جعفر ایکسپریس حملہ میں بیرونی مداخلت کے قابل اعتماد شواہد موجود ہیں: پاکستان

  • منگل 29 / اپریل / 2025

پاکستان نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ  کہا ہے کہ اس کے پاس جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر حملے میں غیرملکی معاونت کے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہیں۔ اس حملے میں کم از کم 30 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور درجنوں کو یرغمال بنایا گیا۔

پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ اس کے علاقائی حریفوں کی بیرونی معاونت سے کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ میں دہشت گردی کے متاثرین کی ایسوسی ایشن نیٹ ورک کے آغاز کے موقع پر بیان دیتے ہوئے پاکستان مشن کے کونسلر جواد اجمل نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گرد حملوں کے متاثرین اور ان خاندانوں کی حمایت کرے جن کی زندگیاں ان سانحات کے نتیجے میں ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہیں۔

جواد اجمل نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور تنازع زدہ علاقوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے امتیاز کے بغیر نقطہ نظر اپنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور حق خودارادیت کی جائز جدوجہد کے درمیان واضح فرق کرنا بھی لازمی ہے۔

انہوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام، ضلع اننت ناگ میں حالیہ حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس حملے میں سیاحوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔

بی بی سی ہندی کے مطابق اقوام متحدہ میں انڈیا کی نائب مستقل مندوب یوجنا پٹیل نے اسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا نے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کو ایک حالیہ ٹیلی ویژن انٹرویو میں یہ اعتراف کرتے ہوئے سنا ہے کہ پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت، تربیت اور فنڈنگ ​​کی تاریخ ہے۔

سکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران خواجہ آصف سے سوال کیا گیا تھا کہ ’کیا آپ اس بات کو قبول کریں گے کہ پاکستان طویل عرصے سے ان دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت اور تربیت کر رہا ہے؟

خواجہ آصف نے جواب دیا تھا کہ 'ہم تین دہائیوں سے یہ 'گھناؤنا کام' امریکہ کے کہنے پر کر رہے ہیں، برطانیہ سمیت مغربی ممالک بھی اس میں ملوث ہیں۔ یہ ایک غلطی تھی اور ہم اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔