پی ٹی آئی ایسی تنقید نہ کرے جس سے عمران خان کو نقصان پہنچے: علی امین گنڈا پور
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے اپنی جماعت کو مشورہ دیا ہے کہ ایسی تنقید نہ کی جائے جس سے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو نقصان پہنچے۔
جمعرات کے روز لاہور ہائی کورٹ بار میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں ایک بات تحریکِ انصاف کو کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی ایسی تنقید مت کرو جس سے تمہارے مقصد، تمہارے لیڈر کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے اپنی جماعت کو مشورہ دیا کہ وہ متحد ہو کر اپنے مخالفین سے ٹکرا جائیں۔ ’جیسے پشتو میں کہتے ہیں ’یا تو اپنا سر تڑوا لوں گا یا چٹان کو توڑ دوں گا۔‘
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے ذوالفقار علی بھٹو کو لانے کے لیے پاکستان کو توڑا گیا اور پھر اسی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ حال ہی میں بھٹو کو ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا۔ ’اگر بھٹو ایوارڈ کے حقدار تھے تو ان کو پھانسی دینے والوں کو کیا سزا دی گئی یا دی جائے گی۔ یہ اعلان بھی اس ملک میں ہونا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور فیصلہ سازوں کو لیڈر نہیں غلام چاہئیں۔ ’2024 کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہیں الیکٹڈ نہیں سلیکٹڈ لوگ چاہئیں۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان صرف اس لیے جیل میں ہے کیوں کہ ان سے نظام کو خطرہ ہے کیوں کہ وہ قانون اور آئین کی بالادستی چاہتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سب کے باوجود عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی خاطر مذاکرات کرنے کو تیار ہیں۔