اسلام آباد میں منعقدہ تارکین وطن کے کنونشن کے مقاصد اور نتائج

تارکین وطن پاکستانیوں کا جو کنونشن اسلام آباد میں منعقد کیا گیا ہے، اس کے کیا مقاصد تھے اور کیا وہ مقاصد پورے ہوں گے؟ کنونشن اور اس کے فوائد کا جائزہ لینے سے پہلے مجموعی طور پر تارکین وطن کے حوالے سے تھوڑی بات کرنا ضروری ہے۔

70 کی دہائی میں پاکستان کے نوجوانوں نے روزگار کی تلاش میں بیرون ملک کا رخ کیا۔ اس سے پہلے منگلا ڈیم کے متاثرین کی ایک بڑی تعداد برطانیہ منتقل ہو چکی تھی، لیکن زیادہ تر پاکستانیوں کو بیرون ملک کا راستہ بھٹو دور میں ملا، جب پہلی بار ملک میں شناختی کارڈ کا اجرا ہوا اور پاسپورٹ بننا آسان ہوگیا۔ بیرون ممالک روزگار کی وجہ سے پاکستان میں بالخصوص شمالی پنجاب اور آزاد کشمیر میں خوشحالی آئی۔ بیرون ملک کے اس سفر نے جہاں ہمارے ہاں خوشحالی اور خوشیوں کے در کھولے، وہی کئی سماجی بیماریوں کا راستہ بھی ہموار کیا۔ کیونکہ جب محروم طبقے میں خوشحالی آتی ہے تو پھر ان کی اصل پہچان بھی ہونے لگتی ہے۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلی پانچ دہائیوں میں شمالی پنجاب اور آزاد کشمیر کے کچے مکانوں کی جگہ پختہ مکانوں نے لے لی ہے اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی جگہ موٹر کاروں اور موٹر سائیکلوں کی قطاریں لگ چکی ہیں۔ شادیوں کی تقریبات کی رونقیں بڑھ گئیں، ختم کی محفلیں بھی بڑی ہو گئی ہیں۔ تارکین وطن پاکستانیوں کی وجہ سے ملک میں زرمبادلہ آیا جس سے ان کے اپنے خاندانوں کے ساتھ ساتھ ملک اور ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچا۔ پاکستان بھر کے بازاروں کی رونق بڑھانے میں بھی تارکین وطن پاکستانیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دیکھتے ہی دیکھتے لاتعداد خیراتی ادارے بن گئے جو دکھی انسانیت کی مدد کے دعوؤں کے ساتھ سامنے آئے ان اداروں کی آمدن کا بڑا ذریعہ بھی تارکین وطن ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے ملک کے سیاستدانوں، مذہبی راہنماؤں، پیروں، بیوروکریٹس، گلوکاروں اور اداکاروں نے بھی بیرون ملک(جہاں جہاں خوشحال پاکستانی بستے ہیں) کا رخ کر لیا اور سادہ لوح، تارکین وطن کی حب الوطنی، شان و شوکت کی خواہشات اور اونچی جگہوں پر تعلقات بنانے کی کوششوں کو خوب کیش کیا ہے۔ بہت ساری سیاسی جماعتوں نے مختلف ممالک میں اپنی اپنی ذیلی تنظیمیں قائم کیں، مذہبی گروہوں نے بھی ہر ملک میں اپنے فرقے کی تنظیم قائم کر کے اپنی آمدن کا ذریعہ بنایا۔

برطانیہ میں جہاں بھارتی تارکین وطن کی تعداد پاکستانیوں سے تقریباً دوگنی ہے لیکن بھارت کی کسی سیاسی جماعت نے اپنی کوئی ذیلی تنظیم وہاں بنائی، نہ کوئی مذہب کے نام پر گروہ پیدا ہوا۔ پاکستان کے سیاستدانوں اور مذہبی جماعتوں نے جو تنظیمیں بنا رکھی ہیں وہ صرف اپنے ذاتی مفادات کے لیے ہیں۔ ان کی تنظیموں کے عہدیداروں کا اس کے سوا اور کوئی کام نہیں کہ جب یہ سیاستدان لوگ بیرون ممالک جاتے ہیں تو وہاں ان کی جماعتوں کے عہدیدار ان کی ہر طرح کی جائز و ناجائز میزبانی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن آج تک کسی بھی حکومت یا ادارے نے تارکین وطن پاکستانیوں کے حقیقی مسائل حل کیے، نہ ان کے تجربات سے پاکستان کو کوئی فائدہ پہنچایا ہے۔ پاکستان والے اپنے تارکین وطن کو اس گائے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے جو چارہ تو دوسروں کے گھر سے کھائے اور دودھ دینے ہمارے گھر آ جائے۔

لیکن اب وقت بہت آگے بڑھ کر سوشل میڈیا سے ہوتا ہوا مصنوعی ذہانت کی دنیا میں داخل ہو چکا ہے۔ بیرون ممالک بالخصوص یورپ اور امریکہ میں تارکین وطن کی تیسری نسل بھی جوان ہو چکی ہے اور اس تیسری نسل کا پاکستان سے رشتہ کمزور ہونے لگا ہے۔ یہ نوجوان اپنی تعطیلات گزارنے ضروری نہیں کے پاکستان آئیں۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے مشاغل کے لیے کون سا ملک بہتر ہے۔

بہرحال ہم بات کر رہے تھے کنونشن کی۔ ہم تو چونکہ اس کنونشن میں مدعو نہیں تھے جس کی وجہ سے اس کے مقاصد کا بھی علم نہیں۔ لیکن بظاہر جو مقاصد ہونے چاہئیں تھے، وہ پاکستان میں نچلی سطح پر سرمایہ کاری، بیرون ملک کی بڑی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کی کوشش، پاکستان کے لیے تیکنیکی مدد کا حصول، اگر یہی مقاصد ہیں تو پھر اس کنونشن سے کچھ زیادہ امید نہ رکھی جائے۔ کیونکہ اس میں زیادہ تر وہ لوگ مدعو تھے جو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ منسلک ہیں یا کسی سیاستدان کے تعلق والے۔ یہ لوگ تو ایک طرح سے پہلے سے آزمائے ہوئے ہیں۔

اگر اس کنونشن کا مقصد تارکین وطن میں عمران خان کا اثر کم کرنا اور موجودہ حکومت اور فوجی قیادت کے لیے حمایت حاصل کرنا تھا تو پھر تو پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ مقصد 1 فیصد بھی پورا نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ سب لوگ تو پہلے ہی عمران مخالف اور دوسری جماعتوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ مجھے کنونشن میں میں آئے سب لوگوں کا علم نہیں لیکن خبروں اور تصاویر کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہے کہ یورپین ممالک میں مختلف شعبوں کی کامیاب شخصیات اس کنونشن میں نظر نہیں آئیں۔ اب یہ پتا نہیں کہ انہیں مدعو نہیں کیا گیا یا وہ آئے نہیں۔ صرف ناروے کی بات کریں تو وہاں سیاست کے بڑے ناموں میں طارق شہباز صاحب، اطہر علی صاحب، خالد محمود صاحب، ہادیہ تاجک صاحبہ، اختر چوہدری صاحب، سماجی راہنما اور اہل سنت الجماعت کے صدر چوہدری زاہد اسلم اور کئی نوجوان قابل ذکر ہیں جن میں سے کوئی بھی کنونشن میں نہیں تھا۔ کاروبار میں سید عاشر حسین صاحب، راجہ ناصر صاحب، سمیت کئی بڑے ناموں میں سے بھی کوئی نہیں تھا۔ اگر حمایت حاصل کرنے کے حوالے سے سوچا جائے تو شاعر اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ڈاکٹر سید ندیم صاحب اور نامور صحافی، کالم نگار، مدیر اور دانشور سید مجاہد علی صاحب سمیت کئی ایسے لوگ ہیں جو عمران خان کے ناقد اور موجودہ حکومت کو درست مشورے دیتے ہیں۔ ان میں سے بھی کوئی نہیں دیکھا گیا۔ جو لوگ آئے تھے ان کے متعلق بھی سنا ہے کہ بس ان کو تقاریر سنائی گئیں اور لذیذ کھانوں سے لطف اندوز کرایا گیا ہے۔ باقاعدہ کوئی اعلامیہ یا معاہدہ سامنے نہیں آیا ہے۔

تارکین وطن پاکستان کے لیے کیا کر سکتے ہیں یا پاکستانی حکومت ان سے کیسے کام لے سکتی ہے یہ پھر کسی کالم میں عرض کروں گا۔