خادم اعلیٰ سے چیف ایگزیکٹو آفیسر تک

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اوورسیز پاکستانیوں کے  لیے متعدد سہولتوں کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ بنفس نفیس پاکستان کو کثیر زرمبادلہ فراہم کرنے والے لوگوں کے مفادات کے محافظ ہوں گے۔ اسلام آباد میں اوورسیز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کیا کہ’ میں آپ کا سی ای او ہوں گا۔ میری کابینہ اور ملک کی بزنس کمیونٹی آپ لوگوں کی سرمایہ کاری کی حفاظت کرے گی‘۔

اوورسیز  کنونشن  بیرونی ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کی خدمات کا اقرار کرنے اور  ان کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔ اس میں دیگر سرکاری عہدے داروں کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔ یوں تو اس کنونشن میں دنیا بھر کے تمام ممالک سے وہاں مقیم پاکستانیوں کے نمائیندوں نے مندوبین کے طور پر شرکت کی لیکن یہ سمجھنا خاصا دشوار ہے کہ ان لوگوں کا انتخاب کیسے عمل میں آیا  اور اس کنونشن میں شریک ہونے والے بارہ سو  لوگ اپنے علاوہ کس  بنیاد پر کسی کی نمائیندگی کررہے تھے۔

تاہم وزیر اعظم اور آرمی چیف  نے  بیرون ملک سے پاکستان کی خدمت کرنے والے لوگوں کو ذبردست خراج تحسین پیش کیا۔ شہباز شریف نے بتایا کہ  صرف مارچ کے دوران ان پاکستانیوں نے 4 اعشاریہ 1 ارب ڈالر   ترسیلات زر کی صورت میں پاکستان بھیجے ہیں۔  وزیر اعظم نے کہا کہ اندازہ ہے کہ سال رواں کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے آنے والا زر مبادلہ 38 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس طرح یہ  رقم ملکی برآمدات سے بھی زیادہ ہوگی۔ اگرچہ شہباز شریف  یہ دعویٰ کرتے ہوئے درحقیقت بیرون ملک پاکستانیوں کے جذبہ حب الوطنی کی تعریف کرنا چاہتے تھے لیکن اسی بیان کو دوسرے رخ سے دیکھا جائے تو یہ بیرون  ملک مقیم پاکستانیوں کی توصیف سے زیادہ حکومت کی ناکامی اور پاکستان کی ناقص کارکردگی  کی تصویر بن  جاتی ہے۔ پاکستان لگ بھگ  پچیس کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ لیکن اس کی برآمدات بدستور 30 ارب ڈالر کے  دائرے میں گھوم  رہی ہیں۔ اب امریکہ نے  درآمدات پر جو نئے محصول عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کے نتیجے میں  پاکستان  سے امریکہ تقریباً 6 ارب ڈالر کی  برآمدات   متاثر ہوسکتی ہیں۔  موجودہ حکومت کے ترجمان تو اس ناکامی  میں بھی تحریک انصاف کے مختصر دور حکومت  کی غلط پالیسیوں کو  عذر کے طور پر پیش کریں گے لیکن  حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستان مجموعی طور سے  ناقص طریقوں، تحقیق و جستجو سے گریز،  نعروں کی بنیاد پر سیاسی فیصلوں  اور  نئے عہد میں عالمی منڈیوں کی ضرورت کے مطابق مصنوعات  تیار کرنے میں ناکام  رہا ہے ۔ اس ناکامی کی ذمہ داری  گزشتہ چالیس سال کے دوران  فیصلہ سازی میں شریک سب عناصر  پر عائد ہوتی ہے۔

اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ سہولتوں کی کمی اور نئے رجحانات کو کچلنے کا سرکاری طریقہ ہے۔ دیگر مصنوعات پیدا کرنے کے لیے پھر سرمایہ کاری اور دیگر ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں لیکن آئی ٹی کا ایک ایسا شعبہ ہے جس میں نجی طور سے کام کرنے  والے افراد اور کمپنیاں اپنے طور پر  بیرون ملک منڈیاں تلاش کرکے ملکی برآمدات میں قابل قدر اضافہ کرسکتے ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران  ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی آئی ٹی برآمدات  200 ارب ڈالر تک  پہنچ چکی تھیں جبکہ پاکستان کی  آئی ٹی برآمدات محض 3،2 ارب ڈالر تھیں۔ پاکستانی حکومت یہ سوچ کر مطمئن ہوجاتی ہے کہ یہ شرح 2023 کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے  لیکن یہ غور نہیں کیا جاتا کہ اس شعبہ میں دنیا بھر میں کیسے مواقع موجود تھے  لیکن  پاکستانی کمپنیاں بوجوہ ان سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ ان میں سر فہرست انٹر نیٹ کی سہولت میں مسلسل رخنہ ڈالنے اور  مختلف عالمی ایپس کو ممنوع قرار دینے کا طریقہ ہے۔  شہباز شریف  کی حکومت نے   گزشتہ سال فروری میں  اقتدار سنبھالنے کے بعد سے    سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے اور ریاست و فوج کے خلاف پروپیگنڈا روکنے کے نام پر متعدد پابندیاں عائد کیں۔ ان میں انٹر نیٹ کی رفتار کم کرنا،  متعدد علاقوں میں وقتا فوقتاً انٹرنیٹ کی سہولت معطل کرنے کے علاوہ  ’ایکس‘ جیسے ایپ پر پابندی عائد کرنے پر اصرار شامل ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم سمیت تمام حکومتی عہدیدار ’ایکس‘ ہی کے ذریعے ضروری پیغامات عام کرتے ہیں لیکن عدالتوں کو بتایا جاتا ہے کہ   یہ ایپ ملکی سلامتی اور قومی مفاد کے لیے ضرررساں ہے۔ اسی قسم کے حیران کن فیصلوں کی وجہ سے پاکستان  کاآئی  ٹی شعبہ مناسب کارکردگی دکھانے اور ملکی برآمدات میں اضافہ میں حصہ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ حالانکہ اگر حکومت اس شعبہ کو آزادی سے کام کرنے دے اور صرف بنیاد تکنیکی سہولتوں کو روکنے کی کوششیں ترک کردے تو یہ شعبہ دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیر اعظم نے اوور سیز پاکستانیوں کے  کنونشن کو بتایا کہ دنیا کے 160 ممالک میں ایک کروڑ پاکستانی کام کررہے ہیں اور ان  ہی  کی فراہم کی ہوئی ترسیلات زر کی وجہ سے ملک کو بیش قیمت زر مبادلہ حاصل  ہورہا ہے۔  بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی توصیف کرتے ہوئے وزیر اعظم کو یہ بھی سوچنا چاہئے تھا کہ کیا وجہ کہ  اتنی کثیرتعداد میں پاکستانی ملک سے باہر سفر کرکے روزگار کمانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔  یہ سفر محض ترقی  یافتہ یا امیر ممالک کی طرف ہی نہیں ہوتا بلکہ اب تو پاکستانی نوجوان غریب اور اوسط آمدنی والے ممالک میں بھی جاکر کام کررہے ہیں کیوں کہ وہاں پر امن ماحول میں سکون سے کام کرکے کچھ آمدنی حاصل  ہوسکتی ہے جس کا  موقع انہیں پاکستان میں نہیں ملتا۔   تصویر کا یہ پہلو نہایت تشویشناک ہے۔ یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ تمام پاکستانی اپنی خواہش یا دوسرے ملکوں  کی درخواست  کی وجہ سے وہاں خدمات انجام دینے نہیں گئے بلکہ انہیں مجبوری اور پریشانی کے عالم میں اپنا وطن چھوڑ کر بیرون ملک جاکر ہر طرح کے حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ کسی بھی  حکومت کے لئے یہ حقیقت فخر کی بجائے ندامت کا سبب ہونی  چاہئے۔

یوں تو اس کنونشن میں آرمی چیف کو مدعو کرنے اور تقریر کی دعوت دینے کی وجہ غیر واضح ہے۔  فوج کے سربراہ کے پاس ایسا کوئی طریقہ  یا اختیار نہیں ہونا چاہئے کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو کوئی سہولت فراہم کرسکیں یا ان کے  لیے پاکستان میں آسانیاں پیدا کرا سکیں۔ البتہ  جنرل عاصم منیر نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے سکیورٹی  پر بات کی  اور  دہشت گردی کو شکست  اور پاکستانی عوام کے ساتھ مل کر ملک کو ترقی دینے کا عزم دہرایا ۔لیکن اس کے ساتھ ہی کنونشن کی مناسبت سے  بات کرتے ہوئے انہوں نے کثیر تعداد میں  پاکستانی نوجوانوں کے بیرون ملک جانے کو ’برین ڈرین‘ کہنے کو غلط قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ تو ’برین گین‘ ہے۔ یعنی اس سے ملکی صلاحیت باہر نہیں جارہی بلکہ باہر سے اعلیٰ صلاحیتیں ملک میں آرہی ہیں۔  ترسیلات زر میں اضافہ کے علاوہ آرمی چیف  یا حکومت کوئی  ایسا پہلو اجاگر نہیں کرسکتی جس سے یہ واضح ہو کہ بیرون ملک جاکر مشکل حالات میں روزگا رکمانے والے لاکھوں  لوگوں کا وطن چھوڑنا کیسے ملک کے لئے ’برین گین‘ ہے؟  یا تو یہ لوگ  بیرون ملک اعلیٰ یونیورسٹیوں میں جدید علوم کی تعلیم حاصل کرکے پاکستان لوٹیں اور ملکی ترقی میں ہاتھ بٹائیں۔  لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی طالب علموں کی جو قلیل تعداد بیرونی  یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتی ہے، وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہیں آباد ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بلکہ سال ہا سال تک امریکہ یا دیگر ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم پانے اور  تکنیکی شعبوں میں کام کرنے والے کچھ لوگ اگر پاکستان واپس آکر یہاں خدمت انجام دینے کی کوشش کریں تو ہر مرحلے پر ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ تنگ آکر وہ ساتھ لایا ہؤا سرمایہ ضائع کرکے واپس اسی ملک جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں جہاں سے وہ وطن کی خدمت کس جذبہ لے کر واپس آئے تھے۔ جب تک یہ صورت حال تبدیل نہیں ہوگی اور بیرون ملک عالی دماغ پاکستانیوں کو تحقیق و فنی شعبوں میں کام کرنے کے مناسب مواقع دستیاب نہیں ہوں گے، یہ ناقابل فہم رہے گا کہ پاکستان کیسے لاکھوں لوگوں کو بیرون ملک بھیج کر اپنی صلاحتیں گنوانے کی بجائے ، ان میں اضافہ کررہا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے جن سہولتوں کا اعلان کیا ہے ان میں ’خصوصی عدالتیں‘  قائم کرنے، ائرپورٹس پر گرین چیینلز بنانے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ٹیکس فائیلرز جیسی سہولتیں دینے اور  ہر سال اعلیٰ سول ایوارڈز دینے   کا وعدہ شامل ہے۔  جہاں تک  اوورسیز پاکستانیوں کو اعلیٰ سول ایوارڈ دینے کا تعلق ہے  تو  یوم آزادی کے موقع پر صدر مملکت کے ہاتھوں عمر ظہور نامی شخص کو اعزاز دے کر اس کی حقیقت کا پول کھول دیا گیا ہے۔ یہ شخص غبن اور دھوکہ دہی کے الزامات میں ناروے کی حکومت کو مطلوب ہے لیکن حکومت پاکستان اسے نامعلوم خدمات کے صلے میں  اعلیٰ سول ایوارڈ دے رہی ہے۔ اس سے نہ صرف اس ایورڈ کی  عزت و توقیر کم ہوئی ہے بلکہ پاکستان کے بارے میں یہ تاثر قائم ہؤا ہے کہ وہاں دھوکہ دہی  اور چوری کرنے والوں کو سینے سے لگایا جاتا ہے۔

جہاں تک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انصاف کی فراہمی  کے لیے ’خصوصی‘ عدالتیں قائم کرنے کا  اعلان ہے تو اس سے یہی لگتا ہے کہ وزیر اعظم تسلیم کرتے ہیں کہ ملکی عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ لیکن کیا خصوصی عدالتیں موجودہ نظام انصاف میں کوئی تبدیلی لاسکتی ہیں؟ اس کا جواب اثبات میں نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ 1997 میں نواز شریف کی حکومت نے ملک میں دہشت گردی میں ملوث لوگوں کو فوری اور جلد سزائیں دلوانے کے لیے انسداد دہشت گردی کی خصوصی  عدالتیں قائم کی تھیں لیکن حکومت اس وقت ملکی سپریم کورٹ کے  آئینی  بنچ  کے سامنے    دہشت گردی میں ملوث لوگوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔

پاکستان میں بیرون ملک سے  واپس آنے یا  سرمایہ کاری کرنے والے  پاکستانیوں کو بھی اسی وقت انصاف مل سکے گا جب  ملک کے  دیگر شہریوں کے مسائل بھی عدالتی نظام میں کسی دقت اور مشکل کے بغیر حل ہونے لگیں گے۔  خصوصی عدالتیں بنانے یا ایک کنونشن میں خوصورت اعلانات کرنے سے  سیاسی پوائینٹ اسکورنگ تو ہوسکتی ہے لیکن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی پریشانیاں کم نہیں ہوسکتیں۔

شہباز شریف  پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر خود کو ’خادم اعلیٰ‘ کہلانا پسند کرتے تھے۔ البتہ اب وہ اوور سیز پاکستانیوں کے ’چیف ایگزیکٹو آفیسر‘ بننے کا اعلان کررہے ہیں۔ وزیر اعظم کو بتانا چاہئے کہ اوورسیز پاکستانی کیا کوئی ٹریڈنگ  کمپنی ہے جسے سی ای او کی ضرورت ہو۔ یہ ضروت مند، مجبور انسانوں کا جم غفیر ہے جو پاکستانی حکومتوں کی ناقص حکمت عملی اورسیاسی جماعتوں کی نااہلی کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑنے پر مجبو رہؤا ہے۔