ہمارا خاندانی نظام بمقابلہ یورپ کی تنہائی
- تحریر مختار چوہدری
- بدھ 16 / اپریل / 2025
ہمارے ہاں بحث ہوتی ہے اور ہم فخریہ انداز میں اپنے خاندانی نظام کی تعریف کرتے ہیں یعنی ہمارے خیال میں مغربی معاشرہ بشمول امریکہ کینیڈا کا خاندانی نظام بکھر چکا ہے۔ جبکہ ہم نے اپنا خاندانی نظام بہت اعلی بنا رکھا ہے۔
ہم والدین کی عزت کرتے ہیں، ان کا خیال رکھتے ہیں، ان کی خدمت کرتے ہیں، ہم اپنی خواتین کی بہت عزت کرتے ہیں، ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت کرتے اور ان کی خاطر اپنی جان بھی دے دیتے ہیں وغیرہ، (یہاں ہم سے مراد، پاکستانی یا مسلمان ہے)۔ دوسری طرف ہمارا خیال ہے کہ مغربی معاشرے میں رشتوں کی کوئی پہچان ہے، نہ کسی کو کسی دوسرے کا کوئی احساس ہے۔ نیز ہمارے لوگوں کے خیال میں یورپ، امریکہ، کینیڈا وغیرہ میں خواتین کا کوئی مقام ہے نہ عزت ہے۔ جنسی بے راہ روی اور بے حیائی عام ہے۔
لیکن ہمارے ان خیالات میں کچھ حقیقت جبکہ زیادہ مغالطے بھی ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اسلام کا بطور دین معاملہ کچھ الگ ہے جہاں اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے انسانی حقوق کے بارے واضح قوانین وضع کر رکھے ہیں۔ لیکن جب ہم دو تہذیبوں کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد مغربی اور مشرقی تہذیب ہوتا ہے۔ مشرق میں صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ بھارت، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، تھائی لینڈ، جاپان، ویتنام، فلپائن اور چین بھی شامل ہوتے ہیں۔ لیکن اب بھارت، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور کسی حد تک نیپال، برما اور بھوٹان ایسے ممالک ہیں جہاں ابھی تک مشرقی تہذیب اور خاندانی مشترکہ نظام ہے۔ جبکہ جاپان، فلپائن، تھائی لینڈ وغیرہ اور یورپی کلچر میں زیادہ فرق نہیں ہے۔
اب ذرا ہم اپنے یعنی پاکستانی خاندانی نظام کو بمقابلہ یورپ دیکھتے ہیں اور غور کرتے ہیں کہ بطور ایک فرد ہم کہاں زیادہ بہتر زندگی گزار سکتے ہیں اور خاندان کا نظام کس کا بہتر ہے؟ اس موضوع پر لکھنے کا خیال ایک تو ناروے کی ایک خبر اور معروف کالم نگار اور محقق ڈاکٹر عارف کسانہ صاحب کے 11 اپریل کے روزنامہ اوصاف میں شائع ہونے والے کالم کو پڑھ کر آیا ہے۔ ناروے کی خبر یہ تھی کہ پچھلے ایک سال میں 750 سے زائد لوگوں نے خود کشی کی ہے جو پچھلے برسوں میں سب سے زیادہ ہے اور اس کی بڑی وجہ تنہائی کا خوف بیان کی گئی ہے۔ عارف کسانہ صاحب نے بھی اپنے کالم بعنوان" تنہائی کا المیہ" میں یہی لکھا ہے کہ سویڈن اور یورپ کے دوَسرے ممالک میں تنہائی نے بہت زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہے جس سے بہت لوگ بالخصوص بزرگ شہری کئی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور یہ تنہائی خودکشی تک لے جاتی ہے۔ راقم نے بھی یورپ میں رہتے ہوئے اکثر وہاں کے بزرگ شہریوں کو کسی سے بات کرنے کے لیے بیتاب پایا ہے۔ کئی مرد و خواتین نے اپنی تنہائی کو کم کرنے کے لیے مختلف جانور پال لیتے ہیں جن میں زیادہ تر کتے اور بلیاں ہوتے ہیں۔
حکومت نے بزرگ شہریوں کی تنہائی کم کرنے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے اولڈ ہوم کے نام سے پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔ میں نے کئی بار ناروے کے بزرگ شہریوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ مسلمان بالخصوص پاکستانی اس لحاظ سے بہت اچھے ہیں کہ وہ اپنے والدین کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔
تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ یورپ میں ہر فرد مالی طور پر خود کفیل ہے۔ مطلب تمام مرد و زن کام کرتے ہیں، اور اگر کوئی کسی وجہ سے کام کرنے سے قاصر یا معذور ہے تو اسے ریاست پورا تحفظ دیتی ہے۔ اس طرح کوئی بچہ والدین کا مرہون منت ہے، نہ بوڑھے والدین کو بچوں کے سہارے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح میاں بیوی بھی ایک دوسرے پر مالی طور پر انحصار نہیں کرتے اور گھر کے کام بھی برابر ہی کرتے ہیں۔ اس لیے سب برابری کی بنیاد پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ اگر کوئی والدین بچوں کی پرورش میں کوئی کمی کوتاہی کرتے ہیں تو ریاست والدین سے بچے لے لیتی ہے اور ان کی پرورش اپنے ذمے لیتی ہے۔ اور جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو ان کو اپنے بچوں کا محتاج نہیں ہونا پڑتا۔ لیکن یہ بھی نہیں ہے کہ یورپ میں کسی رشتے کی پہچان نہ ہو یا آپس میں ملنا جلنا نہ ہو۔ وہاں بھی رشتوں میں پیار ہے، ایک دوسرے کا احترام اور احساس بھی ہے لیکن مالی یا معاشی طور پر کوئی کسی کا محتاج نہیں ہوتا ہے۔ وہاں زندگی اتنی تیز اور مصروف ہو چکی ہے کہ زیادہ تر لوگوں کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کے لیے کچھ کر سکیں یا روزانہ اپنے پیاروں کو وقت دے سکیں۔
ہمارے ہاں ریاست اپنے افراد کو ہر طرح کا تحفظ دینے سے قاصر ہے اور ہم نے اپنا خاندانی نظام اس طرح استوار کر رکھا ہے کہ ہماری کمائی میں دوسرے رشتوں کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جو مرد کماتا ہے، وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ساتھ والدین اور اپنے بہن بھائیوں کی کفالت بھی کرتا ہے۔ والدین کی کفالت اور ان کی خدمت تو ہمارے لیے عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں خانگی جھگڑوں کی بھی بہتات ہے۔ جس طرح یورپ میں لوگوں کو تنہائی کا ڈپریشن ہوتا ہے، اس سے بھی کہیں زیادہ ہمارے ہاں خانگی مشکلات اور جھگڑوں کا ڈپریشن ہے۔ اور اس وجہ سے کئی لوگ بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور خودکشیاں بھی ہوتی ہیں۔
اسی وجہ سے قتل سمیت کئی جرائم اور مقدمات بھی ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں خواتین کو کئی لحاظ سے مردوں کا مرہون منت بنا دیا گیا ہے۔ خواتین کو اسلام سے ملنے والے حقوق کو بھی سلب کر لیا جاتا ہے۔ پاکستان کے ہر علاقے کے اپنے ہی رسم و رواج ہیں جن کو کہیں اسلام کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے تو کہیں مشرقی روایات کے نام پر عورتوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح خواتین کو پردوں میں چھپا کر انہیں اپنی صلاحیتوں سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے، جس سے ہماری قومی پیداوار اور تخلیقی سرگرمیوں میں کمی آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم آدھے دماغ اور آدھی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں جس سے ہماری ترقی کی رفتار انتہائی سست ہے۔
ہمارے شہروں کے پوش علاقوں میں جہاں لوگ پرائیویسی کے نام پر ہمسایوں سے تعلق نہیں جوڑتے، تنہائی کا شکار بھی ہیں۔ آخری بات یہ کہ دونوں طرف کے لوگ مغربی معاشرے میں خود کو زیادہ خوش و مطمئن پاتے اور وہاں رہنا چاہتے ہیں۔ حتی کہ ہمارے حکمران طبقے کو بھی یورپ رہنا پسند ہے۔