جنگ، سب کے لئے تباہی

سوال تو یہ ہے ایک دہشت گردی کے واقعہ کو بنیاد بنا کر، جو ابھی تحقیق طلب ہے اور جس کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوا، جنگ لڑنے،حملہ کرنے کا انتہائی تباہ کن فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟ بھارتی حکومت نے پہلگام میں دہشت گردی کے بعد چند منٹوں میں یہ بیانیہ بنا لیا کہ پاکستان نے یہ حملہ کرایا ہے۔

 آج ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزر گیا مگر دنیا کے سامنے اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں لا سکا البتہ سارا زور جنگی جنون کو بڑھانے پر لگا ہوا ہے۔ اس پر اگر شکوک و شبہات ابھر رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ نریندر مودی بھارت میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لئے جنگی ماحول کا ناٹک رچا رہے ہیں تو اسے رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ کا آپشن تو بہت استعمال کیا جاتا ہے، جب ایک ملک تسلیم کرے کہ اس نے دراندازی کی ہے اور اس کی وجوہات بھی بتائے۔ یہاں تو پاکستان دنیا کے سامنے کہہ چکا ہے کہ ہم پہلگام واقعہ کی تحقیقات کے لئے تیار ہیں اور کسی بھی فورم پر جو وضاحت مانگی جائے گی اسے پیش کریں گے۔

 آئی ایس پی آر کے ڈی جی نے جو پریس کانفرنس کی اس میں لاتعداد ایسے ثبوت سامنے رکھے جن میں بھارت کے پاکستان میں دہشت گرد گروپوں سے رابطے اور دہشت گردی کے واقعات سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔ پاکستان نے اس بنیاد پر کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم جنگ کا راستہ اختیار کرنے جا رہے ہیں بلکہ ہمیشہ سفارتی و عالمی ذرائع سے اپنا موقف پیش کیا ہے۔ بھارت نے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی توظاہر ہے پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ بھارت آخر کس لئے اس خطے کو جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔

 دونوں ملکوں کے ڈیڑھ ارب انسانوں کو امن، استحکام، خوشحالی اور بھوک ننگ سے نجات کی ضرورت ہےلیکن بھارتی حکمرانوں کا جنگی جنون ان کی زندگیوں کو آتش و آہن کی تباہ کاریوں میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود بھارت کے اندر سے بھی ایسی موثر آوازیں اٹھ رہی ہیں جو نریندر مودی کو ذہنی مریض قرار دے رہی ہیں۔ یہ خطہ امن کا متقاضی ہے، اسے جنگ کی نذر کرنے کا کوئی بھی فیصلہ ظالمانہ اور احمقانہ ہی قرار پائے گا۔ یہ بات بھی طے ہے کہ ایسی کسی جنگ سے بھارت کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ پاکستان اور اس کی مسلح افواج میں اتنی صلاحیت ہے کہ اپنے وطن کی سرزمین کے چپے چپے کا دفاع کر سکیں۔ بلکہ عین ممکن ہے جنگ کی صورت میں بھارت کے اندر داخل ہو کر اسے سبق سکھائے، خود بھارت کے دفاعی مبصرین خبردار کررہے ہیں۔ پاکستان سے جنگ کا ایڈونچر بھارت کے گلے پڑ سکتا ہے، اس لئے ایسے کسی عمل سے باز رہا جائے۔ مگر یوں لگتا ہے نریندر مودی کے پاس اپنی ساکھ اور مقبولیت بچانے کا صرف یہی واحد راستہ بچا ہے کہ وہ جنگ کا بگل بجا کے اپنی جنتا کے انتہاپسندوں کے دل جیت لے۔

سیفما(ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن) پاکستان اور بھارت میں موجود سینئر دانشوروں، صحافیوں اور کالم نگاروں کی ایک موثر تنظیم ہے۔ یہ دونوں ملکوں میں امن و آشتی کی فضا  پیداکرنے کی ہمیشہ کوشش کرتی رہی ہے۔ اس تنظیم کا حال ہی میں ایک اجلاس اسلام آباد اور دہلی میں ہوا۔ جس کے بعد ایک پریس ریلیز جاری کیا گیا جس پر دونوں ملکوں کے نمایاں اور نامور صحافیوں کے دستخط موجود ہیں اس پریس ریلیز میں دہشت گردوں کے ہاتھوں پہلگام میں معصوم شہریوں کی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے،  اس سانحے کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے اور ایک خطرناک جنگی صورت حال کو ٹالا جا سکے۔

اس پریس ریلیز میں دونوں طرف کے امن پسند کارکنان کی جانب سے جو مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے وہ اس خطے کے کروڑوں افراد کی حقیقی آواز ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہم برصغیر کے فکر مند ہمسایہ شہری پہلگام وادی اور دنیا کے کسی بھی مقام پر کسی بھی بہانے سے معصوم اور نہتے انسانوں پر دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، اس کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ اصلی دہشت گردوں اور مجرموں کو بے نقاب کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ ہم بھارت اورپاکستان کے درمیان جاری کشیدہ اور خطرناک صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور دشمنی و جنگی جنون کے خاتمے کی اپیل کرتے ہیں۔ ہماری رائے ہے کہ موجودہ کشیدگی کو کم کرکے بین الریاستی تنازعات کے پرامن حل کیلئے مذاکرات کا آغاز ضروری ہے۔ ہم بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ صورت حال کو بے قابو ہونے سے بچائیں، مکالمے کی منطق کو تباہی کے ہتھیاروں کی دیوانگی پر غالب آنا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ سیفما نے جو نکات اپنی پریس ریلیز میں بیان کئے ہیں، پاکستان نہ صرف پہلے ہی ان کی تائید کر چکا ہے بلکہ بھارت پر زور بھی دے رہا ہے کہ وہ تحقیقات اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ مگر بھارتی حکومت کا جنون اس پاگل دیوانے کی شکل اختیار کر چکاہے جو دوسرے کو تباہ کرنے کے جنون میں خود اپنی تباہی کی بنیاد رکھ رہا ہوتا ہے۔ بھارت شاید تحقیقات کا راستہ اس لئے اختیار نہیں کرنا چاہتا کہ خود اس کے دل میں چور ہے۔ ایک تو پہلگام میں دہشت گردی کا واقعہ بہت مشکوک ہے، پھر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اس کے ملوث ہونے کی ناقابلِ تردید شہادتیں موجود ہیں، جن کا اظہار ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی پریس کانفرنس ہی کر چکے ہیں۔

شواہدبتا رہے ہیں کہ بھارت مودی سرکار کی جنونیت کا شکار ہو کر جنگ چھیڑنے کی تیاری کر چکا ہے۔یہ دنیا کی غالباً پہلی جنگ ہوگی جس میں کسی مضبوط وجہ کے بغیر ایک ملک دوسرے ہمسایہ ملک کے خلاف جنگ کا محاذ کھولے گا۔ یعنی ایک دہشت گردی کے تحقیق طلب واقعہ کو بنیاد بنا کر دونوں ملکوں کے ہزاروں شہریوں کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش تاریخ میں ایک احمقانہ ہی نہیں بلکہ وحشیانہ باب کے طو رپر یاد رکھی جائے گی۔ تاریخ یہ بھی یاد رکھے گی کہ پاکستان پہلگام سانحے کی تحقیقات میں ہر قسم کی مدد و تعاون پیش کر رہا تھا مگر دوسری طرف بھارت کے جنونی حکمران اپنے مخصوص ایجنڈا کی وجہ سے دونوں ملکوں کو جنگ کے ایندھن میں دھکیلنا چاہتے تھے۔

 پاکستان اس حوالے سے تو اخلاقی فتح حاصل کر ہی چکا ہے کہ ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں تاہم جنگ کی صورت میں بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی تیاری بھی مکمل ہے۔ اور اس محاذ پر بھی بھارتی سورماؤں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ اس موقع پر ہمیں ہر لحاظ سے متحد اور یکجان ہونے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ جنگی حالات میں بہت سے ایسے فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں جو عام حالات میں نہیں کئے جاتے۔ ملک میں مثالی ہم آہنگی کے لئے اگر بڑے فیصلے کرنے پڑیں توگریز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ضد اور انا سے بلند تر ہونے کا وقت ہے۔ ہمارا دشمن ایک جنگی جنون طاری کرکے ہم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے۔ اس موقع پر کسی بھی قسم کا سیاسی انتشار یا تقسیم کے ہم تحمل نہیں ہو سکتے۔ سب کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے۔ اقتدار بھی اسی پاکستان کی دین ہے اور سیاست بھی پہلے پاکستان کو بچائیں، وقت کا پیغام یہی ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)