دہشت گرد گروہوں کی اعانت سے دست برداری کا دو ٹوک اعلان کیا جائے
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 25 / اپریل / 2025
پاکستانی سینیٹ میں منظور کی گئی قرار داد میں مقبوضہ کشمیر کے مقام پہلگام میں دہشت گردی کے وقوعہ کی مذمت کی گئی ہے تاہم واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان پر اس کا الزام لگانا قابل مذمت ہے۔ بھارت نے اگر کسی قسم کی جنگی کارروائی کی کوشش کی تو اس کا مؤثر جواب دیاجائے گا۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی متعدد فورمز پر بات کرتے ہوئے بھارت کو جارحیت سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
سینیٹ کی قرار داد ان معنوں میں حوصلہ افزا ہے کہ اس میں پاکستان کی طرف سے پہلگام سانحہ پر پہلی بار مذمت کا اظہار سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے وزارت خارجہ کے ترجمان یا قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا تھا۔ البتہ اب ملکی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی قرار داد میں اسے دہشت گردی کا واقعہ تسلیم کرکے اس کی مذمت کی گئی ہے۔ حکومت پاکستان کو پہلگام حملہ کی اطلاع ملتے ہی اس کی مذمت کرنی چاہئے تھی اور اس کے لیے دو روز بعد سینیٹ کی قرار داد میں اظہار مذمت کا انتظار نہیں کرنا چاہئے تھا۔
یوں تو اظہار مذمت سے کسی سانحہ میں ضائع ہونے والی جانیں واپس نہیں آسکتیں اور اس قسم کے بزدلانہ حملہ سے ہونے والے نقصان کا بھی تدارک نہیں ہوسکتا لیکن کسی ملک میں دہشت گردی کے کسی واقعہ کے بعد اس کی مذمت کرنے سے کوئی حکومت اپنی یہ پوزیشن واضح کرتی ہے کہ وہ ایسے ہتھکنڈوں کو ناجائز اور غیر اخلاقی سمجھتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات کی نوعیت پیچیدہ اور مشکل رہی ہے۔ اسلام آباد میں کسی ایسے موقع پر بیان مرتب کرنے والے ماہرین یہ جائزہ لینا ضروری سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ایسے ہی کسی موقع پر بھارتی لیڈروں نے کیا طریقہ اختیار کیا تھا ۔ پھر سیاست دانوں کو ویسا ہی رویہ اپنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ پہلگام حملہ کے بعد پاکستانی ردعمل میں بھی اسی حساب کتاب کا عکس محسوس کیاجاسکتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم یاکسی دوسرے اعلیٰ عہدے دار کی طرف سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی پر کبھی واضح مذمت کا اظہار نہیں ہوتا۔ خاص طور سے مارچ کے اوائل میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کے بعد یہ خاموشی نوٹ کی گئی تھی۔ اسی لیے اسلام آباد کا رد عمل بھی اسی تناظر میں ناپ تول کر سامنے آیا ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم شہباز شریف کو مسلمہ سفارتی کلیے کو نظر انداز کرکے انسان دوستی کے ناتے پہلگام سانحہ کے بعد فوری مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت و عوام کے ساتھ واضح اظہار ہمدردی کرنا چاہئے تھا۔ ایسا بیان سامنے آنے کی صورت میں شاید بھارتی حکومت کو بھی پاکستان کے خلاف اقدامات کرنے اور بالواسطہ طور سے پاکستان پر اس حملہ کا الزام عائد کرتے ہوئے خاص طور سے سوچنا پڑتا۔
یہ کہنا تو مشکل ہے کہ نریندر مودی کی حکومت اور ان کا حامی یک طرفہ پروپیگنڈا کا ماہر بھارتی میڈیا پاکستان کی واضح مذمت کے بعد عقل کے ناخن لیتا اور اس کا رویہ مختلف ہوتا۔ لیکن یہ بہرحال یقین کیا جاسکتا ہے کہ اس طرح پاکستان کی اخلاقی پوزیشن مستحکم ہوتی اور دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں پاکستانی حکومت کی فوری مذمت کو نوٹ کیا جاتا۔ اس میں تو کوئی شبہ نہیں ہے کہ مودی حکومت سیاسی مفادات کے لیے جیسے ملکی اقلیتوں کو نشانہ بناتی ہے، بعینہ پاکستان پر الزام تراشی بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ اسی سال اکتوبر/نومبر میں بھارتی ریاست بہار میں انتخابات ہونے والے ہیں جہاں کامیابی کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کو کسی سیاسی نعرے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی کارکردگی اور ناکامیوں پر سوال نہ اٹھائے جاسکیں اور وہ یہ انتخاب جیت لے۔ پہلگام سانحہ کے بعد بھارتی حکومت اور مودی نواز میڈیا نے پاکستان کے علاوہ کشمیریوں کے خلاف مہم جوئی کا اآغاز کیا ہے۔ اس کی روشنی میں یہ سمجھنا دشوار نہیں ہے کہ نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی اس معاملہ کو سیاسی طور سے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی حساسیت کی بنا پر حکومت پاکستان کو بہت جلددہشت گردی کے اس واقعہ سے خود کوالگ کرلینا چاہئے تھا جس کا سب سے بہتر طریقہ اعلیٰ سیاسی قیادت کی طرف سے مذمت اور بھارتی عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار ہوسکتا تھا۔ پاکستان نے البتہ صرف افسوس کرنے اور مرنے والوں سے ہمدردی ظاہر کرنا ہی کافی سمجھا ۔ یوں مودی کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا غیر ضروری موقع مل گیا۔ تاہم اب سینیٹ کی قرار داد میں اس واقعہ کی مذمت ایک راست اقدام ہے ۔ اگرچہ یہ مذمت تین دن تاخیر سے کی جارہی ہے لیکن اس طرح پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی پوزیشن واضح کرنے میں کامیاب ہوگا۔ حکومت اور سینیٹ کا یہ مؤقف بہر حال واضح اور قابل فہم ہونا چاہئے کہ ایک متنازعہ علاقے میں ہونے والے ایک سانحہ کے بعد اگر بھارتی حکومت پاکستان کو ’سزا‘ دینے کے لیے کسی مہم جوئی کا اقدام کرتی ہے تو اس کا ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے گا۔ کوئی خود مختار ملک کسی بھی ملک کی دھمکیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈال سکتا اور نہ ہی بھارت کو اس گمان میں رہنا چاہئے کہ وہ پاکستان کو دباؤ میں لا کر کوئی سفارتی سہولت حاصل کرلے گا۔ یا پاکستان اسے اپنی سرزمین پر حملہ کرنے کی اجازت دے گا تاکہ مودی اپنے انتہاپسند حلقہ انتخاب کو خوش کرسکیں۔ بھارتی حکومت کی اس غلط فہمی کو سینیٹ قرار داد میں یہ کہتے ہوئے دور کیا گیا ہے کہ ’پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کسی نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا‘۔ ایک خود مختار ملک کے طور پر سینیٹ کا یہ مؤقف جائز اور نپا تلا ہے۔
تاہم اس معاملہ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کے ساتھ وزیر دفاع خواجہ آصف کے انٹرویو کے دوران زیر بحث آیا۔ پاکستانی وزیر دفاع نے بجا طور سے واضح کیا کہ اگر ایٹمی صلاحیت کے حامل دو ملکوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو یہ صرف اس خطے ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے باعث تشویش ہونی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بات چیت کے ذریعے بھارت کے ساتھ تمام متنازعہ مسائل حل کرنے کی پیش کش کی جو موجودہ حالات میں متوازن اور ہوشمندانہ طرز عمل ہے۔ بھارتی حکومت دہشت گردی کو عذر بنا کر پاکستان کے ساتھ تعلقات محدود کرنے اور مذاکرات سے انکار کی حکمت عملی پر عمل کرتی رہی ہے۔ البتہ اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام کے بعد سے پاکستان نے بھی بات چیت سے انکار کیا ہے۔
اس انٹرویو کے دوران اینکر نے خواجہ آصف سے سوال کیا کہ تاریخی طور سے پاکستان دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ اینکر کا مؤقف تھا کہ پہلگام سانحہ کے بعد بھی بھارتی لیڈروں کو ماضی میں پاکستانی حکومتوں کے اس طرز عمل کی وجہ سے پاکستان کی طرف انگلی اٹھانے کا موقع ملاہے۔ وزیر دفاع نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ پاکستان یہ ’ڈرٹی گیم‘ تیس سال تک امریکہ اور برطانیہ سمیت اس کے حلیف ملکوں کے لیے کرتا رہا ہے۔ اور اس کی بھاری قیمت بھی ادا کی ہے۔ اینکر نے اس بھارتی مؤقف کے حوالے سے بھی سوال کیاکہ لشکر طیبہ کے ایک ذیلی گروہ نے پہلگام میں دہشت گردی کی ہے۔ تاہم خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ لشکر طیبہ نام کی کوئی تنظیم اب موجود نہیں ہے۔ یہ ماضی کا قصہ ہے۔ جب یہ تنظیم ہی موجود نہیں تو اس کا ذیلی گروہ کہاں سے پیدا ہوجائے گا۔ تاہم خواجہ آصف کی طرف سے پہلگام واقعہ کو’ فالس فلیگ آپریشن ‘قرار دینے کی طرح، لشکر طیبہ کے کردار کے بارے میں وضاحت بھی کوئی پائیدار تاثر نہیں چھوڑ سکی۔ خواجہ آصف کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کہ وہ کس بنیاد پر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ پہلگام میں حملہ بھارتی حکومت نے خود ہی کرایا تھا۔
پاکستانی وزیر دفاع نے تیس سال تک امریکہ اور اس کے حلیف ملکوں کی ’پراکسی ‘ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو ٹالنے کی کوشش ضرور کی لیکن پاکستان نے افغان جنگ میں امریکی حلیف کا جو کردار ادا کیا تھا ، اس کا مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ امریکہ یا کسی دوسرے ملک نے پاکستان کو بھارت میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا مشورہ نہیں دیا تھا۔ یہ حکمت عملی بلاشبہ افغان جنگ ہی کے تناظر میں اختیار کی گئی تھی لیکن اس کی تمام تر ذمہ داری پاکستان ہی پر عائد ہوتی ہے۔ یہ خوش آئیند ہے کہ ملکی وزیر دفاع بالواسطہ طور سے ہی سہی لیکن ماضی قریب میں لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے گروہوں کی سرپرستی کا اعتراف کرتے ہوے بتا رہا ہے کہ اس غلطی سے پاکستان کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
خواجہ آصف کی طرف سے ماضی کی غلطیوں کے اس اعتراف کے بعد یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ پاکستانی حکومت سرکاری طور سے بیرون ملک ہونے والی کسی بھی دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرے اور واضح کیا جائے کہ آج کی حکومت اور پاکستان پر امن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے ۔اور جنگ جو گروہوں کے ذریعے بھارت کے سیاسی فیصلوں پر اثار انداز ہونے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔ ایسا دو ٹوک اعتراف اور شدت پسندی سے لاتعلقی دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔