عمران خان کی طرف سے بھارتی رویہ کی مذمت، سیاسی یک جہتی پر زور
سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد تحقیقات کے بجائے مودی سرکار ایک بار پھر پاکستان پر الزام لگا رہی ہے۔
منگل کے روز جاری بیان میں عمران خان نے پہلگام واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب پلوامہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ کا واقعہ پیش آیا تو اس وقت بھی پاکستان نے انڈیا کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی تھی لیکن انڈیا کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات کے بجائے مودی سرکار ایک بار پھر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے۔‘ ڈیڑھ ارب کی آبادی والا ملک ہونے کے ناطے انڈیا کو 'نیوکلیئر فلیش پوائنٹ' کہلائے جانے والے اس خطے کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی اہمیت پر زور دیا ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی قراردادوں میں دی گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’جعلی فارم 47‘ کے نتائج کے ذریعے مسلط کی گئی حکومت نے قوم کو تقسیم کر دیا تھا لیکن نریندر مودی کی جارحیت نے پاکستانی قوم کو متحد کر دیا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اُن تمام اقدامات کو روکا جائے جو ملک میں تقسیم کا سبب بن رہے ہیں۔ ہم اس ’جعلی حکومت کے خلاف ہیں لیکن مودی کی جنگ جوئی کی شدید مذمت کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ علاقے کے امن کو خطرے میں ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں۔
’اس نازک وقت میں ریاست کی سیاسی استحصال پر حد سے زیادہ توجہ داخلی تقسیم کو گہرا کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں قوم کی بیرونی خطرات سے نمٹنے کی اجتماعی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے۔‘