وزیراعلیٰ صاحبہ! کتابوں کا لنڈا بازار بچایئے

پنجاب کی تاریخ میں مریم نوازشریف کا وزیراعلیٰ منتخب ہونا ایک تاریخی واقع ہے۔ 13/14 مہینوں  کے دوران پنجاب میں تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے حکومت پنجاب جو کچھ کررہی ہے وہ مریم نوازشریف کے ویژن اور قائدانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے ایسے لگتا ہے کہ وہ ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں۔ پنجاب کے عوام کے دلوں میں گھر کر رہی ہیں۔

اس سے پہلے محمد شہبازشریف اور محمد نوازشریف صوبے کے عوام کی خدمات کے ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ مریم نواز کے سامنے کارکردگی کے حوالے سے اعلیٰ مثالیں موجود ہیں۔ آزمودہ بیورو کریسی اور مسلم لیگ(ن) لیگ کے وابستگان اور سب سے اہم نواز شریف کے جیالوں کی موجودگی ایسے موافق عوامل ہیں جن کے ساتھ مریم نواز چل رہی ہیں اور اپنے ویژن کو اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے عملی شکل دے رہی ہیں۔تجاوزات کا خاتمہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے لاریب یہ ایک اچھا کام ہے تجاوزات کی بھرمار نے بہت سے سماجی مسائل بھی پیدا کئے۔ تجاوزات ٹریفک حادثات کا باعث بھی بنتی ہیں۔ ٹریفک کا بہاؤ بھی متاثر ہوتا ہے سب سے اہم کاروباری و تجارتی سرگرمیوں میں نظم و نسق کی بجائے ہنگامہ خیزی اور تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ عامتہ الناس کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ تجاوزات کے خاتمے کی مہم بڑی کامیابی سے جاری ہے اور اس کے اثرات بھی مرتب ہونا شروع ہو چکے ہیں۔بازاروں،سڑکوں اور عوامی اجتماع کی جگہوں سے ناجائز تعمیرات اور عارضی و مستقل تجاوزات کے خاتمے سے کھلے پن کا اظہار ہونے لگا ہے۔ جہاں بے ہنگم شور شرابا اور رش ہوتا تھا۔ ٹریفک کے بہاؤ میں دقت ہوتی تھی، عامتہ الناس کو چلنے، پھرنے، خریداری میں دقت ہوتی تھی، اب وہاں معاملات میں نظر آنے والی بہتری ہو گئی ہے۔ تجاوزات کی مہم کو آخری تجاوزات کے خاتمے تک جاری رہنا چاہیے۔ ویلڈن میڈم چیف منسٹر پنجاب، لیکن؟

انارکلی۔ مال روڈ۔ سروس لینز پر ہر اتوار لگنے والا پرانی کتابوں کا لنڈا بازار جسے کچھ لوگ عارضی بک فیئر بھی کہتے ہیں، ہرگز ہرگز ایسی تجاوزات کی مد میں نہیں آتا کہ اسے بھی دیگر تجاوزات کی طرح تہس نہس کر دیا جائے۔انتہائی محترم وزیراعلیٰ پنجاب صاحبہ: آپ کے کئی اچھے کاموں کی پیروی دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کر رہے ہیں۔ آپ نے تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کے کئی ایسے کام کئے ہیں جس سے عامتہ الناس کی بہتری کے نئے ٹرینڈ سیٹ ہورہے ہیں ایک صوبے نے تو مریم نواز صاحبہ کے ایک تاریخی پروگرام سے متاثر ہوکر ویسا ہی منصوبہ اپنے صوبے میں شروع کیا اور اسے تاریخی کہنا شروع کر دیا۔ تعمیر و ترقی کا جو ٹرینڈ آپ سیٹ کر رہی ہیں۔ دیگر صوبوں کے لئے اب کوئی دوسرا راستہ بچا ہی نہیں ہے کہ وہ بھی وہی کچھ کریں جو پنجاب میں ہو رہا ہے اور ویسے ہی کریں جیسے آپ کی سربراہی میں کیا جا رہا ہے۔ آپ کی کارکردگی کے بارے میں کسی کو شک نہیں ہے۔ آپ کی قائدانہ صلاحیتیں اظہر من الشمس ہیں۔

ہر اتوار کے دن انارکلی مال روڈ کی دو سروس لینز پر عارضی طور پر قائم کئے جانے والا کتابوں کا لنڈا بازار ہے جسے سرکاری عمال تجاوزات کے خاتمے کی آڑ میں تباہ و برباد کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔یہاں ہر اتوار کتب فروش جو زیادہ تر کباڑیئے ہوتے ہیں،  وہ ردی میں خریدی گئی کتب و رسائل اور مخطوطات وغیرہ سجاتے ہیں۔سائیڈ سڑک پر دکانیں سج جاتی ہیں۔ شائقین جوق در جوق یہاں چلے آتے ہیں۔ گرمی ہو یا سردی، سورج غروب ہونے تک یہاں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے ۔وگرنہ حالاتِ زمانہ نے لوگوں کی قوت خرید سلب کر رکھی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی خریداری مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ کتب بینی کا رجحان ویسے بھی زوال پذیر ہے۔ ناشروں اور پبلشروں کی ہوس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ نئی کتب اس قدر مہنگی ہو چکی ہیں کہ عام کیا خاص آدمی کی پہنچ سے بھی دور ہو گئی ہیں۔ سمارٹ فون، سوشل میڈیا نے کتب بینی کے رجحان پر ضرب لگائی ہے ایسے میں کتابوں کے لنڈا بازار کی بیخ کنی معاملات میں بگاڑ پیدا کرے گی۔ کوئی بھی قوم علم اور ہنر کے بغیر تعمیر و ترقی نہیں کر سکتی۔ علم کا مستند ذریعہ ابھی تک کتاب ہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی، جہاں علم کے دیگر ذرائع انتہائی ترقی یافتہ شکل میں رائج ہو چکے ہیں۔ کتاب ابھی تک بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ ترقی کرتی ہوئی اقوام اپنے نوجوانوں میں پڑھنے اور سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ ہم ویسے بھی اس دوڑ میں خاصے پیچھے ہیں۔ ہمارے ہاں سکول، کالج اور یونیورسٹیاں تو دھڑا دھڑا کھل رہی ہیں لیکن علم و ہنر میں ہم ابھی تک خاصے پیچھے ہیں اس کی بے شمار وجوہات ہیں، ایک بڑی وجہ پڑھنے لکھنے کے رجحان میں کمی ہے۔

عوام کی نبض شناس وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ اگر کتابوں کا یہ لنڈا بازار آپ کی تجاوزارت کے خلاف مہم جوئی کا شکار ہو گیا تو یقین جانیے یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہوگا۔ ایک ایسے انسٹیٹیوشن کا قتل ہوگا جو تاریخی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے اس کے ہماری نوجوان نسل کی تربیت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ایک بات، آپ تاریخی کام کررہی ہیں۔ عوام میں آپ کی پذیرائی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ آپ اگر اس لنڈا بازار کو منظم شکل دے دیں اسے ایک ایسی جگہ بنادیں جو عام افراد کیلئے ٹورسٹ سپاٹ بن جائے۔ کتب کی خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ ایک تفریح، علمی تفریح کا ذریعہ بن جائے، عام لوگ بھی یہاں کھنچے چلے آئیں جس طرح پورے پاکستان سے آنے والے لوگ یہاں اورنج ٹرین میں بیٹھ کر سفر کرنا تفریحاً پسند کرتے ہیں ،اسی طرح اس جگہ کو، اس لنڈا بازار کو اس طرح منظم کیا جائے کہ یہ پُرکشش جگہ بن جائے۔

مال روڈ پر اتوار کے دن بیڈن روڈ کی نکر والی جگہ سے گزرنا مشکل ہوتا ہے لوگ آئس کریم، برگر، دہی بھلے کھانے کے لئے، تفریح کے لئے آئے ہوتے ہیں۔ اگر انارکلی کتابوں کے لنڈا بازار کو کچھ اس طرح منظم کیا جائے کہ یہ تفریح کا ذریعہ بھی بن جائے۔ ٹورسٹ سپاٹ بھی بن جائے تو اس کی دھوم پورے پاکستان میں پھیل جائے گی۔ ادیب، شاعر، لکھاری سب یہاں آتے رہتے ہیں۔ وہ سب اس بارے میں لکھیں گے۔ آپ کی کاوش کو سراہیں گے۔ اس طرح اس لنڈا بازار کے انصرام کے باعث آپ تاریخ میں ایک منفرد اور علم دوست وزیراعلیٰ کے طور پر جانی جائیں گی۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)