ریاست کی بنیاد پرست سوچ نے پاکستان کو کیسے نقصان پہنچایا ؟

پچھلے دنوں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی نے اپنی کارروائیاں تیز کر دیں۔ ریاست کی طرف سے اس کے خلاف بھرپور عسکری اور سیاسی ردعمل سامنے آیا۔ بلوچوں کے حقوق کی سب سے بڑی علمبردار ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو سنگین الزامات لگا کر پابندسلاسل کر دیا گیا ہے۔

ان کے ساتھ بلوچ یکجہتی کونسل کے بہت سے دوسرے رہنماؤں کو بھی گرفتار یا لاپتا کیا جا چکا ہے۔ صوبہ بلوچستان میں اس وقت مکمل طور پر جبر کا ماحول ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بلوچستان میں اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جس کی اپنی تاریخ فوجی آمریتوں کے خلاف جدوجھد سے عبارت ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر حالیہ دنوں میں اپنے ولولہ انگیز، جذباتی اور نظریاتی خطابات کے ساتھ منظر عام پر آئے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ تقاریر بلوچستان کی موجودہ صورتحال کا ردعمل ہے۔ انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں سے نظریہ پاکستان کی کہانی دنیا کو سنانے کی درخواست کی ہے۔ کل ایک کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد دوقومی نظریہ ہے۔ ہم مسلمان ہندوؤں سے بالکل مختلف قوم ہیں۔ ہمارا مذہب، تاریخ، ثقافت، رسوم و رواج، اور رہن سہن ہندوؤں سے بالکل الگ ہے۔ اسی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا تھا۔ انہوں نے پرجوش انداز میں کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا اور پندرہ سو بلوچ مل کر بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کر سکتے۔

جنرل عاصم منیر اس وقت پاکستان کی سب سے طاقتور شخصیت ہیں، وہی ریاست چلا رہے ہیں اور دنیا کی بڑی طاقتیں سیاسی شخصیات کی بجائے انہی کو اہمیت دیتی ہیں۔ اس لیے ان کا کہا ہوا ہر لفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ریاست پاکستان کے موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔ سائنسی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ دنیا کو آگے بڑھنے اور مستقبل میں پیش آنے والی آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تنوع کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے بڑے دماغ یہ بات سمجھ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ممالک میں تنوع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ساری دنیا سے ہر رنگ، نسل، مذہب، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے ذہین لوگوں کو ان ممالک میں قبول کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اقوام سائنسی میدان میں بہت تیزرفتاری سے آگے بڑھ کر پاکستان جیسی اقوام کو بہت پیچھے چھوڑ چکی ہیں۔

تنوع کی دنیا میں جنرل عاصم منیر کی طرف سے دوقومی نظریے پر ڈٹے رہنے کی بات کی گئی ہے۔ قائد اعظم نے اپنی 11 اگست 1947 کی تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان بن چکا ہے اور اب پاکستان میں کسی کی پہچان اس کا مذہب نہیں ہے، بلکہ ہم سب پاکستانی ہیں۔ یہ ریاست کی بنیاد پرست سوچ کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ سندھ میں ہندو بچیوں کو اغوا کر کے ان کو جبراً مسلمان کیا جا رہا ہے اور ان سے جبری نکاح کیے جا رہے ہیں۔ اس بنیادپرست سوچ کا نشانہ صرف اقلیتیں نہیں بلکہ غیرملکی مسلمان پناہ گزین بھی ہیں جنہیں کئی عشرے پاکستان میں گزارنے کے باوجود زبردستی ملک بدر کیا جا رہا ہے۔

اس وقت ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ شاید کسی بھی سیاسی جماعت میں یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ کسی بات سے اختلاف کر سکے ۔ جدید دنیا جذبات اور دقیانوسی خیالات کی نہیں بلکہ سائنس اور حقائق کی دنیا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم دنیا کو اپنا ترقی پسند چہرہ دکھائیں اور عقلی اور منطقی نظریات اس کے سامنے پیش کریں۔ ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی طرح آگے بڑھنے کے لیے تنوع کے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)