یکم مئی: مزدوروں کا عالمی دن

یکم مئی عالمی یوم مزدور ہے جو دنیا بھر کے مزدوروں کے حقوق کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس دن کی ابتدا 1886 میں امریکہ کے شہر شکاگو میں ہوئی جہاں یکم مئی کو مزدوروں نے ایک ملک گیر ہڑتال کی۔ اس مطالبہ یہ تھا کہ مزدوروں کے لیے یومیہ روزگار کا دورانیہ 8گھنٹے پر محیط ہونا چاہیے۔

اس ہڑتال کے موقع پر اپنے حقوق کے لیے نکالے جانے والے محنت کشوں کے جلوس پر تشدد کے نتیجے میں دو مزدور ہلاک ہو گئے۔ ان مزدوروں کی ہلاکت اور اپنے حقوق کے حق میں 4 مئی کو مزدوروں نے ایک اور بڑا جلوس نکالا جس کے دوران ایک بم پھینکے جانے پر پولیس نے جلوس پر فائرنگ کردی۔ اس کے نتیجے میں چار مزدور اور سات پولیس والے ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ تاریخ میں ہئیےمارکیٹ شورش کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد 8 مزدور راہنماؤں پر مقدمہ دائر کیا گیا جو تاریخ میں ایک غیر منصفانہ عدل سے منسوب ہوتا ہے۔

کیونکہ ان آٹھ ملزمان میں سے چھ اس دن جائے وقوعہ پہ موجود ہی نہیں تھے اور ان کے خلاف پیش کی جانے والی شہادتیں و ثبوت بھی مشکوک تھے۔ لیکن اس کے باوجود تمام کو سزائیں سنائی گئی تھیں جن میں سے دو کو معافی ملی۔ جبکہ چار کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ لیکن بعد میں اس عدالتی کارروائی کی ناانصافی کی تلافی کے طور پر پھانسی دیے جانے والے مزدور راہنماؤں کی قبروں پہ شہدائے ہئیےمارکیٹ یادگار تعمیر گئی جو اس جدوجہد اور قربانی کی اہمیت و عظمت کو اُجاگر کرتی ہے۔

اسطرح یوم مزدور تاریخ میں شکاگو کے محنت کشوں کے نام امر ہو گیا ۔ ان محنت کشوں کی جدوجہد اس وقت فتح سے ہمکنار ہوئی جب 1892 میں باضابطہ طور پر امریکہ میں مزدوروں کے یومیہ 8 گھنٹے کے دورانیہ کو قانونی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس کے بعد یوم مزدور دنیا بھر کے محنت کشوں کی جدوجہد کی تحریک میں بدل گیا جس سے ان کی صفوں میں طبقاتی شعور اور اتحاد نے جنم لیا۔ اسی کی بدولت صنعتی ممالک خاص کر امریکہ اور یورپ میں مزدوروں کی حالت زار میں بہتری آئی۔ روس میں آنے والے اشتراکی انقلاب اور چین میں صدر ماؤزے تنگ کی کامیابی کی بنیاد اسی محنت کش تحریک کو گردانا جاتا ہے جس کا مقصد مزدوروں کو سرمایہ داری کے استبدادی چنگل سے آزاد کروانا تھا۔

گو اشتراکی انقلاب روس، چین اور چند دوسرے ممالک تک ہی محدود رہا لیکن اس مزدور تحریک نے پسے ہوئے طبقوں کو ایسا ولولہ عطا کیا کہ جس نے وقت کے حکمرانوں کے ایوانوں کو ہلا کے رکھ دیا، صدیوں سے مراعات یافتہ طبقوں کے اقتدار کو زمین بوس کیا۔ مغربی یورپ میں معرض وجود میں آنے والے سوشل ڈیموکریٹک نظام حکومت میں کلیدی کردار مزدور تحریک نے ہی ادا کیا۔  یورپ کے اندر قائم کی جانے والی فلاحی ریاست کی روح رواں مزدور تحریکیں ہی تھیں۔ مزدور تحریکوں نے اپنی صفوں میں اتحاد کے ساتھ ایک منفرد تنظیمی ڈھانچہ قائم کرتے ہوئے سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے لیے سیاسی جماعتیں بھی تشکیل دیں جن کے ذریعے اقتدارا کی راہداریوں تک رسائی حاصل کر کے مزدوروں کے حقوق کو قانون کا حصہ بنایا گیا۔ تمام طبقوں کے لیے مساوی مواقع فراہم کر کے ملکی خوشحالی میں برابر کا شراکت دار بنایا۔

تاریخ شہنشاہوں اور جابر و دانا حکمرانوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہے لیکن جدید قومی اور فلاحی ریاست مزدور تحریک کا نتیجہ ہے۔ مزدور تحریک کا مطالعہ کرنے پہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ان اوسط درجہ تعلیم سے آراستہ محنت کشوں نے کس طرح طبقاتی شعور کو اُجاگر کرتے ہوئے مزدور اور ناسودہ حال طبقوں میں اتحاد کی بنیاد ڈالی۔ اور ایک ایسا اعلیٰ پایہ تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا جس نے بڑے طاقتور سرمایہ داروں کو اس نادار طبقہ کے سامنے گُھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کر دیا۔ مزدوروں کے شب و روز آسودہ حال بنا کر ایک ایسے معاشرے کی داغ بیل ڈالی جس میں محنت کش اور نادار طبقے کو اوج ثروت تک رسائی ہوئی اور اُن کی نسلیں آج زمام اقتدار کو ہاتھوں میں تھام کر بیٹھی ہیں۔

یوم مزدور کو یورپ میں خاص کر محنت کش طبقے ایک نعمت سمجھتے ہیں۔ گو آج عالمی یوم مزدور کو پوری دنیا میں شان و شوکت سے منایا جاتا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو اس تحریک کے ثمرات سے بیشتر اقوام عالم ابھی تک محروم ہیں۔ چند ممالک کو چھوڑ کر جہاں کیمونسٹ پارٹیاں اقتدار حاصل کر پائیں، باقی دنیا میں آج بھی بندہ مزدور کے حالات بہت ہی ناگفتہ بہ ہیں۔ محنت کش اپنے خون پسینہ کی کمائی کے چند قطروں سے ہی مستفید ہو پاتے ہیں۔ عالمی یوم مزدور اور محنت کشوں کے حقوق نشستن گفتن و برخاستن تک ہی محدود ہیں۔ تیسری دنیا کے بیشتر ممالک میں تو یوم مزدور سرمایہ دار حکمرانوں کی طرف سے خیر سگالی کے بیانوں تک ہی محدود ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے محنت کش طبقوں نے اپنے حقوق حاصل کرنے کے بعد یکم مئی کو دنیا بھر میں مظلوم طبقوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ منسلک کر دیا ہے، جس کی عکاسی ہر سال یکم مئی کی ریلیوں میں لگائے گئے نعرے اور بلند ہوتے علم کرتے ہیں۔چاہے یہ کمزور ملکوں کے خلاف جارحیت ہو یا پھر فلسطین جیسے مظلوموں کے لیے آواز بلند کرنا ہو۔

ناروے جیسےترقی یافتہ ملک کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ آج دنیا کے سب سے خوشحال ملک تک کا سفر اس قوم کے آبا و اجداد کی انتھک محنت اور قربانیوں کا مرہون منت ہے۔ جسے قائم و دائم رکھنے کے لیے آنے والے نسلیں ہر وقت کمربستہ رہتی ہیں۔