پاک افغان سرحد پر کامیاب آپریشن میں 17 دہشت گرد ہلاک

  • سوموار 28 / اپریل / 2025

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک آپریشن میں مزید 17 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 27 اور 28 تاریخ کی درمیانی رات کو پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب حسن خیل کے علاقے میں سکیورٹی فورسرز نے ایک آپریشن کیا اور اس میں یہ شدت پسند ہلاک کیے گیے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ شدت پسند اپنے بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر پاکستان میں کارروائیاں کر رہے تھے۔ فوج کے مطابق مارے جانے والے ان شدت پسندوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارود اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ تین دن میں کیے جانے والے آپریشن میں اب تک مجموعی طور پر 71 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں اور سکیورٹی فورسز پاکستان کی بقا اور تحفظ کے لیے ہر دم تیار اور پرعزم ہیں۔

دریں اثنا وانا میں امن کمیٹی کے دفتر کے باہر دھماکے میں سات افراد جاں بحق جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس دھماکے میں امن کمیٹی کے دو ارکان بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی افراد کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے علاقے کو محاصرے میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس سے عمارت بھی گر گئی۔ یہ خدشتہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کے نیچے بھی کچھ لوگ دبے ہوں گے۔

اس دھماکے کا ہدف بننے والے امن کمیٹی کے یہ اراکین کمانڈر نذیر گروپ سے جانے جاتے ہیں۔ یہ ٹی ٹی پی کی مخالفت کرتے تھے۔ انہیں سی این جی گروپ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ پولیس کے مطابق اس گروپ کے کمانڈر تحصیل اور سیف الرحمان کو دھمکیاں بھی ملی تھیں۔ یہ جنوبی وزیرستان لوئر کا علاقہ ہے، یہاں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں۔ یہاں اغوا اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات بھی سامنے آتے رہے۔