نہیں ہے اقبال ناامید

اقبال صرف ایک آ فاقی شاعر ہیں نہیں بلکہ رجائیت پسند بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کو درپیش گھمبیر مسائل اور مایوسی کے ماحول میں بھی شاعر مشرق علامہ اقبال کی شاعری امید کے جگنووں کی طرح بھٹکے ہوؤں کو راستے میں روشنی دکھانے اور منزل تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہتی ہے۔

اقبال کے ہا ں فلسفہ خودی بھی بہت نمایاں ملتا ہے۔ آ ج ہم معاشی مسائل کے لئے کشکول لئے ہر جگہ گھومتے پھرتے ہیں اور اقبال یہ کہتا نظر آ تا ہے کہ:
تو جھکا جب غیر کے آ گے نہ من تیرا نہ تن
اسی خودی کو بلند رکھنے کو ہی اقبال خدا کی رضا قرار دیتا ہے۔ آ ج عالم اسلام مغرب کی استعماریت اور طاغوتی قوتوں کے حصار میں ہے۔ مسلمانوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ کشمیر، فلسطین اور غزہ کے مسلمانوں کی چیخ و پکار نقار خانے میں طوطی کی آ واز بن کر رہ گئی ہے۔ ایسے میں اقبال کے دل میں شدت سے یہ خواہش ابھرتی ہے کہ:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر

اقبال کا پیغام سارے زمانوں کے لئے ہے گویا ہمارے مجودہ مسائل اور الجھے ہوئے تمام دراز سلسلوں کا سلجھاؤ کلام اقبال میں چھپا ہے۔ اقبال کا مر د مومن ایک مرد کامل ہے جسے فرنگ اور یورپ کی روشنی متاثر نہیں کر سکتی۔ اقبال سچے عاشق رسول تھے۔ اور سمجھتے تھے کہ عشق مصطفی کی روشنی ہی ایسا چراغ ہے جو اندھیرے جو اجالے میں بدل سکتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے کہا کہ:
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے

آ ج عشق رسول اور اسوہ حسنہ ہی ہمارے ظاہری اور باطنی مسائل کا حل ہے۔
ہم ایک بے حس قوم کی حثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ہر طرف خون مسلم کی ارزانی ہے۔ مگر ہمیں اس پر کوئی پشیمانی نہیں ہے۔ جس تہذیب کے بارے میں کہا گیا کہ:
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آ پ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آ شیانہ بنے گا وہ ناپاییدار ہوگا
وہی تہذیب آج مظبوطی سے اپنے قدم جما کر پورے عالم میں فتنہ برپا کئے ہوئے ہے۔ اور ہم سب اس کی تقلید اور پیروی میں لگے ہوئے ہیں۔

آ ج ہم محض ملی اور قومی نغموں کی گونج اور اہنے اسلاف کے ایام منا کر سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے فرائض سے عہدہ برا ہو گئے ہیں۔ قومیں اس طرح نہیں بنتیں۔ اپنے اسلاف کے فرمودات اور ان کی روایات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا پڑتا ہے۔ آ ج ہم ذاتی مفادات کے غلام بن کے رہ گئے ہیں۔ اس لیے قومی اور اجتماعی مفادات کو بس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اقبال کے نظریہ خودی کی بجائے ہم نے خود ہی سے نظریہ ضرورت ایجاد کر لیا ہے۔

پاکستان ایک نظریے کی بنیاد ہر وجود میں آ یا جو لاالہ کی بنیاد پر قائم ہوا۔
آ ج ہمیں اسی نظریے پر قائم رہنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔
ترقی یافتہ ممالک نے اقبال کے کلام کو منشور کا درجہ دے رکھا ہے۔ اور ہم نے اپنے منشور کو ترامیم کے ذریعے موم کی ناک بنا لیا ہے کہ جب اور جہاں جیسا چاہا موڑ لیا۔ اقبال نے نوجوان کو شاہین کہا اور اس نوجوان سے پوچھا بھی کہ:
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا توجس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارہ
اور پھر خود ہی جواب دیا کہ:
تجھے آ با سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
وہ کردار تو گفتار تو ثابت وہ سیارہ

ہماری اسی نوجوان نسل سے ہم سب کی امیدیں وابستہ ہیں کہ ان کے ناتواں کاندھوں پر مستقبل کا بوجھ پڑنا ہے مگر ہماری نسل نے نئی نسل کو سوائے پریشانی اور مسائل اور مایوسی کے کچھ نہیں دیا۔ ان کی تعلم و تربیت کا فریضہ صحیح سے انجام نہیں دیا۔ مگر اس کے باوجود اقبال اپنی نسل نو سے مایوس اور ناامید نہیں ہے۔ وہ اسے قصر سلطانی کے گنبد کی بجائے شہباز کی طرح پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرنے کا مشورہ دیتا ہے کیونکہ:
گرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

اسی لئے تو ہمارا آفاقی شاعر اقبال کہتا ہے کہ:
ستاروں سے آ گے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آ شیاں اور بھی ہیں

ستاروں سے آ گے کے جہانوں کی خبر علامہ اقبال جیسا آ فاقی شاعر ہی دے سکتا ہے۔ شکوہ اور جواب شکوہ میں اقبال نے انسانی جبلت اور انسانی فلسفے کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ اقبال کی شاعری اور یوم اقبال ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم اہنے اسلاف کے بھولے ہوئے سبق کو پھر سے یاد کریں اور ان کی اقدار پر عمل پیرا ہو کے ایک زندہ اور پائندہ قوم ہونے کا ثبوت دیں کیونکہ:

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی