پوپ فرانسس 88 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

  • سوموار 21 / اپریل / 2025

کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس 88 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ویٹی کن سٹی نے پوپ فرانسس کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ویٹی کن نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پوپ فرانسس ایسٹر سنڈے کے موقع پر سینٹ پیٹرز اسکوائر میں شرکت کے ایک دن بعد پیر کو 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ویٹی کن کی جانب سے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہونے والے بیان میں کارڈینل کیون فیرل نے کہا کہ روم کے بشپ فرانسس آج صبح 7 بج کر 35 منٹ پر خدا کے حضور پیش ہوگئے۔

ایسٹر سنڈے کے موقع پر اپنے آخری عوامی خطاب میں پوپ فرانسس نے اپنے ایک معاون کی جانب سے پڑھے گئے پیغام میں غزہ میں فوری جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کیا تھا۔ اس وقت پوپ سینٹ پیٹرز بیسلیکا کی مرکزی بالکونی میں مختصر حاضری کے دوران نظر آئے تھے۔

نمونیا کے باعث پانچ ہفتوں تک ہسپتال میں رہنے سے قبل پوپ فرانسس غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم پر تنقید کرتے رہے تھے۔ اور جنوری میں فلسطینی علاقے میں انسانی صورتحال کو ’انتہائی سنگین اور شرمناک‘ قرار دیا تھا۔ ایسٹر کے پیغام میں پوپ نے کہا کہ غزہ کی صورتحال ڈرامائی اور افسوسناک ہے۔

پوپ فرانسس کا اصل نام جارج ماریو برگوگلیو تھا اور انہیں 13 مارچ 2013 کو پوپ منتخب کیا گیا تھا، جس نے چرچ پر نظر رکھنے والے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا تھا۔ کیوں کہ ارجنٹائن کے مذہبی رہنما کو ایک بیرونی شخص کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

انہوں نے سادگی کو عظیم کردار میں پیش کرنے کی کوشش کی اور اپنے پیشروؤں کے زیر استعمال اپوسٹولیک محل میں پوپل اپارٹمنٹس مٰں رہنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی نفسیاتی صحت کے لیے کمیونٹی میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہیں ایک ایسا چرچ ورثے میں ملا تھا جو بچوں کے جنسی استحصال کے اسکینڈل پر تنقید کا نشانہ تھا۔ ویٹی کن بیوروکریسی میں اندرونی لڑائی بھی موجود تھی۔

پوپ فرانسس کوقدامت پسندوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے ان پر پسندیدہ روایات کو ختم کرنے کا الزام لگایا۔ پوپ نے ترقی پسندوں کی ناراضی کا بھی سامنا کیا، جن کا خیال تھا کہ انہیں 2 ہزار سال پرانے چرچ کو نئی شکل دینے کے لیے بہت کچھ کرنا چاہیے تھا۔

پوپ فرانسس اندرونی اختلافات سے نبردآزما تھے تو وہ ایک عالمی سپر اسٹار بن گئے تھے۔ انہوں نے اپنے متعدد غیر ملکی دوروں میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، کیونکہ انہوں نے تارکین وطن جیسے پسماندہ لوگوں کا ساتھ دیتے ہوئے بین المذاہب مکالمے اور امن کی ضرورت پر دیا تھا۔

کارڈینل رائے دہندگان  اب نیا پوپ منتخب کریں گے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے رومن کیتھولک چرچ کے پیشوا پوپ فرانسس کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔