مقبوضہ کشمیر میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 24 سیاح ہلاک
مقبوضہ کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 24 سیاح ہلاک ہوگئے۔ یہ افسوسناک واقعہ مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں ہوا جو مسلمان اکثریتی علاقے میں واقع ہے. گزشتہ ایک سال کے دوران مقبوضہ وادی میں پیش آنے والا بدترین واقعہ ہے۔
پہلگام میں موسم گرما کے دوران ہزاروں سیاح وادی کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں جب کہ حالیہ برسوں میں یہاں پر پرتشدد واقعات میں بھی کمی آئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایک سیکیورٹی ذرائع نے مرنے والوں کی تعداد 20، دوسرے نے 24 اور تیسرے ذرائع نے 26 رپورٹ کی۔ تینوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ ان کے مطابق وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔
قبل ازیں بھارتی ٹی وی چینلز نے ابتدائی طور پر اطلاع دی تھی کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور 7 زخمی ہوئے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے اپنا نام بتائے بغیر انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ فائرنگ ہمارے سامنے ہوئی۔ ہم نے سوچا کہ کوئی پٹاخے چلا رہا ہے لیکن جب ہم نے دوسرے لوگوں کی (چیخنے) کی آواز سنی تو ہم جلدی سے وہاں سے نکلے، اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے۔
ایک ٹور گائیڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ گولی چلنے کی آواز سن کر جائے وقوعہ پر پہنچے اور کچھ زخمیوں کو گھوڑے پر بیٹھا کر لے گئے جب کہ میں نے کچھ آدمیوں کو زمین پر پڑے ہوئے دیکھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مر چکے ہیں۔ انڈین ایکسپریس اخبار نے ایک سینئر پولیس افسر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ حملہ سڑک سے دور گھاس کے میدان میں ہوا اور اس میں دو یا تین مشتبہ افراد ملوث تھے۔
مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کہا ’ہلاکتوں کی تعداد معلوم کی جارہی ہے لہذا میں ابھی اس تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔ تاہم یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ حملہ حالیہ برسوں میں عام شہریوں پر کیے جانے والے حملوں کے مقابلے میں زیادہ بڑا ہے’۔
جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلگام میں سیاحوں پر بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہوں، جس میں 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب ’کشمیر ریزسٹنس‘ نامی ایک غیر معروف گروپ نے سوشل میڈیا پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ گروپ کی جانب سے جاری پیغام میں اس بات پر ناراضی کا اظہار کیا گیا کہ خطے میں 85 ہزار سے زائد ’آؤٹ سائیڈر‘ (باہر کے لوگوں) کو آباد کیا گیا ہے۔ جس سے ’ڈیموگرافک تبدیلی‘ رونما ہو رہی ہے۔
گروپ کی جانب سے کہا گیا کہ اسی وجہ سے غیر قانونی طور پر آباد ہونے کی کوشش کرنے والوں پر تشدد ہوگا۔ تاہم غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ آزادانہ طور پر اس پیغام کے ذرائع کی تصدیق نہیں کر سکا۔
مقبوضہ کشمیر کی علاقائی حکومت نے رواں ماہ قانون ساز اسمبلی کو بتایا تھا کہ گزشتہ 2 برسوں میں بھارت کے دیگر حصوں سے تقریباً 84 ہزار غیر مقامی افراد کو اس علاقے (پہلگام) میں ڈومیسائل (رہائشی حقوق) دیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ مسلم اکثریتی علاقے میں 1989 سے مسلح بغاوت جاری ہے، جس میں اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔
حالانکہ حالیہ برسوں میں تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے جب کہ سیاحوں کو نشانہ بنانے والے حملے حالیہ برسوں میں کم ضرور ہوئے ہیں، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ سیاحوں پر آخری بڑا حملہ جون 2023 میں ہوا تھا جب ایک بس پر حملے کے بعد وہ گہری کھائی میں جا گری تھی، جس میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے تھے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے پیچھے جو بھی ہیں، انہیں کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔ انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ مودی کا کہنا تھا کہ ان کا شیطانی ایجنڈا کبھی کامیاب نہیں ہوگا اور دہشت گردی کے خلاف ہماری عزم متزلزل نہیں بلکہ اور مضبوط ہوگا۔
مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے سے متعلق بھارتی میڈیا کی جانب سے من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ اور کسی ثبوت کے پاکستان کے خلاف زہر اُگلا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والا یہ بدترین واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب نائب امریکی صدر ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں۔