باقاعدہ جنگ کی طرف دھکیلتے مودی کے اقدامات

مجھے خبر نہیں کہ جمعرات کی صبح جب یہ کالم اخبار میں چھپے گا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ جنگ شروع ہو چکی ہو گی یا نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے پہل گام میں 22 اپریل 2025 کے دن ہوئی دہشت گردی کی واردات کے بعد سے اس جنگ کے امکانات کا مستقل ذکر کرنا شروع ہو گیا تھا۔

میرے خدشات کو البتہ ان دوستوں نے نہایت شدت سے رد کیا جو ہمارے ریاستی فیصلہ سازوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ وہ مصر رہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے ہوتے ہوئے پاکستان اور بھارت کسی بھرپور جنگ کے متحمل ہو نہیں سکتے۔ پلوامہ میں ہوئے دہشت گردی کے ایک واقعہ کے بعد 2019 میں بھی یہ دونوں ملک ایک بھرپور جنگ کی جانب بڑھتے نظر آ رہے تھے۔ اس واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے مودی سرکار نے بالاکوٹ پر فضائی حملے کئے تھے۔ پاکستان نے فضائی جارحیت کا حساب برابر کرنا چاہا تو ایک بھارتی طیارہ پاکستان کی سرزمین پر گرا لیا گیا۔ اس کا پائلٹ بھی  ہماری زمین سے گرفتار ہوا۔

بھارتی طیارے کی تباہی اور اس کے پائلٹ کی گرفتاری کے بعد پاک بھارت معاملات سنگین سے سنگین تر ہوتے نظر آئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں بھی امریکہ کا صدر تھا۔ مشرقی ایشیا کے ایک دورے کے دوران مگر اس نے عالمی میڈیا کو یہ ’خبر‘ دی کہ اس کی کاوشوں سے پاک بھارت جنگ کے امکانات باقی نہیں رہے۔ بھارتی پائلٹ کو رہا کر دیا جائے گا اور جنوبی ایشیا کے ازلی دو حریف ملکوں کے مابین تعلقات اس کے بعد معمول کی صورت اختیار کر لیں گے۔

مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ 2019 کے مقابلے میں بھارتی معیشت ان دنوں بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ چین کو نیچا دکھانے کے لئے بین الاقوامی سرمایہ کار اس ملک میں سستی اُجرت کی بدولت عالمی منڈی میں مطلوب برانڈز تیار کروانا چاہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ بھارت کو جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کا شراکت دار بناتے ہوئے جنگی اعتبار سے بھی اسے چین کے برابر کی قوت بنانا چاہ رہا ہے۔ ایسے موقع پر بھارت اگر پاکستان کے ساتھ ایک بھرپور جنگ میں الجھ گیا تو اس کی معاشی اور دفاعی نمو کے امکانات ویسے ہی مخدوش تر ہو جائیں گے جیسے ستمبر 1965 کی جنگ کے بعد تیزی سے ترقی کی جانب بڑھتی پاکستانی معیشت کے ساتھ ہوا تھا۔

کسی بھی معاملہ کا تجزیہ کرتے ہوئے میں دیگر حقائق کے علاوہ اس معاملے سے متعلق فیصلہ ساز افراد کی نفسیاتی ترجیحات بھی ذہن میں رکھنے کا عادی ہوں۔ میری دانست میں نریندر مودی بنیادی طور پر ایک انتہا پسند ہندو ہے۔ اس کی اولیں ترجیح بھارت کو امریکہ یا جاپان جیسا اقتصادی اعتبار سے قابل رشک ملک بنانا نہیں۔ آر ایس ایس کے پرچارک کی حیثیت سے اپنے سیاسی کیرئیر کے آغاز کے بعد بھارت کا تیسری بار منتخب ہوا یہ وزیر اعظم اپنی Legacy یا ورثے کے طور پر بھارت کو ہندو بالادستی کا مظہر ملک بنانا چاہتا ہے۔ اور اس ہدف کے حصول کے لئے وہ ’جنونی‘ نظر آتے فیصلے لینے سے نہیں گھبراتا۔

میرا تجزیہ مگر اس وقت غلط  ثابت ہوا نظر آیا جب طویل مشاورت کے بعد نریندر مودی نے پاکستان کو پہلگام واقعہ کا ذمہ دار تو ٹھہرایا مگر اس کا ’حساب چکانے‘ کے لئے جو فیصلے لئے وہ فوری جنگ کے بجائے طویل المدتی اور ’سفارتی‘ محسوس ہوئے۔ سندھ طاس منصوبہ پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ برقرار رکھنا ممکن نہیں کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائی پانی کی تقسیم کا یہ معاہدہ عالمی معیشت کے نگہبان اداروں، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف، کی بھرپور شرکت کی بدولت ممکن ہوا تھا۔ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا بھی ان ہی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ ویزوں اور دونوں ملکوں کے سفارت خانوں کے عملے میں کمی کے جو فیصلے ہوئے وہ پاکستان اور بھارت کے مابین کئی برسوں سے جاری کشیدگی کے تناظر میں معمول بن چکے ہیں۔

سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد سے انکار سفارتی حوالوں سے یقیناً ایک اہم ترین فیصلہ ہے۔ بھارت اس معاہدے پر 1965 اور 1971 کی جنگوں کے درمیان بھی عمل پیرا رہا۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان کو کشمیر سے آئے دریاؤں کے پانی سے کاملاََ محروم رکھنا بے تحاشہ وجوہات کی بنیاد پر ممکن نہیں۔ دریائوں کا رخ موڑنے سے قبل ان کے پانی کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر ہی میں روکنے کے لئے خطیر سرمایہ کاری سے کئی ڈیم بنانا ہوں گے۔ خطیر رقوم کے زیاں کے علاوہ یہ ڈیم ماحول دشمن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ مودی سرکار کو مگر اصل مشکل یہ پیش آ رہی ہے کہ پہلگام کا ’بدلہ‘ لینے کے جذبات سے مغلوب ہوئے بھارت کے شہریوں کی اکثریت سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد روکنے کے فیصلے کو ناکافی شمار کر رہی ہے۔ ہندوتوا کی بالادستی کے خواب دکھاتے نریندر مودی سے بھارتی عوام کی اکثریت تقاضہ کر رہی ہے کہ وہ اپنی بڑکوں کے مطابق پاکستان کو اس کے ’گھر میں گھس کر سبق سکھائے‘۔ اپنے موبائل فونوں اور ٹی وی سکرینوں پر وہ بھارتی فوج کی جانب سے ایسے ’کمانڈو‘ ایکشن ہوتے دیکھنا چاہ رہی ہے جو فلموں یا ڈراموں میں دکھائے جاتے ہیں۔

اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے نریندر مودی منگل کا سارا دن اپنی افواج کے سربراہان سے طویل مشاورت کو مجبور ہوا۔ ان کے ساتھ  ہوا اجلاس ختم ہوا تو ایک عالمی خبر رساں ایجنسی کے ذریعے مودی سرکار کے ذرائع نے یہ خبر چلوائی کہ جو اجلاس ہوا تھا اس کے اختتام پر بھارتی وزیر اعظم نے اپنی افواج کے سربراہوں کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ پاکستان کو ’سبق سکھانے‘والے کسی اقدام کی تیاری کریں۔ اس ضمن میں وقت، ایکشن کے انداز اور طریقہ کے تعین کا حق بھی تینوں افواج کے سربراہان کو دے دیا گیا ہے۔ جو خبر چھپوائی گئی اس کا سادہ ترین مطلب یہ ہی تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے اپنی افواج کو پاکستان کے خلاف متحرک ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ غالباََ اسی وجہ سے پاکستان کے وزیر اطلاعات کو منگل اور بدھ کی درمیانی رات قوم سے ہنگامی خطاب کرنا پڑا۔ اس کے ذریعے انہوں نے قوم کو آئندہ 24 سے 36 گھنٹوں کے درمیان ممکنہ بھارتی حملے کے بارے میں خبردار کیا۔

بدھ کے روز مگر بھارتی وزیر اعظم نے اپنی کابینہ کی قومی سلامتی کے بارے میں بنائی کمیٹی کا اجلاس بھی بلا رکھا ہے۔ اس کے دوران بھی کچھ اہم فیصلے ہوں گے۔ یہ لکھتے ہوئے مجھے ہرگز خوشی نہیں ہو رہی کہ میر ے وہ دوست اپنے اندازوں کے حوالے سے غلط ثابت ہو سکتے ہیں جو 22 اپریل سے میرے بیان کردہ خدشات کو شدت سے رد کر رہے تھے۔

(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)