جنگ اور امن میں انتخاب کی گھڑی

منگل کے روز جموں کشمیر کے شمال مشرقی علاقے پہل گام میں نامعلوم افراد نے سیاحوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کر دی۔ دہشت گردی کے اس واقعے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو غیر ملکی شہریوں سمیت 28 افراد مارے گئے۔

حالیہ برسوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد متنازع علاقے میں یہ ایک بڑا واقعہ ہے۔ بھارتی حکومت نے بغیر کسی تصدیق یا دستاویزی ثبوت کے حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کر دی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعدد اقدامات کا اعلان کیا۔ سندھ طاس معاہدے کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔ تمام پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کر کے ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ متعدد پاکستانی سفارت کاروں کو ناپسندیدہ قرار دے دیا۔ امریکا اور روس نے فوری طور پر بھارتی موقف کی حمایت کی ہے جبکہ چینی ردعمل کے بارے میں ملی جلی اطلاعات ہیں۔

پاکستانی حکومت نے 24 اپریل کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی اقدامات کا جواب دیتے ہوئے اعلان کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں تعطل سے پاکستان کا پانی روکا گیا تو اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ سکھ یاتریوں کے سوا تمام بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے گئے۔ بھارتی طیاروں پر پاکستانی فضائی حدود بند کر دی گئی ہے۔ متعدد سفارت کاروں کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے شملہ معاہدہ سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں کو معطل کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہوئے بھارتی اقدامات کو یک طرفہ، غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔

پاکستان کا ردعمل قابل فہم ہے۔ یہ رائے بھی درست ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے بین الاقوامی بندوبست کو یک طرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ اس حساس معاملے میں امید کی واحد کرن یہ ہے کہ دونوں حکومتوں نے دہشت گردی کے اس واقعے کے ردعمل میں جو فیصلے کیے ہیں انہیں سفارتی زبان میں براہ راست جنگ سے گریز کرتے ہوئے غیر عسکری اقدامات سمجھا جائے گا۔ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی قوتیں ہیں۔ ایسی صورت میں کسی ایک فریق کے فیصلہ کن جنگی بالادستی حاصل کرنے سے ایٹمی تصادم کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کی کل آبادی پونے دو ارب ہے لیکن پاکستان اور بھارت کے حجم، معیشت اور عسکری وسائل میں واضح فرق ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 73 ارب ڈالر اور پاکستان کا دفاعی بجٹ سات ارب ڈالر ہے۔ بھارت کی معیشت کا حجم 4.27 کھرب ڈالر ہے جبکہ پاکستان کی معیشت 337 ارب ڈالر پر محیط ہے۔ بھارت کی آبادی پاکستان سے چھ گنا زیادہ ہے۔ دونوں ممالک میں وسائل کے اس قدر غیر متناسب ہونے سے یہ اندیشہ بڑھ جاتا ہے کہ کوئی ایک فریق جنگی صورتحال کو ناموافق دیکھتے ہوئے انتہائی اقدام کر سکتا ہے جس کے نتائج ناقابل تصور ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے ذرائع ابلاغ میں جنگجو پسندی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ بھارت نے حالیہ عشروں میں تیز رفتاری سے معاشی ترقی کی ہے جس کے نتیجے میں بھارتی صحافت اور رائے عامہ میں رعونت کی نفسیات پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان میں بھی غیر ذمہ دار نعرے بازی کرنے والوں کی کمی نہیں۔ اخبار کے صفحات اور ٹیلی ویژن کی سکرین پر غیر حقیقت پسند قوم پرستی کا راگ الاپنا آسان ہے۔ میدان جنگ میں آگ اور خون کا سامنا کرنے والی افواج کی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ ربع صدی قبل کارگل کی لڑائی کے بعد پاکستان میں اس مہم جوئی پر بہت کم لکھا گیا اور کوئی سنجیدہ قومی تجزیہ بھی نہیں کیا گیا۔

بھارت میں کارگل کی لڑائی کا ہر سطح پر تحقیقی جائزہ لیا گیا اور اچھی بری کتابوں کا ایک انبار بھی سامنے آیا۔ ایسی ہی ایک کتاب معروف بھارتی خاتون صحافی ہریندر بیجاوا نے سنہ 2000 میں ’Kargil: the Inside Story‘ کے عنوان سے لکھی تھی۔ 2019 میں اس کتاب کے نئے ایڈیشن کا پیش لفظ بھارت میں پرم ویر چکر کا فوجی اعزاز پانے والے کیپٹن وکرم بترا کے باپ جی ایل بترا نے لکھا تھا۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں مارے جانے والوں کے اہل خانہ اور میدان جنگ سے دور بیٹھے جذبات نگار صحافیوں کی دنیائیں کس قدر مختلف ہوتی ہیں۔

1957ء میں Stanley Kubrick نے Paths of Glory کے نام سے ایک کلاسیک فلم بنائی تھی۔ پہلی عالمی جنگ میں جرمنی اور فرانس کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔ فرانس کے سپاہی خندقوں میں ہیں جبکہ کچھ فاصلے پر ایک ناقابل عبور پہاڑی پر جرمن افواج نے بندوقیں سنبھال رکھی ہیں۔ اس پہاڑی پر چڑھائی قریب قریب ناممکن بھی ہے اور عسکری اعتبار سے بے سود بھی۔ تاہم فرانسیسی جنرل اپنے کمانڈر کو ترقی کا لالچ دے کر حملے پر آمادہ کر لیتا ہے۔ حقیقی واقعات پر مبنی اس فلم میں حسب توقع حملہ ناکام رہتا ہے۔ یہ جنگ ایک صدی قبل لڑی گئی تھی اور کارگل کی لڑائی پر ربع صدی گزر چکی ہے۔ کپتان وکرم بترا نے 5140 پوائنٹ اور 4875 پوائنٹ نامی جن چوٹیوں تک پہنچنے میں اپنی جان دی تھی۔ آج کی دنیا میں ان مقامات کی کوئی اہمیت نہیں۔

فرانس کے صدر ڈیگال اور جرمنی کے چانسلر ایڈنائر نے جنوری 1963 میں دوستی کا معاہدہ کیا تھا جو آج تک قائم ہے۔ پہلگام کا واقعہ قابل مذمت ہے لیکن اسے جنگی تصادم میں تبدیل کرنا دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان اور بھارت میں معاشی ترقی اور خطے میں امن کا راستہ وہی ہے جس کی طرف بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم واجپائی اور نواز شریف نے فروری 1999 میں قدم بڑھایا تھا۔ تب اس پیش رفت کا انجام خوشگوار نہیں رہا تھا لیکن اس ناکامی سے اس اصول کی افادیت ختم نہیں ہوتی کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنے اختلافات دور کرنے چاہئیں۔

اگر پاکستان کی معیشت کمزور ہے تو بھارت کی معیشت کو بھی جنگ سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ پہلگام کے افسوس ناک واقعے کو دو ہمسایوں کے درمیان سیاسی تدبر اور جنگ و جدل میں انتخاب کرنے کے موقع میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)