مودی جی! یدھ نہیں بدھ

انڈین کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں چھبیس بے گناہ انسانوں کو جس بے دردی و سفاکی سے قتل کیا گیا ہے کوئی حیوان ہی ہوگا جو اس افسوسناک سانحہ کی مذمت نہیں کرے گا۔ ریاستی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں چیف منسٹر عمرعبداللہ نے رندھی ہوئی آواز میں مرنے والوں کے نام پڑھتے ہوئے جو تقریر کی ہے اس کا ایک ایک لفظ درد میں ڈوبا ہوا تھا۔

”وزیراعلیٰ اور وزیر سیاحت کی حیثیت سے میں ان کا میزبان تھا۔ وہ میرے مہمان تھے۔ جو میری دعوت پر ملک کے کونے کونے سے کشمیر آئے تھے۔ ان کی محفوظ واپسی یقینی بنانا میری ذمہ داری تھی جو میں ادا نہیں کرسکا۔ میرے پاس معافی مانگنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، میں اندر سے کھوکھلا ہوگیا ہوں۔ میں ان بچوں سے کیا کہہ سکتا ہوں جنہوں نے اپنے والد کو خون میں لت پت تڑپتے ہوئے مرتے دیکھا۔ میں اس بیوہ کو جس کی چندر وز قبل شادی ہوئی تھی ،ملا اس نے مجھے بتایا کہ وہ پہلی بار کشمیر آئے تھے اور اب مرنے تک اس گہرے صدمے کا دکھ جھیلوں گی اس نے مجھے پوچھا کہ ہماری غلطی کیا تھی؟ میں اسے کیا جواب دوں؟ جب میں قائدِ حزبِ اختلاف کے ہمراہ مرنے والوں کے لواحقین سے ملا تو میرے پاس کہنے کوکوئی الفاظ نہ تھے۔ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہمارا پورا ملک اس حملے کی زد میں آیا ہے جن لوگوں نے یہ گھناؤنا فعل کیا ہے انہوں نے آیا ہے کہ انہوں نے یہ ہمارے لیے کیا ہے لیکن کیا ہم نے ان سے یہ مانگا تھا؟ کیا ہم نے کہا تھا کہ چھبیس انسانوں کو تابوت میں واپس بھیجو؟ آج پوری وادی میں احتجاج ہورہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پورے جموں و کشمیر میں لوگ اتنے بڑے پیمانے پر سڑکوں پر نکلے ہیں۔ کوئی قصبہ اور گاؤں نہیں جہاں لوگ اس سانحہ کے خلاف احتجاج نہیں کررہے۔ جب یہ سانحہ ہوا تو ہمارے لوگوں نے زخمیوں کو اپنے کندھوں پر اُٹھایا، ان کے لیے خون دیا، ہمارا ایک نوجوان عادل حسین شاہ انہیں بچانے کی کوشش میں اپنی جان پر کھیل گیا۔ غریب لوگوں نے پوری وادئ کشمیر میں اپنے ان مہمانوں کے لیے ایسی محبتیں پیش کیں جن کی مثال نہیں ملتی‘‘۔

یہ تو تھے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی تقریر کے اقتباسات جبکہ ریاستی اسمبلی نے متفقہ طور پر مذمتی قرارداد منظور کی۔ سوشل میڈیا پر اس نوع کے مناظر پہلی مرتبہ ملاحظہ کیے گئے ہیں کہ وادی کے عام عوام سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے زاروقطار رورہے ہیں۔ وادی کی مساجد میں نمازِ جمعہ سے قبل مرنے والوں کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ یہ عوامی دکھ جہاں مرنے والوں کے سوگ میں تھا، وہیں ان کشمیریوں کی ہونے والی معاشی تباہی پر بھی تھا۔ کیونکہ بڑی مدت کے بعد سرینگر سے لے کر وادی کے عام قصبوں اور دیہات تک امن و سلامتی کی خوشی آئی تھی۔ لاکھوں کی تعداد میں ٹورازم آرہا تھا جس سے ان بدنصیبوں کی روزی روٹی جڑی ہوئی تھی۔ انہیں اپنا بہتر مستقبل دکھائی دے رہا تھا مگر افسوسناک دہشتگردی نے ان کی خوشیوں کا جنازہ نکال دیا ہے۔

بلاشبہ اس سانحہ پر ان کا پورا ملک غم و غصے میں ڈوبا ہوا ہے جسے نارمل کرنے کے لیے انڈین پرائم منسٹر نریندرا مودی نے شتابی میں کچھ ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جو غیر ضروری ہی نہیں نتائج کے لحاظ سے نقصان دہ ہیں۔ اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے انہوں نے شتابی میں بغیر کسی مناسب پلاننگ کے اپنا سارا غصہ پاکستانیوں پر نکال دیا ہے۔ جیسے دودھ کا ڈرا چھاچھ کو بھی پھونکتا ہے۔ یوں محسوس ہورہا ہے جیسے مودی جی اس وقت ہم سب پاکستانیوں کو بلاامتیاز اتنک وادی کے روپ میں دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے یہ اعلان کرنا ضروری سمجھا کہ تمام پاکستانیوں کے ویزے کینسل کیے جاتے ہیں۔ اور یہ کہ وہ سب بلاتاخیر ہندوستان سے نکل جائیں۔ انہوں نے ذرا خیال نہیں کیا کہ اس سے کتنے عام عوام رل جائیں گے۔ جو خطرناک بیماریوں کے ساتھ دل پھیپھڑوں اور کڈنی کا علاج کرونےکیلئے بھارت گئے ہوئے تھے ان کا کیا بنے گا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی خاندان بٹ گئے ہیں۔ رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ ماں پاکستانی اور باپ انڈین ہے۔ ثنا خاتون کی مثال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے جسے اپنے خاوند 11سالہ بیٹی اور آٹھ سالہ بیٹے کے بغیر ہی پاکستان روانہ کردیا گیا ہے۔ یہ بچے اپنی نانی سے ملنے انڈیا گئے تھے۔ اس طرح ایک پاکستانی نوجوان عمران اپنی بیوی بچوں کے ساتھ انڈیا گیا تھ۔ا اور وہ میڈیا پر بتارہا تھا کہ میں اپنی بیٹیوں اور بیوی کے ساتھ آیاتھا لیکن اب میری بیوی شرمین کو پاکستان واپس جانے کی اجازت نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا پاسپورٹ انڈین ہے۔ وہ گزشتہ اٹھارہ برسوں سے پاکستان میں مقیم تھیں۔ درویش کے اپنے بھتیجے سعد کی شادی ایک انڈین سے ہوئی ہے۔ اور ان کا ایک چھوٹا بیٹا زیان بھی ہے۔ بیوی کا پاسپورٹ انڈین ہے۔ اب وہ دونوں پاکستان یا انڈیا میں اکٹھے کیسے رہ سکیں گے؟

دونوں ممالک کے سیاستدانوں کو انسانی دکھوں کے حوالے سے ضرور سوچنا چاہیے۔ اور ایک دوسرے کو دہشت گردی کے ذریعے نیچا دکھانے کی سوچ سے اوپر اٹھ کر پونے دو ارب انسانوں کی بھلائی کا سوچنا چاہیے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہاں کے باسی تاریخی، تہذیبی اورلسانی طور پر باہم اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ انہیں توڑنے کی جنونی ذہنیت و کاوش کو سوائے چیڑ پھاڑ کے اور کوئی نام نہیں دیاجاسکتا۔ بنیادی طور تو ہم ایک ہی طرح کے لوگ ہیں۔ اس وقت ہر دو ممالک میں جو خوفناک حالات بنے ہوئے ہیں ہر دوسرا بندہ پوچھ رہا ہے کہ کیا پاکستان اور انڈیا میں جنگ چھڑنے والی ہے؟ مشکل ہے عرِ ض حال، کہنے سے ہو ملال۔ ہم کیا جواب دیں۔
ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف بھی بادشاہ آدمی ہیں۔ کبھی انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے خود اتنی زیادہ سچائی بیان کردیتے ہیں کہ ہاں ہم لوگ پچھلے تیس برسوں سے مغرب کے کہنے پر اس نوع کا ڈرٹی کام یعنی دہشت گرد تیار کرکے بھیجتے رہے ہیں۔ آج وہی فصل کاٹ رہے ہیں جو خود بوئی تھی۔ اس پر عالمی میڈیا والے سوال اٹھاتے ہیں کہ جب تم لوگ اتنے پرانے پاپی ہو تو پھر اپنے موجودہ پاپوں سے انکاری کیوں ہورہے ہو؟ یہ ہمارے ڈیفنس منسٹر صاحب ہی ہیں جو میڈیا کے سامنے کبھی یہ کہتے ہیں کہ تین دن کے بعد جنگ شروع ہوجائے گی۔ کبھی کہتے ہیں ایک ہفتے یا چار دن بعد شروع ہوسکتی ہے۔ کیونکہ مودی بہت غصے میں ہے، وہ ہم پر حملہ کردے گا۔ جس کا ہم پوری تیاری سے جواب دیں گے۔

درویش انڈین پرائم منسٹر مودی کو بھی یہ یاد دلانا چاہتا ہے کہ یہ آپ ہی کہا کرتے تھے کہ اے پاکستانی حکمرانو آؤ غریبی کے خلاف جنگ کریں۔ آپس میں لڑنے کی بجائے بھوک، ننگ، بیماری، جہالت اوردہشت گردی کے خلاف لڑیں۔ یہ آپ ہی کا دیا ہوا نعرہ تھا کہ ”یدھ نہیں بدھ“ یعنی ”جنگ نہیں شعور“ کو اپنی سیاست کا محور بنالیں۔ لیکن آج آپ کبھی ہمارا بارڈر بند کررہے ہیں، کبھی ہمارا پانی بند کرنے کا بیانیہ جاری فرمارہے ہیں اور کبھی اپنی فورسز کو جنگ لڑنے کی اتھارٹی دے رہے ہیں۔ ٹھیک ہے آپ کی طرف دہشت گردی ہوئی ہے، آپ کے بے گناہ لوگ مرے ہیں، جن پر پاکستان نے بھی اظہارِ افسوس کیا ہے۔ اور یہ پیشکش بھی کی ہے کہ اس سانحہ کی انکوائری یا تفتیش کسی مشترکہ ضابطے کے تحت کروالی جائے۔

کوئی شک نہیں کہ اس وقت ٹیررازم ہمارے دونوں ہمسایہ ممالک کا مشترکہ ایشو ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی سے کون سا بچا ہوا ہے۔ باہم جتنی بھی تلخیاں ہیں ان کا حل کسی یدھ یا جنگ سے تو نہیں نکل سکتا۔ بدھ شعور یا سمجھداری سے حوصلے کے ساتھ مل بیٹھ کر ہی امن و سلامتی کی کوئی راہ نکالی جاسکتی ہے۔ پہلی جنگوں کے ذریعے کون سے ایشوز حل ہوئے ہیں جو اب ہوجائیں گے۔ ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہا تھا:
خون اپنا ہو یا پرایا ہو، نسل آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو یا مغرب میں، امن عالم کا خون ہے آخر
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے، جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی، بھوک اور احتیاج کل دے گی