صحافت کے معانی اور ہمارے صحافیوں کا کردار
- تحریر مختار چوہدری
- بدھ 30 / اپریل / 2025
صحافت دنیا کا ایک مقدس پیشہ ہے اور آج کی دنیا میں اس کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے۔ حالانکہ سوشل میڈیا کے بعد لگتا تھا کہ شاید اب صحافیوں کی اہمیت کم ہو جائے گی۔
ہر روز تبدیل ہونے والی اور اپنی اصلاح کرنے والی قومیں نئی ٹیکنالوجی کو اپنارہی ہیں اور ہر شعبے کی اہمیت کو بھی برقرار رکھتی ہیں۔ صحافت خبر دینے، تحقیق کرنے اور عوام کو معلومات تک رسائی دینے کا نام ہے۔ ایک اچھے صحافی کی اپنی پسند ناپسند نہیں ہوتی۔ وہ خبر کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ تحقیق کرتا ہے، وہ خبر نکالنے کے لیے مختلف ذرائع سے بھی کام لیتا ہے۔ صحافی کی پہچان اس کا کام ہے، وہ کسی جگہ پروٹوکول کا متمنی ہوتا ہے نہ کسی شخصیت کی بے جا تعریف کرتا ہے۔ صحافی حکومتی اقدامات پر نظر رکھتا ہے اور ملک میں سر اٹھانے والی برائیوں، بدعنوانیوں اور اپنے ملک کو درپیش خطرات کا ادراک رکھتا ہے اور ان کے روک تھام کے لیے اپنے پیشے کا استعمال کرتے ہوئے ریاستی اداروں اور عوام کو آگاہ کرتا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک کے صحافی کو بڑے عہدے داروں یا حکومتی شخصیات کے آگے پیچھے پھرتے۔ انہیں اس چیز سے بھی کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کون سا افسر کہاں تعینات ہو رہا ہے۔ وہاں صحافی کسی افسر کی تعیناتی پر کوئی خبر لگاتے ہیں نہ اس کا استقبال کرتے ہیں۔ کوئی واقعہ ہو جائے تو صحافی اس کی کھوج لگاتے ہیں۔ اس کے اصل محرکات کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں اور پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔ پولیس آفیسر صحافیوں کے سامنے قانون کے اندر رہتے ہوئے اس حد تک تفصیلات پیش کرتے ہیں کہ ان کی یہ بات چیت تفتیش پر اثر انداز نہ ہو۔
ترقی یافتہ ممالک میں صحافی حکومتی اہلکاروں، مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں اور معاشرے کی تربیت پر نظر رکھتے ہیں۔ جہاں بھی کوئی کمزوری، بدعنوانی، ٹیکس چوری یا کوئی مسئلہ نظر آئے تو اس پر رپورٹ لکھتے ہیں جس کی بنیاد پر ریاستی ادارے متحرک ہو جاتے ہیں۔ یوں اس خرابی پر قابو پا لیا جاتا ہے۔ صحافیوں کا تعلق بھی مختلف شعبوں سے ہوتا ہے جیسے تعلیم، صحت، موسم، کھیل، حکومتی اداروں پر نظر رکھنے والے، خوراک پر تحقیق کرنے والے۔ یہ سب لوگ اپنے اپنے شعبوں میں تحقیق کرتے ہیں اور پھر اپنی اکٹھی کی گئی ساری معلومات عوام تک اور متعلقہ اداروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں صحافی بننا بہت مشکل کام ہے۔ تعلیمی اداروں میں جس طرح میڈیکل کے شعبے میں جانے کے لیے بہت زیادہ نمبر لینے پڑتے ہیں، اسی طرح صحافتی شعبے کے لیے بھی میرٹ کافی مشکل ہوتا ہے۔ صحافیوں کو عزت بھی دی جاتی ہے۔ عدالتوں میں ان کی خبر کو شہادت کے طور پر بھی مانا جاتا ہے۔
اب ہم ذرا اپنی صحافی برادری اور ان کے کردار کا جائزہ لیتے ہیں۔ پہلی نظر میں جو نظر آتا ہے، وہ یہ کہ ہمارے ہاں صحافت بلیک میلنگ کا دوسرا نام ہے۔ پاکستان بننے سے 80 کی دہائی تک پاکستانی صحافت کا بھی اچھا نام تھا۔ پڑھے لکھے لوگ اس پیشے سے منسلک تھے اور اپنے پیشے کے ساتھ مخلص بھی تھے۔ محنت بھی کرتے تھے۔ ہماری تمام حکومتوں نے صحافیوں کے خلاف مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے، ہر دور میں سنسر شپ اور پابندیاں لگائی گئیں۔ کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی حب الوطنی کے بہانے سے صحافیوں کو پابندیوں کا سامنا رہا۔ کئی صحافیوں نے جام شہادت نوش کیا، جیلوں کی سختیاں برداشت کیں لیکن حق کے راستے پر گامزن رہے۔ 77 سے 88 تک مارشل لا کی ’برکت‘ سے صحافی ناپید ہونے لگے اور لگڑ بگڑ نمودار ہوئے۔ پھر پرویز مشرف دور میں پاکستانی میڈیا سرکار کی ملکیت سے نکل کر عام ہوا تو خود رو جھاڑیوں کی طرح اینکرز، نئے نئے چینلز اور اخبار بھی نکل آئے۔ لیکن اس کے بعد پاکستانی صحافت کاروبار کا روپ دھار گئی۔ باقی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی۔ پاکستان میں زیادہ تر صحافی اور اینکرز اسی نرسسری سے نکلے جس میں سیاستدانوں کی کاشت بھی ہوتی ہے۔ لیکن اب تو ہر کسی نے اپنے صحافی پیدا کر رکھے ہیں جو مختلف یوٹیوب چینلز بنا کر دن رات سنسنی پھیلاتے ہیں۔
جہاں تک میرے شہر یا ضلع کا تعلق ہے تو ہمارے صحافی، صحافت سے زیادہ لوگوں کو سہولت پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔ پہلے وقتوں میں کسی کے انتقال اور شادی کی اطلاع کے لیے مخصوص لوگوں کو ذمہ داری دی جاتی تھی جس کا معمولی سا معاوضہ دیا جاتا تھا۔ اب یہ کام ہمارے صحافی بھائی مفت میں کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہر قسم کے نوٹیفکیشن، سرکاری ملازمین کے تبادلوں کی نہ صرف اطلاع بروقت دیتے ہیں بلکہ ہر آنے والے کا استقبال اور جانے والے کو الوداع کرنے کا فریضہ بھی ادا کرتے ہیں۔ کسی بھی انتقال اور شادی کی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی تصاویر کے ساتھ ان کے عہدوں، ان کے حالات زندگی اور ان کے سماجی رتبوں پر بھی خوب روشنی ڈالتے ہیں جس پر ہمیں اپنے صحافیوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
ہماری طرف سے دنیا کی صحافت جائے بھاڑ میں ہمارے لیے تو ہمارے صحافی کسی مسیحا سے کم نہیں جو ہر طرح کی اطلاع کے ساتھ ساتھ کسی افسر سے سفارش بھی کروا دیتے ہیں۔ عوام اور سرکار کے بیچ پل کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ کبھی کبھار اس پل کے پیسے بھی ہو سکتے ہیں۔ اب دوست خود مغربی صحافت اور اپنی صحافت کا موازنہ کر لیں۔ مجھے تو اپنے ہی اچھے لگتے ہیں۔ لیکن یہ بات کہنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ پاکستان کے بڑے کاروبار میں صحت، تعلم اور صحافت کا کاروبار سرفہرست ہے۔ جب صحت کاروبار بن جائے پھر دماغ نشوونما نہیں پاتے، تعلیم کاروبار بن جائے تو پھر تخلیقی کام رک جاتا ہے اور اگر صحافت کاروبار بن جائے تو پھر ملک سازشوں کا شکار ہو جاتا ہے۔