکومتوں کے مؤقف اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

گو کہ یہ بات بچگانہ لگتی ہے کہ ایران  ، امریکہ کے ساتھ بات چیت پر راضی بھی ہے لیکن وہ براہ راست بات چیت سے انکار بھی کررہا ہے۔  البتہ  دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا آغاز اور اس بارے میں احترام کا رویہ اختیار کرنے کی خبروں سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ بات چیت کامیاب ہوگی اور  مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کے اندیشوں کو ٹالا جاسکے گا۔ عمان کےوزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ آج ہم نے مسقط میں ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی اور امریکی صدارتی ایلچی سٹیو وٹکوف کی میزبانی کی اور ایک ایسے مکالمے اور مذاکرات کے عمل کا آغاز کرایا جس کا مشترکہ مقصد ایک منصفانہ اور لازمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔میں اپنے دونوں ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے دوستانہ ماحول میں اس عمل میں شرکت کی‘۔

ایرانی وفد کے ذرائع  نے میڈیا کو بتایا کہ ’ہمارا صرف ایک ہدف ہے، اور وہ ہے ایران کے قومی مفادات کا تحفظ۔ ہم سفارت کاری کو ایک سنجیدہ اور مخلص موقع دے رہے ہیں تاکہ بات چیت کے ذریعے ہم جوہری مسئلے پر آگے بڑھ سکیں اور سب سے اہم بات یہ کہ پابندیاں ختم ہوں۔ یہ تو صرف  آغاز ہے۔ اس مرحلے پر دونوں فریق عمانی ثالث کے ذریعے اپنے بنیادی مؤقف  پیش کریں گے۔ اس لیے ہمیں توقع نہیں کہ یہ دور طویل ہو گا‘۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے  ایرانی صحافیوں سے گفتگو  میں کہا کہ ’اگر دونوں فریقوں میں کافی سیاسی ارادہ ہوا تو ہم کسی نظام الاوقات پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔  لیکن فی الحال اس پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔ابھی تک   یہ بالواسطہ مذاکرات ہیں۔  ہمارے خیال میں  یہ صرف جوہری مسئلے پر ہیں، جن کا مقصد ایک ایسا معاہدہ حاصل کرنا ہے جو برابری کی بنیاد پر ہو اور ایرانی عوام کے قومی مفادات کو تحفظ فراہم کرے‘۔

امریکی حکام نے فوری طور پر مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی  ایرانی رپورٹس پر تبصرہ کیا ہے۔  البتہ اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بات چیت بامقصد اور خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے۔  گو کہ امریکی صدر ٹرمپ یہ زور دیتے رہے ہیں کہ  ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ’اس بات چیت کی کامیابی میں ہی ایران  کی بھلائی ہے لیکن اگر یہ  کوشش کامیاب نہیں ہوتی تو  ایران کے لیے  بہت برا ہوگا‘۔  ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیار نہ بنانے کی اجازت کے بارے میں مذاکرات سے چند گھنٹے پہلے بھی اپنا مؤقف دہرایا  اور کہا کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔ ایران نے کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرنے کا اعتراف نہیں کیا۔ اس کا سرکاری مؤقف یہی رہا ہے کہ ایران انرجی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یورینیم افزودہ کررہا ہے۔  تاہم ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایرانی حکام واضح  کرچکے ہیں کہ  امریکہ کے ساتھ کوئی بات  چیت دھمکیوں کے دباؤ میں نہیں کی جائے گی۔  ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی  کہہ چکے ہیں کہ ایران ایک شفاف معاہدہ چاہتا ہے جس میں اس کے وقار اور مفادات کا خیال رکھا جائے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے عمان کے ایک  اعلیٰ سفارت کار نے کہا کہ یہ مذاکرات ’دوستانہ ماحول‘ میں ہوئے اور ایک ’منصفانہ اور لازمی معاہدے‘ کی تلاش کا آغاز ہوا ہے۔ اس بیان سے بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ بھی  ایران کے ساتھ تنازعہ بڑھانے کی بجائے کسی مفاہمت تک پہنچنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایران  2015 میں  امریکہ، یورپی یونین اور  دیگر بڑی طاقتوں کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد  ایک نیوکلئیر معاہدے پر متفق ہوگیا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما اور دیگر یورپی لیڈروں نے اس معاہدے کو فریقین کے لئے سود مند قرار دیا تھا۔  اس کے تحت ایران یورینیم کی افزودگی کو محدود کرنے، ایٹمی ہتھیار بنانے سے باز  رہنے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی  (آئی اے ای اے)کے تحت اپنی جوہری تنصیبات کے کنٹرول پر راضی ہوگیا تھا۔  تاہم 2016 میں پہلی بار امریکی صدارت سنبھالنے کے بعد  ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو مسترد کردیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو دی جانے والی مراعات واپس لے کر  مزید سخت سخت پابندیاں عائد کردی گئیں۔  ایران  نے بھی امریکہ کی طرف سے اس انحراف کے بعد  یورینیم افزودہ کرنے کی کوششیں تیز کردیں۔  عالمی ماہرین اس بات  پر متفق ہیں کہ ایران اس وقت مختصر وقت کے اندر جوہری ہتھیار بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے  پہلی مدت میں صدر بننے کے بعد ایران پر دباؤ ڈال کر  مزید رعائتیں لینے کی کوشش کا مقصد اپنے ووٹروں اور امریکی عوام پر یہ واضح کرنا تھا کہ انہوں نے اوباما حکومت کے ایک ’ناقص‘ معاہدے کو بہتر بنا کر ایران  سے  مطالبات منوا لیے  ہیں۔ البتہ ایرانی حکام نے ٹرمپ کے اس سیاسی کھیل کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔ اسی کا نتیجہ  ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت کے بہت قریب پہنچ  چکا ہے جبکہ امریکہ اب بھی ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے  روکنے کی کوشش  کررہا ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات میں اب بھی ایران کی پوزیشن بہت واضح ہے۔ وہ جوہری ہتھیار بنانے سے  دست بردار ہونے اور عالمی کنٹرول قبول کرنے پر آمادہ ہے لیکن اس کے بدلے اس کی خواہش ہے کہ امریکہ ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیں ختم کرے تاکہ  ایرانی حکومت  عوام کی مشکلات دور  کرنے کے لیے مالی وسائل حاصل کرسکے۔  البتہ امریکہ کی پوزیشن واضح نہیں ہے۔ ایران چاہے گا کہ وہ  ہتھیار بنانے  پر پابندی قبول کرلے لیکن اسے سول مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل رہنا چاہئے۔   اب یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکی نمائیندے کسی  معاہدے تک پہنچنے کے لیے کیا تقاضہ کرتے ہیں اور کیا ایران کی کچھ شرائط ماننے پر آمادہ ہوں گے۔

امریکہ نے اگر ایران  سے  اپنی تمام جوہری تنصیبات ختم کرنے کا مطالبہ کیا تو ماہرین کے نزدیک ایران کے لیے یہ بات ماننا ممکن نہیں ہوگا۔  دیکھنا ہوگا کہ ایران سے معاہدہ کرنے میں ڈونلڈ ٹرمپ کس حد تک نرمی دکھا سکتے ہیں۔ آج شروع ہونے والے مذاکرات کے بارے میں ایرانی ذرائع سمیت  سب فریق یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس بار کسی معاہدہ تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔  اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ 2015 کا معاہدہ رہنما اصول کے  طور پر موجود ہے۔ ایران اس  معاہدہ کی شرائط کو مان چکا ہے ۔ اب اگر امریکہ بھی کسی نئے معاہدے کے نام پر انہی خطوط پر کوئی اتفاق رائے  پیدا کرنے پر آمادہ ہے تو کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے اور چند ہفتوں یامہینوں میں  دونوں ملک کسی بامقصد نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔ جیسا کہ عمانی ذرائع نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو  بتایا ہے کہ یہ  بات چیت  تین نکات  کا احاطہ کرے گی۔ ایک: علاقائی کشیدگی میں کمی ہو۔ دوئم : قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے اور سوئم :  فریقین کسی جزوی معاہدہ  پر متفق ہوجائیں تاکہ ایران کے جوہری پروگرام پر قابو پانے کے بدلے اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جا سکے۔

آئیندہفتہ کے روز  مذاکرات کے دوسرے  مرحلے میں یہ بات واضح ہوسکتی ہے کہ فریقین ایک دوسرے کو کس حد تک رعایت دینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ  معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران پر حملہ کرنے کی باتیں کرتے رہے ہیں لیکن درحقیقت وہ کسی معاہدہ کو ترجیح دیں گے تاکہ امریکی عوام کے سامنے خود کو امن  قائم کرنے والا اور کامیاب ڈیل کرنے والے لیڈر کے طور پر پیش کرسکیں۔ ابھی تک ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور اپنی حکومت میں شامل بعض سخت گیر عناصر کی اس تجویز کو مسترد کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کی بجائے براہ راست اسے سزا دی جائے اور اس کی جوہری تنصیبات تباہ کردی جائیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ  ایک تو کسی طویل المدت جنگ کے حامی نہیں ، دوسرے انہیں ایران کے ساتھ کسی  عسکری تصادم  کی تباہ کاری کا بھی کچھ اندازہو نا چاہئے۔  ایران،  یمن کے حوثی نہیں ہیں کہ امریکہ بمباری  کرکے اہداف حاصل کرلے گا اور حالات پرسکون رہیں گے۔

ایران کوبھی شدید معاشی دباؤ، داخلی سیاسی بے چینی اور حماس و حزب اللہ کے ذریعے اسرائیل کے خلاف شروع کی گئی  جنگ جوئی میں ناکامی کے بعد امن اور  عوامی بہبود کے مقصد پر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہوگی۔