قحط سے بچنا ہے تو کسان کو بچاؤ
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 29 / اپریل / 2025
اس کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں کی پہلی ضرورت خوراک ہے اور زمین سے آگائی جانے والی ہر چیز نہ صرف پیٹ بھرنے بلکہ انسانوں کو صحت بخشنے کے لیے بھی لازمی ہے۔
زمین کے اندر رکھے گئے قدرتی معدنیات کو نکالنے کا کام مشکل بھی ہے اور معدنیات کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے لیکن ان معدنیات کے بغیر بھی زندگی ممکن ہے۔ مگر اناج، پانی، ہوا اور روشنی کے بغیر زندگی کا تصور نہیں ہے۔ اس دنیا میں جن ممالک کے پاس اچھی زمین اور متوازن موسم ہیں ان ممالک نے زراعت سے کمال ترقی کی ہے۔ جن ممالک کے پاس زراعت کے لیے زیادہ موزوں رقبہ نہیں اور موسم کی شدت بھی زیادہ ہے وہاں زرعی اجناس کم ہوتی ہیں۔ لیکن وہ ممالک بھی زراعت پر بہت توجہ دیتے اور کسان کی مدد کرتے ہیں۔ تاکہ خوراک میں خودکفالت حاصل کی جا سکے۔
دنیا میں کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جن کی ترقی میں مرکزی کردار زراعت اور پالتو جانوروں کا ہے۔ نیوزی لینڈ اس کی بہترین مثال ہے۔ اسی طرح آسٹریلیا، یوکرائن، برازیل، یونان اور سپین جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی زراعت کا خاصا حصہ ہے۔ برادر اسلامی ملک مصر ان قدیم ممالک میں سے ہے جہاں صدیوں پہلے زراعت کو ترقی دی گئی (یوسف علیہ السلام کے زمانے سے مصر کی زراعت مشہور ہے) اور آج بھی مصر کی قومی آمدن میں زراعت اور سیاحت دو بڑے ذرائع ہیں اور اب جدید زراعت کے بل بوتے پر چین زرعی پیداوار میں پہلے اور امریکہ دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان اپنی تمام تر نااہلیوں کے باوجود بھی پہلے دس نمبر میں موجود ہے۔ اگر ہم زراعت پر توجہ دیں اور اپنے کسانوں کی قدر کریں تو ہم دنیا کے پہلے تین زرعی پیداوار کرنے والے ممالک میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اور ہماری قومی آمدنی میں زراعت مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے جس کے پاس دنیا کی بہترین زرعی زمین، 4 خوبصورت موسم اور کھیتوں میں کام کرنے والے محنت کش کسان ہیں۔ اب ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے بھی اگر پاکستان کی معیشت انتہائی کمزور ہے اور ملک قرضوں کے نیچے دبا ہوا ہے تو پھر ضرور ہم سے کہیں نہ کہیں غلطیاں ہوئی ہیں۔ لہذا ہمیں اپنی ان غلطیوں پر غور کرنے اور ان کا ازالہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پھر وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ہمارا ملک اناج کی قلت کا شکار ہو جائے گا۔ ابھی تک پاکستان کی زراعت کو حقیقی ترقی دینے، کسانوں کے مسائل حل کرنے اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے منصوبہ بندی کرنے کا کام کسی حکومت کی ترجیحات میں نہیں رہا ہے۔ زبانی دعوے بہت کیے جاتے ہیں لیکن دو شعبوں زراعت اور سیاحت میں کوئی خاطر خواہ کام دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔
مجھے یہ کالم لکھنے کا خیال اپنے بازاروں میں بے توقیر ہوتی سبزیوں اور پھلوں کو دیکھ کر آیا۔ لیکن اب گندم کا معاملہ اس سے بھی سنگین ہو گیا ہے۔ پاکستان کسان اتحاد کے چئیرمین خالد کھوکھر نے لاہور میں پریس کانفرنس کر کے کسانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی داستان سنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گندم کی کاشت پر 3400 روپے فی من خرچ آتا ہے۔ لیکن حکومت نے جو قیمت مقرر کی ہے اس کے بعد کسانوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ ہم اگلے سال گندم کی کاشت میں بڑی کمی کریں گے۔ خالد کھوکھر کا کہنا تھا کہ ہم وزیر اعلی پنجاب سے ملاقات کر کے اپنے مسائل پیش کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وزیر اعلی نے ہمیں ملنے سے ہی انکار کر دیا ہے۔ پاکستان کے کسانوں کی سب سے بڑی فصل گندم ہوتی ہے جس کے ساتھ کسانوں کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ لیکن ہر سال گندم کی کاشت پر نئے نئے مسائل کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ بیوروکریسی گندم درآمد کر کے کمیشن لینے کے چکر میں اپنے کسان کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرتی ہے۔
پوری دنیا اپنے کسانوں کو تحفظ دیتی ہے اور خریداری کرتے وقت اپنی ملکی اجناس، سبزیوں اور پھلوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ہر موسم میں کسی اناج کی جنس، سبزی یا پھل اس قدر بے توقیر ہوتا ہے کہ زمینوں میں یا سڑکوں کے کنارے ڈھیر لگے ہوتے ہیں۔ چند روپوں میں فروخت کے لیے پیش ہوتا ہے۔ نگران حکومت کے آخری دنوں میں 95 کروڑ ڈالر کی گندم درآمد کر کے اپنے ملک کی گندم کو خراب کیا گیا جس سے نہ صرف پاکستان کو زرمبادلہ کی مد میں نقصان ہوا بلکہ کسانوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس گندم اسکینڈل کی تحقیقات کا بہت شور سنا لیکن ایک سرکاری افسر کئی نوٹس کے باوجود پیش نہ ہوا اور آہستہ آہستہ اس اسکینڈل پر مٹی ڈال دی گئی۔
اب سندھ میں ٹماٹر 4 روپے کلو اور سندھ پنجاب دونوں صوبوں میں گوبھی، آلو اور پیاز چند روپوں میں کسانوں سے خریدے گئے ہیں جو منڈی کے آڑھتیوں اور دکانداروں سے ہوتے ہوئے عوام تک 30 سے 50 روپے کلو تک پہنچے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ 4 یا 5 روپے کلو سبزیاں بیچ کر کسان کو فائدہ ہوا ہوگا یا بھاری نقصان؟ کیا وہ کسان دوبارہ یہ کاشت کریں گے؟ آلو کو تو ہم نے اکثر خوار ہوتے دیکھا ہے اور ہر سال ہمارے موسمی پھلوں کی بے قدری بھی ہم دیکھتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ زرعی پیداوار میں توازن نہیں ہے، ملک میں کسی چیز کو محفوظ کرنے کا درست انتظام نہیں ہے اور سب سے بڑی مشکل حکومتی اداروں میں بدعنوانی ہے۔ اگر حکومت زراعت پر توجہ دے، اپنے اداروں سے بدعنوانی کا خاتمہ کرے، کسانوں کی مدد کرے، زرعی ادویات اور مشینری کی قیمتوں میں کمی کی جائے یا حکومت کی طرف سے کسان کو فراہمی ممکن بنائی جائے۔ پھلوں سبزیوں اور دوسری زرعی اجناس کے محفوظ کرنے کا بندوبست کیا جائے اور کسان سے اس کی پیداوار امدادی قیمت پر خرید کر محفوظ کر لی جائے تو ہم اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بچا سکتے ہیں۔
ہماری زرعی پیداوار میں کمی کی ایک اور بڑی وجہ زمینوں کا غیر آباد رہنا ہے۔ یہ زرعی اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ ایک طرف بارانی علاقوں میں زرعی زمین کی تقسیم در تقسیم اور بڑھتی ہوئی آبادی میں رہائشی استعمال کی وجہ سے فی خاندان زرعی زمین اتنی کم ہو جاتی ہے۔ جس پر گزارہ نہیں ہوتا تو لوگ زراعت چھوڑ کر کوئی دوسرا کام کرتے ہیں۔ یا بیرون ممالک چلے جاتے ہیں۔ دوسری طرف جاگیرداروں کے پاس کئی کئی ہزار ایکڑ زمینیں ہیں جو ساری زمینوں کو آباد رکھنے سے قاصر ہیں۔ زراعت سے جڑا ایک بڑا مسلہ پانی کا بھی ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔