خواجہ آصف کا انٹرویو

خواجہ آصف نے دو روز قبل ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو دیا۔ جس میں اُن کی زیادہ تر باتیں درست تھی لیکن دہشت گردی کے معاملے میں اُن کا بیان سچ ہونے کے باوجود ڈپلومیٹک الفاظ میں نہیں تھا۔

یہ کہنا کہ "ہم یہ گندہ کام" امریکہ اور مغرب کے کہنے پہ کرتے رہے ہیں اور اب بُھگت ریے ہیں۔  مکمل طور پہ غیرضروری اور مُضر اثرات کا حامل ہے۔ اگر وہ یہ کہتے کہ "ہم امریکہ اور مغرب کے ساتھ اتحاد میں تھے۔ اور اس اتحاد کی مہمات میں شامل ہونا ہمارے لیے ضروری تھا۔ لیکن اب یہ اتحاد اور اس کے فیصلے ہمارے گلے پڑ چُکے ہیں".  تو یہ شاید زیادہ بہتر ہوتا ۔

پہلی بات یہ کہ اس موضوع پہ کوئی بھی بیان وزارتِ خزانہ سے جاری ہونا چاہیئے۔ خارجہ امور پہ صرف وزارتِ خارجہ ہی لب کُشائی کرے۔ نہ کہ کوئی بھی وزیر یہ بیان دیتا پھرے۔ یہ راقم کی رائے ہے لیکن ممکن ہے کہ کسی دوسرے دوست کے ذہن میں بات کرنے کے لیے اس سے بھی بہتر طریقہ ہو۔ لیکن مقصد یہ تھا کہ باور کروایا جائے کہ ہم جو کرتے رہے امریکہ اور مغرب کے ساتھ مل کر کے کرتے رہے۔ یعنی یہ کارروائیاں اتحاد کی تھیں۔ پاکستان کو اکیلے مُوردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

دوسری صورت یہ ہوتی کہ پرویزمشرف کی طرح سِرے سے ہی انکار کردیتے۔ اور کہتے کہ ہم تو خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔ اور بلوچستان کے واقعات کا ذکر کرتے۔ ٹی ٹی پی کا ذِکر کرتے ۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا۔ یہی نا کہ لوگ قہقہ لگاتے اور بات ختم۔  جیسے پرویز مشرف کے کارگل میں ملوث ہونے کے بارے میں مشرف صاحب کے جواب سے ہوا۔ یہ جواب اور بھی بہتر ہوتا۔

لیکن خواجہ صاحب نے بین الاقوامی میڈیا کو بھی حامد میر یا ندیم ملک سمجھ کے غیر سفارتی الفاظ میں جواب دے کے، بھارت اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کو ایک جواز فراہم کر دیا ہے۔ اگر یہی بات عمران خان نے یا اُن کے کسی حکومتی وزیر نے کہی ہوتی تو آج یہ کہا جارہا ہوتا کہ جی حقیقت تسلیم کرنے سے ہی قومیں آگے بڑھتی ہیں۔ اور اس غیر سفارتی انداز بیاں کے دفاع میں تعریفوں کے پُل باندھے جا رہے ہوتے کہ دیکھا کیسے امریکہ اور مغرب کو بے نقاب کیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

جب خان صاحب نے چین میں کہا کہ پاکستان میں بہت کرپشن ہوتی ہے تو پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے یہی کیا تھا۔ پھر جب ایران میں انہوں نے ایرانی صدر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ایران میں دہشت گرد آتے ہیں اور کاروائیاں کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل عاصم منیر بھی موجود تھے۔ اور خان صاحب کا یہ الزام براہ راست آئی ایس آئی پہ تھا۔ لیکن پی ٹی آئی سوشل میڈیا اس پہ تعریفوں کے پُل باندھتا رہا۔

ہمارے سیاستدان ایسے بلنڈر کیوں کرتے ہیں؟
میری رائے میں اِس کی وجہ سیاستدانوں کی سفارتی تربیت نہ ہونا اور سیاستدانوں کا ملکی مفاد کی بجائے اپنے ذاتی اور جماعتی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔ نوازشریف صاحب نے بھی کارگل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایسے ہی کیا، خان صاحب بھی کرتے رہے اور اب خواجہ آصف نے بھی یہی کیا۔ حالانکہ باتیں سب کی سچ تھیں۔ لیکن غیرسفارتی انداز میں کی گئیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام وزرا کو اپنی وزارت کی حدود کا عِلم ہو۔ اور کوئی وزیر دوسرے کی وزارت پہ سوال کے بارے میں جواب نہ دے۔ اور بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ وزیروں کو وزارت خارجہ سے ڈٍپلومیسی کی تربیت دی جائے۔ میری رائے میں تربیت کی سب سے زیادہ ضرورت وزارت خارجہ کے اپنے سربراہ کو ہے۔