پہلگام کا دلخراش سانحہ اور اس کے مضمرات

سری نگر سے سو کلومیٹر دور پہلگام، انڈین کشمیر کے ضلع انت ناگ کی تحصیل اور خوبصورت سیاحتی مقام، یہاں سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر خوبصورت ترین وادی ”بائی سرن“ ہے۔ جہاں پیدل یا گھوڑوں اور خچروں پر پہنچاجاتا ہے۔

کشمیر میں ہندوؤں کے مقدس مقام امرناتھ غار یا مندر تک پہنچنے کا راستہ بھی یہیں سے گزرتا ہے۔ 3جولائی کو امرناتھ یاترا کے لیے ہزاروں یاتری یہیں سے گزر کر جاتے ہیں۔ بی بی سی نے عینی شاہدوں سے جو معلومات حاصل کی ہیں، ان کے مطابق بائیس اپریل کی دوپہر یہیں پر سرسبزو شاداب قطعہ زمین میں ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سیاح گھوم پھر رہے تھے کہ اچانک نمودار ہونے والے تین مسلح باوردی دہشت گردوں نے سیاحوں کو گھیرتے ہوئے ان کی شناخت معلوم کی اور ہندو ثابت ہونے پر انہیں گولیاں مارنا شروع کردیں۔ البتہ بچوں اور خواتین کو نہیں مارا گیا۔ یوں بیس منٹ میں ستائیس بے گناہ انسان جن میں دو غیر ملکی تھے گولیوں سے بھون ڈالے گئے۔ پندرہ زخمی ہوئے، بیشتر چھٹیاں یا ہنی مون منانے یہاں آئے ہوئے تھے۔ ایک خاتون جس کے خاوند کو یوں قتل کیا گیا تھا اس نے روتے ہوئے دہشت گردوں سے کہا کہ مجھے بھی ساتھ ہی مار ڈالو تو اُسے کہا گیا کہ نہیں تم جاکر مودی کو یہ سب بتادینا۔ ایک خاتون پلوی نے سسکیاں لیتے ہوئے بتایا کہ میرے شوہر نے میرے سامنے جان دے دی۔ میں نے بہت منت سماجت
 کی لیکن میں اپنے جیون ساتھی کو نہ بچا سکی۔

ایک مقامی کشمیری مسلمان حسین شاہ نے سیاحوں کو بچانے کی کوشش کی تو خود بھی مارا گیا۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لشکر طیبہ کے ذیلی گروپ دی ریزسٹنس فرنٹ نے اس ”کارنامے “ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مرنے والوں میں مہاراشٹر، گجرات، کیرالہ، مغربی بنگال، ہریانہ اور اترپردیشن کے علاوہ ایک نیپالی اور ایک متحدہ امارات سے آئے ہوئے سیاح تھے۔ عام کشمیریوں نے اس پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے کہ ان کی اجڑی زندگیوں میں سیاحت کی وجہ سے جو بہتری آرہی تھی ایک مرتبہ پھر اس کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں بتایا تھا کہ اس سال 2025 میں دو کروڑ تیس لاکھ سیاح سیاحت کے لیے یہاں آچکے ہیں اور یہ تعداد مزید بڑھتی چلی جارہی ہے۔ گرمیوں میں اس کا عروج ہوتا ہے۔

سری نگر میں سیکیورٹی ایجنسیز نے پہلگام حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کے خاکے شائع کیے ہیں۔ اس وقت پوری وادی میں دہشت گرد قاتلوں کو پکڑنے کے لیے سرچ آپریشن کیے جارہے ہیں تاہم بائی سرن میں سیکیورٹی غفلت کو واضح طور پر ملاحظہ کیاجاسکتا ہے۔ جب وہاں سیاحت کے لیے ہزار ڈیڑھ ہزار لوگ پھیلے ہوئے تھے تو سیکورٹی کے لیے کسی نوع کا کوئی اہتمام کیوں نہ تھا؟ سی سی ٹی وی کیمرے تک موجود نہ تھے۔ حملے کے دوران جو بھگدر مچی اس میں کئی مقامات پر بھاگنے والوں کی اشیا اور جوتے وغیرہ بھی کیچڑ میں گرے ملے ہیں۔ پوری وادی میں لوگ سہمے ہوئے ہیں، ہوٹل خالی ہوچکے ہیں اور مختلف خطوں سے کشمیر آئے ہوئے سیاح بھاگ گئے ہیں۔ جنہوں نے بکنگ کروارکھی تھیں وہ سب کینسل ہوچکی ہیں۔ پورے بھارت میں عمومی طور پر کہیں یہ کہاجارہا ہے کہ یہ ہمارا سات اکتوبر ہے تو کہیں چھبیس گیارہ ممبئی حملوں سے تشبیہ دی جارہی ہے۔

سانحہ پہلگام کے وقت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس انڈیا یاترا پر موجود تھے جبکہ پرائم منسٹر مودی سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ لیکن خبر ملتے ہی وہ اپنا دورہ ادھورا چھوڑتے ہوئے ترنت بھارت پہنچے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے فون پر انہیں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکا پوری مضبوطی سے انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔ سعودی عرب نے بھی شدید ترین الفاظ میں اس دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے انڈین پرائم منسٹر کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے کہ ان مشکل لمحات میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ روسی اور چینی صدور نے بھی اس سانحہ کی مذمت کی ہے اور پیوٹن نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسےسنگین جرائم کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔ یو این سیکرٹری جنرل سے لے کر یورپین یونین تک ہر جگہ اس غیر انسانی حملے کی مذمت کی جارہی ہے۔

سانحہ پہلگام کی ہولناکی اس لیے زیادہ ہے کہ اس میں سیدھے نہتے اور معصوم انسانوں کو مارا گیا ہے جو کسی جنگی مشن پر نہیں تھے بلکہ اپنی فیملیوں کے ساتھ خوشیاں منانے سیاحت پر نکلے ہوئے تھے۔ جن کا کسی عسکری نوعیت کی سرگرمی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اور پھر خصوصی ٹارگٹ بنا کر ہندوؤں کو چنتے ہوئے مذہبی منافرت کا ننگا اظہار کیا گیا ہے۔ 2016 میں اڑی کے مقام پر جو حملہ ہوا تھا اس میں مرنے والے سولہ افراد فوجی تھی۔ 2019 کے پلوامہ حملے میں بھی چالیس فوجی مارے گئے تھے۔ جبکہ یہ حملہ تو  معصوم انسانوں پر تھا جس سے اس کی سنگینی کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

اس سانحہ کی کڑیاں جدھر بھی ملتی ہیں حتمی و یقینی طور پر تو کوئی فیصلہ نہیں سنایا جاسکتا۔ مانا کہ بھارت سمیت پوری دنیا میں اس سانحہ کے خلاف غم و غصہ ہے یا اس کا سوگ منایا جارہا ہے۔ انڈیا میں گراس روٹ لیول تک اس کے خلاف سخت جذبات بھڑکے ہوئے ہیں۔ لیکن انڈین ذمہ داران نے جس شتابی سے پاکستان کو ٹارگٹ کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت اقدامات اُٹھائے ہیں اسے جذباتی ردِ عمل ہی قراردیا جاسکتاہے۔ آخر اس سے خود بھارت کو حاصل کیا ہوگا؟ مثال کے طور پر آپ نے اٹاری یا واہگہ بارڈر بندکردیا ہے یا پاکستانیوں کو کہا ہے کہ وہ اڑتالیس گھنٹے کے اندر اندر انڈیا سے نکل جائیں یا تمام ویزے منسوخ کردیے گئے ہیں یا سفارتی عملہ پچپن سے گھٹا کر تیس کردیا گیا ہے یا کوئی پاکستانی سارک ویزے پر بھی انڈیا نہیں آسکے گا۔ تو اس سے بھارت کو کیا فائدہ اور پاکستان کو کیا نقصان ہوجائے گا؟ کیا بشمول مودی جی کسی انڈین نیتا نے ایسے جذباتی فیصلے سے قبل اس کے متعلق سوچا؟

ظاہر ہے جوابی طور پر یہ تمام اقدامات اسی راگ میں پاکستان نے بھی الاپ دیے ہیں۔ کیا آپ نے سوچا اس سب سے خوشی کس طبقے کو ہوگی؟ جن کے سینوں میں صدیوں کی نفرت دبی ہوئی ہے اور جو اسی ابدی منافرت کے تحت یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا میں کسی نوع کے تعلقات ان کی خطرناک آئیڈیالوجی کے لیے باعثِ موت ثابت ہوں گے، مودی جی اس شتابی میں کیا آپ نے منافرت کے انہی سوداگروں کے ہاتھ مضبوط نہیں کردیے ہیں؟

ہاں البتہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی ضرور پاکستان کے لیے سیریس تھریٹ ہے جو ہمارے کھیتوں کھلیانوں کو بنجر بناسکتی ہے۔ لیکن اس سے ہمارے عسکری لوگوں کی بجائے کسانوں کی تباہی ہوگی۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے عوام اور کسان تو اپنے اندر دھرم کے نام پر کوئی منافرت نہیں رکھتے۔ وہ تو انڈیا دشمنی نہیں دوستی کے خواستگار ہیں۔ پھر انہی کو تباہ کرکے، کیا آپ اپنے دوستوں کو مارنا چاہتے ہیں؟ یہ بھی واضح رہے کہ اس معاہدے کی منسوخی انٹرنیشنل لا کے تحت خاصی مشکل اور پیچیدہ ہوگی۔ نیز یہ بھی کہ بھارت ہمارے تینوں دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کا اسی فیصد پانی روک کر اتنے زیادہ پانی کا کیا کرے گا؟ خصوصاً مون سون کے دنوں میں بھارت کے لیے اتنا پانی سنبھالنا خود بڑا مسئلہ ہوگا۔ اتنے بڑے ڈیمز اتنی شتابی میں بنانا آخرکس طرح ممکن ہوسکتے ہیں؟ اور پھر دونوں قوموں میں منافرت ہمارے کسی غیر ذمہ دار ذہن کی آئیڈیالوجی تو ہوسکتی ہے، انسانی وچاروں کے کسی بھی پرچارک کی ایسی سوچ کیسے ہوسکتی ہے؟ یہ اقدامات اٹھا کر کیا آپ خود ایسی ہی جنونی ذہنیت کو بڑھاوا نہیں دیں گے؟

آپ کا دیش ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت اور بڑی عالمی معیشت ہے۔ اس نوع کی دلدل میں داخل ہوکر کیا آپ اپنی ترقی کا وہ سفر جاری رکھ سکیں گے؟ آج انسانی شعور پر یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتی ہیں۔ کیا آپ اپنے ملک اور پورے خطے کے انسانی دکھوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں یا انہیں بڑھاوا دینا؟ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ تباہی و بربادی کے بیوپاری خود آپ کے ایک ارب چالیس کروڑ عوام کو جس کھائی میں پھینکنا چاہتے ہیں، کیا آپ خود ان کے بہکاوے اور چنگل میں نہیں آگئے ہیں؟

بجائے انہیں اپنی وکٹ پر کھلانے اور آؤٹ کرنے کے، کیا آپ ان کے خطرناک ایجنڈے کی مطابقت میں پھنسنے کے لیے آمادہ نہیں ہو گئے ہیں؟ آپ اپنے ذمہ دار و ذہین لوگوں کو ساتھ بٹھا کر شتابی میں اٹھائے گئے اقدامات کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لیجئے اور اپنی جدوجہد سفارتی و تجارتی ذرائع سے کیجئے۔ راھول گاندھی کی ساری باتیں غلط نہیں ہیں۔ کشمیر جیسے اتنے حساس ایشو پر جس سیکیورٹی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر اس کا سدباب کریں۔ اپنے لوگوں کے جیون کی حفاظت کسی اور کی نہیں خود آپ کی ذمہ داری ہے۔ اس میں کوتاہی کا تدارک کسی اور نے نہیں خود آپ نے کرنا ہے۔