سلامتی کونسل میں پہلگام سانحہ کی مذمت
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے تمام ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں تعاون کریں۔
سلامتی کونسل کy ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔‘
کونسل کے ارکان نے اس حملے میں ملوث افراد، منتظمین اور اس کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کریں۔
سلامتی کونسل کے ارکان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائی جہاں بھی اور جس نے بھی کی ہو، مجرمانہ اور بلاجواز ہے۔ خیال رہے کہ 22 اپریل کی دوپہر کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں مسلح حملہ آوروں نے انڈین سیاحوں کی کیمپ سائٹ پر فائرنگ کی جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے جن میں 25 سیاح اور ایک مقامی شخص شامل تھا۔ اس واقعے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پہلگام واقعے کے خلاف منظور کردہ مذمتی قرارداد میں بھارت نے سخت الفاظ شامل کرانے کی کوشش کی لیکن پاکستان کی سفارت کاری کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
دریں اثنا اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے۔ جمعہ کے روز نیو یارک میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم ایک بار پھر بھارت اور پاکستان کی حکومتوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں کہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔