غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف قومی اسمبلی نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی
قومی اسمبلی میں غزہ میں اسرائیل کے مظالم کے خلاف قرار داد پیش کی گئی، جو متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایوان فلسطینی بہن بھائیوں کی حمایت اور فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔ فلسطین ہو یا کشمیر، بارود سے ان کی آواز نہیں دبائی جاسکتی، نہ اسپتال نہ ہی ایمبولینس اور نہ ہی امدادی کارکن محفوظ ہیں۔ وزیر قانون نے کہا کہ فلسطین میں اسپتالوں اور رفاحی اداروں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔ فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کا سلسلہ فوری طور پر رکنا چاہیے۔ فلسطین کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے ہم کو مل کر بیٹھنا ہے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان ایک بار پھر اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتا ہے۔ یہ ایوان 60 ہزار فلسطینی شہدا کو سلام پیش کرتا ہے،
ایوان اسرائیلی جنگ بندی کے باوجود بمباری کی شدید مذمت کرتا ہے۔ یہ ایوان اسرائیل جارحیت کو عالمی برادری کی ناکامی تصور کرتا ہے، یہ ایوان اسرائیلی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کرتا ہے۔
غزہ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی پٹیشن کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ان ملکوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے جنوبی افریقہ کی پٹیشن کی حمایت کی۔