پوپ فرانسس کا انتقال: تایخی تناظر میں
- تحریر خالد محمود اوسلو
- سوموار 21 / اپریل / 2025
پوپ فرانسس اکیس اپریل کی صبع 89 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ لفظ پوپ لاطینی زبان سے ماخذ ہے جس کا مطلب باپ ہے۔ گو پوپ عیسائی فرقہ کیتھولک کا مذہبی سربراہ ہے لیکن عیسائیت کے ماننے والے تمام فرقے انہیں باعزت اور قابل احترام مانتے ہیں۔
خاص کر پروٹیسٹنٹ فرقہ کے پیروکار جنہوں نے مارٹن لوتھر کی زیر قیادت میں پوپ کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے نئے فرقے کی بنیاد رکھی تھی، وہ بھی اب پوپ کو عزت واحترام دیتے ہیں۔ اور پوپ غیر اعلانیہ طور پر تمام عیسائیت کے علامتی سربراہ سمجھا جاتا ہے۔ پوپ کے عہدہ کی ابتدا کی روایت کو حضرت عیسی علیہ السلام کے اُس قول سے جوڑا جاتاہے جس میں اُنہوں نے اپنے شاگرد سائمن کو پطرس کا نام دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس چٹان پر میں ایک کلیسا بناؤں گا جس کے لیے دوزخ کے دروازے بند ہوں گے۔ اور میں تمہیں بہشت کے دروازے کی چابی دوں گا۔
کیتھولک عقیدہ کے پیروکار پوپ کو پطرس کا جانشین مانتے ہیں جس کو عیٰسی علیہ السلام نے بائبل میں کلیسا کا گڈریا اور کھونٹا گردانا ہے۔ کیتھولک کے پیروکاروں کا دعویٰ ہے کہ پوپ کے عہدہ کی گواہی نئی انجیل سے ملتی ہے جبکہ پروٹیسٹنٹ کے پیروکار اس سے انکاری ہیں۔ اور ان کے مطابق یہ صرف پطرس تک ہی محدود ہے۔ برحال اگر تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو پوپ کا عہدہ عیسائیت کے اندر مذہبی، سماجی اور سیاسی حثیت کا حامل رہا ہے۔ بلکہ پوپ ویٹیکن ریاست کا بادشاہ بھی ہے۔ اور قرون وسطیٰ میں یورپ اور عیسائی دنیا کے اندر سب سے زیادہ طاقتور عہدہ تھا۔ بڑی بڑی عیسائی سلطنتوں کے شہنشاہ پوپ کی خوشنودی کے محتاج ہوتے تھے۔ پوپ کی ناراضی مول لینے سے خائف رہتے۔
اگر کسی حکمران کے خلاف پوپ فتویٰ صادر کر دیتا تو اس کی حکمرانی خطرے میں پڑ جاتی تھی ۔ پوپ کی مذہبی حیثیت کے ساتھ ساتھ پوپ کے جاہ وجلال اور دولت کا بھی طوطی بولتا تھا۔ ایک زمانے میں یورپ کا سب سے بڑا جاگیردار اور متمول کلیسا تھا۔ اسی طرح پوپ کے پاس بین الاملکی عدالتی اختیارات بھی تھے۔ جس کو کئی یورپی ریاستوں کے حکمران اور نواب تصرف میں لاتے۔ کیونکہ مختلف ریاستوں کے آپس کے تنازعوں کا فیصلہ پوپ سے لیا جاتا تھا جو کسی بھی ریاستی قانون پر فوقیت رکھتا تھا۔
اسی طرح تاریخ میں درج ہے کہ صلیبی جنگوں میں بھی پوپ کے کردار کو کلیدی حثیت حاصل تھی۔کیونکہ پوپ کی قیادت کے بغیر اتنی بڑی جنگی افرادی قوت کو یکجا کرنا ناممکن تھا۔ لیکن پوپ کی مذہبی اور سیاسی قیادت کے زیر سایہ پورپ کے مختلف قبائل متحد ہو کر ان صلیبی جنگوں کا حصہ بنے۔ لیکن چودھویں صدی کے آغاز پر پوپ کے عہدہ میں پیدا ہونے والے اختلافات سے پوپ کی طاقت کا زوال شروع ہوا۔ آہستہ آہستہ ریاستوں کے حکمران پوپ کے اثر سے باہر نکلنے لگے اور پھر مارٹن لوتھر کی طرف سے پوپ کی مذہبی طاقت اور شریعت عیسوی سے اختلافات نے نئے فرقوں کو جنم دیتے ہوئے پوپ کی طاقت کو کم کر دیا۔
ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ پوپ اور اس کے کلیسا کے جبر کی داستانیں زبان زد عام تھیں اور مذہب کے نام پر کیے جانے والے استحصال پر کئی تحریکوں نے جنم لیا، چند کامیاب بھی ہوئیں جن میں رفارمیشن سر فہرست ہے۔ اس کے بعد باضابطہ طور پر پروٹیسٹنٹ فرقہ معرض وجود میں آیا۔ لیکن آج جب پوپ کی حثیت اور مقام کو دیکھیں تو یہ گمان تک نہیں گزرتا کہ کبھی اس عہدہ سے منسلک جبروظلم کی داستانیں بھی رہی ہیں اور اس کے خلاف عیسائیت سے منسلک اہل یورپ نے بغاوت کی تھی۔ یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ جدید یورپ کی بنیاد میں ایک کلیدی عنصر پوپ اور مذہب کے استحصال سے نجات بھی ہے۔ اگر پوپ کی مذہبی تشریح کے اختیار، مذہب کے تقدس کے نام پر حاصل اختیارات کو کم نہ کیا جاتا تو شاید یورپ کبھی بھی سائنس میں ترقی کر کے جدید دور میں داخل نہ ہوسکتا۔
لیکن ساتھ ہی پوپ اور اس کے ہمنواؤں کا خود کو نئے حالات اور تقاضوں کے مطابق تبدیل کرنا بھی قابل تعریف ہے۔ پوپ نے نئی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے روایتی اختیارات سے دستبردار ہو کر اپنے لیے آفاقی انسانیت مظلوموں کا حامی اور پسےہوئے طبقوں کا نمائندہ بنا کر دنیا عالم میں ایک ایسا مقام حاصل کرلیا ہے کہ دنیا کے ہر کونے اور ہر مذہب اور عقیدہ کے لوگ بین الاقوامی سطح پر پوپ کے سیاسی اور سفارتی موقف کو بطور سند پیش کرتے ہیں۔ لہذا 120 ایکڑ پر محیط دنیا کی چھوٹی ترین ریاست ویٹیکن کے سربراہ کو اتنا بڑا مقام حاصل ہونا پولیٹیکل سائنس کے طلبا کےلیے قابل مطالعہ ہے۔
پوپ کے عہدہ سے متعلق قوانین و ضوابط کے مطابق نئے پوپ کا انتخاب وہ 120 مشیر کریں گے جن کو کارڈینال کہا جاتا ہے۔ جو خالصتاً مذہبی پیشوا ہوتے ہیں۔ ان میں 80 سال سے کم عمر والے ہی ووٹ کا اختیار رکھتے ہیں۔ اور یہ تمام خود کو ویٹیکن کے اندر سیکستینتھ چیپل میں بند کر لیتے ہیں۔ نئے پوپ کے انتخاب تک وہیں بند رہتے ہیں۔ نئے پوپ کا انتخاب ہو نے پر چرچ کی چمنی میں سفید دھواں دکھا کر باہر لوگوں کو پیغام دیتے ہیں۔
موجودہ آنجہانی پوپ فرانسس شام کی خلافت اُمیہ میں پیدا ہونے والے گریگور جو 731سے لے کر 741 تک پوپ رہ چکے ہیں، کے بعد دوسرے غیر یورپی پوپ ہیں۔ ورنہ تمام پوپ یورپ سے ہی ہوتے آئے ہیں۔