فلسطین پالیسی پر عوام کو گمراہ کرنے کے نت نئے ہتھکنڈے
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 14 / اپریل / 2025
اسلام آباد میں ملک بھر کے علمائے کرام کی ’فلسطین کانفرنس‘ میں دھواں دار تقریریں کرنے اور دنیا بھر کی مسلمان حکومتوں کے لیے جہاد کا فتویٰ جاری کرنے کے بعد اب پاکستانی حکومت نے قومی اسمبلی میں ایک نئی قرار داد کے ذریعے اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ اور واضح کیا ہے پاکستان ہمیشہ فلسطین کے حق خود اختیاری کی حمایت کرتا رہے گا۔
پاکستان کا یہ مؤقف کوئی نیا نہیں ہے۔ براہ راست فلسطین تنازعہ میں فریق نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا بلکہ آج وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے فلسطینیوں کی حمایت میں پرزور تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کی منفرد حیثیت ہے، پاکستان کا پاسپورٹ دنیا میں واحد پاسپورٹ ہے جس پر لکھا ہے کہ یہ دنیا بھر میں کارآمد ہے لیکن اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں۔ ہمیں اپنے سبز پاسپورٹ پر فخر ہے‘۔ البتہ اس فخر کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرنا انتہائی دشوار ہے اور اس کا شمار دنیا بھر میں کم ترین حیثیت والے پاسپورٹس میں ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس پاسپورٹ کو اسرائیل کے لیے ناکارہ قرار دے کر حکومت پاکستان عوام کو دھوکہ دینا چاہتی ہو لیکن اس سے اسرائیل یا اس کے حامیوں کی صحت پر کیا اثر مرتب ہؤا ہے۔ کیا پاکستان ، فلسطین کے سوال پر کسی عالمی فورم سے کوئی بات منوانے یا اس مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی کردار ادا کرسکا ہے؟ یا اب بھی اس کے پاس ایسی سفارتی حیثیت موجود ہے کہ وہ اسرائیل پر کسی قسم کا عالمی دباؤ بڑھانے کے لیے کام کرسکے؟
قومی اسمبلی کا اجلاس اور وہاں آج منظور کی جانے والی قرار داد درحقیقت اسلام آباد میں ’فلسطین کانفرنس ‘ میں ملک کے بڑے بڑے مولویوں کی پرجوش تقریروں اور جمعہ کے روز غزہ کے لیے ہونے والے مظاہرے کا جواب تھا۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے نام نہاد مفتی اعظم مفتی تقی عثمانی کا فرمانا تھا کہ اگر مسلمان ملکوں کی فوجیں فلسطین کو آزاد کرانے اور اسرائیل کو سبق سکھانے کے لیے بروئے کار نہیں لائی جاسکتیں تو ان فوجوں اور اسلحہ کے ذخیروں کا کیا فائدہ؟ اسی طرح کسی زمانے میں موجودہ حکومت میں شامل دونوں بڑی پارٹیوں کے ساتھ ملک میں جمہوریت کی مہم چلانے والے مولانا فضل الرحمان نے تقریر تو غزہ کے مصائب بیان کرنے کے لیے کی تھی لیکن اس میں براہ راست حکومت کے لتے لینے، اسے نااہل اور غیر منتخب قرار دینے میں کوئی کسر بھی اٹھا نہیں رکھی ۔ حکومت نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں دو وزیروں کی پرجوش تقریروں اور متفقہ قرار داد کی منظوری سے درحقیقت اس ’فلسطین کانفرنس‘ میں علمائے کرام کی طرف سے قائم کیے گئے اس تاثر کے کو مسترد کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستانی حکومت فلسطین کے معاملہ پر سنجیدہ نہیں ہے یا کوئی سرگرمی نہیں دکھا رہی۔ اسی لیے جہاد کا فتویٰ صادر کرنے، ملک بھر میں احتجاج کی کال دینے اور اسرائیلی یا اسرائیل کے حامی ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرنے کا اعلان ہؤا۔ اس کانفرنس میں کی گئی تقریروں سے کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے تو یہ بات سمجھ آئے گی کہ حکومت فلسطین کے سوال پر ناکام ہے ، اس لیے عوام کو علما کی سربراہی میں معاملات اپنے ہاتھ میں لے لینے چاہئیں۔ یہ علما اور دینی /سیاسی جماعتیں جب ایسے کسی جذباتی معاملہ میں ’معاملات اپنے ہاتھ میں لینے‘ کا اعلان کرتی ہیں تو اس کے نتیجے میں توڑ پھوڑ ہوتی ہے، جانی و مالی نقصان ہوتا ہے اور مذہب کے چند نام نہاد ٹھیکیداروں کو خبروں میں جگہ بنانے کا موقع مل جاتا ہے۔
اس پس منظر میں اسلام آباد کی نام نہاد ’فلسطین کانفرنس‘ کے تناظر میں اگر حکومت غزہ کے سوال کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لانا چاہتی تھی تو ایک غیر ضروری قرارداد منظور کرانے کی بجائے ، دو ٹوک الفاظ پر مشتمل سرکاری بیان سامنے آنا چاہئے کہ پاکستان، عوام کے حق انتخاب کا حامی ہے لیکن وہ اسی شدت سے تشدد کا مخالف ہے کیوں کہ اسی قسم کے تشدد کی وجہ سے پاکستان کو بھی دو صوبوں میں شدید مشکلات کا سامناہے۔ سکیورٹی فورسز کے افسر اور جوان روزانہ کی بنیاد پر فساد پسند عناصر کا مقابلہ کرتے ہیں اور دہشت گردوں کا سامنا کرتے ہوئے جان قربان کرتے ہیں۔ یا پھر اس موقع پر وزیر قانون، وزیر اطلاعات یا کسی دوسرے سرکاری ترجمان کو واضح کرنا چاہئے تھا کہ پاکستانی حکومت عوام کی خواہشات اور ملکی ضروریات کے مطابق غزہ و فلسطین کے سوال پر متحرک ہے اور دنیاکے جس پلیٹ فارم پر بھی اس معاملہ پر بات ہوتی ہے پاکستان کی آواز فلسطینیوں کے حق میں بلند ہوتی ہے۔ تاہم یہ پوزیشن واضح کرتے ہوئے حکومت کو یہ قانونی و آئینی پوزیشن بھی واضح کرنی چاہئے تھی کہ فلسطین ہو یا کوئی دوسرا مسئلہ، اس پر فیصلے منتخب پارلیمنٹ میں ہی ہوسکتے ہیں۔ کسی مذہبی گروہ یا علما کے اجتماع کو اس معاملہ پر فتوے صادر کرنے اور اشتعال پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ قومی اسمبلی کی قرار داد ہو یا وہاں وزیر قانون کی تقریر، اس میں فلسطین کانفرنس اور علما کے غیر ذمہ دارانہ طرزعمل پر کوئی بات نہیں کی گئی۔ گویا حکومت کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ علما کا ایک اجلاس فلسطین کے لیے جہاد کا فتویٰ جاری کرکے عوام میں بدگمانی اور دوسرے اسلامی ممالک میں پاکستان کے بارے میں تشویش پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن حکومت اپنے طور پر ویسے ہی نعرے لگا کر یہ بتانے کی کوشش کررہی ہے کہ حکمران سیاست دان بھی مولویوں کی طرح بے سر و پا باتیں اور دعوے کرسکتے ہیں۔
یہ طرز عمل عوام کو گمراہ کرنے اور ایک حقیقی مسئلہ کو جذباتی رنگ دے کر واقعاتی حقائق سے پہلو تہی کرنے کے ایک ہتھکنڈے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وزیر قانون نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے نہایت جوش سے کہا کہ ’ غزہ میں اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے، پاکستان نے ہمیشہ مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کیلئے آواز اٹھائی ہے اور پاکستان اور اس کے عوام آج بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسرائیل نے فلسطین پر جنگ مسلط کرکے جدید تاریخ میں ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ فلسطین ہو یا کشمیر، بارود سے ان کی آواز نہیں دبائی جاسکتی‘۔ یاا س موقع پر منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا کہ ’ ایوان فلسطین میں مجرمانہ اسرائیلی جرائم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ 18 مارچ سے دوبارہ شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت میں 1600 سے زائد مزید فلسطینیوں کو شہید کیا گیا ہے۔ ایوان فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل طور پر اظہار یکجہتی اور عالمی برادری کی جانب سے اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکامی پر اظہار تشویش کرتا ہے۔ ایوان غزہ سے اسرائیلی مقبوضہ فورسز کی فی الفور واپسی اور عالمی برادری سے فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے‘۔
اس قرار داد کے بارے میں میڈیا کو فراہم کی گئی خبر میں خاص طور سے زور دیا گیا ہے کہ یہ قرار داد متفقہ طور سے منظور ہوئی ہے اور حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔ حالانکہ کشمیر کی طرح فلسطین بھی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر کوئی سیاسی جماعت یک طرفہ بیان بازی اور ویسی ہی قرارداد کی حمایت کے سوا کوئی رویہ اختیار کرہی نہیں سکتی۔ اس کا تعلق کسی پالیسی یا معاملہ کی تفہیم سے نہیں ہے بلکہ ایک خاص ڈھب سے ان دونوں معاملات پر عوام کی یوں ذہن سازی کردی گئی ہے کہ وہ کوئی دوسری رائے سننے یا معاملہ کی پیچیدگی سمجھنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتے۔ حالانکہ حقیقت احوال یہ ہے کہ غزہ کے 25 لاکھ باشندے 7اکتوبر 2023 کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد سے مسلسل اسرائیلی جبر اور حملوں کا سامنا کررہے ہیں۔ حماس کی عاقبت نااندیشی اور ہٹ دھرمی کی قیمت اپنے خون سے ادا کررہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ غزہ کے لوگوں کی حمایت میں آواز اٹھانے والے پاکستانی علما یا سیاست دان اسرائیل کے لتے تو لے سکتے ہیں لیکن حماس کی چیرہ دستیوں پر بات نہیں کرسکتے۔
حماس پیش کش کرچکی ہے کہ اگر اسرائیل جنگ بند کرنے اور فوجیں واپس بلانے کی یقین دہانی کرائے تو وہ باقی ماندہ یرغمالیوں کو فوری طور سے رہا کرنے پر آمادہ ہے لیکن یہ اعتراف کرنے میں ناکام ہے کہ 7 اکتوبر کا حملہ بدترین حکمت عملی تھی اور اس غلطی پر غزہ کے شہریوں سے معافی مانگی جائے۔ تاہم دوسری طرف اسرائیل کے علاوہ امریکی خواہش کا اظہار مصر کی اس تازہ تجویز سے ہوتا ہے جس میں غزہ میں امن کے لیے حماس کو غیر مسلح کرنے کا کہا گیا ہے۔ حماس نے اس تجویز کو مسترد کردیا ہے حالانکہ مسلح رہ کر بھی وہ اسرائیل کا کچھ بگاڑنے کی بجائے غزہ کے مظلوم و محصور عوام پر ہی جبر و ستیم ڈھائیں گے۔ گزشتہ دنوں غزہ کے ہزاروں لوگوں نے حماس کے تسلط کے خلاف مظاہرہ کیا ۔ اسرائیل کی فوج کشی کے باوجود حماس کے مسلح لوگوں نے اس مظاہرہ کو ختم کرانے کی کوشش کی ۔ بعد ازاں یہ مظاہرہ منظم کرنے والے سرکردہ شہریوں کو ہراساں کیا گیا۔
غزہ کی حقیقی صورت حال یہی ہے کہ بلاشبہ وہاں رہنے والے لوگوں کو کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ان کی سہولت کے لیے آواز اٹھانے والے بھی انہیں حماس کی آمریت اور تشدد سے بچانے کی بات نہیں کرتے۔ پاکستان میں بھی فلسطین اور غزہ کے حامیوں کا یہی رویہ ہے۔ اس میں دینی رہنماؤ ں یا حکومتی ترجمانوں میں تخصیص نہیں کی جاسکتی۔