کیا جنگ ٹالی جاسکتی ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 01 / مئ / 2025
پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں یہ سوال بے حد اہمیت حاصل کرچکا ہے کہ کیا جوہری صلاحیت کے حامل دو ہمسایہ ملکوںمیں جنگ ٹالی جاسکتی ہے۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے ۔ کیوں کہ نئی دہلی سے مسلسل جنگ جوئی کا بیانیہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ پاکستان نے واضح کیاہے کہ وہ جنگ میں پہل نہیں کرے گا لیکن اپنے خلاف ہونے والی کسی کارروائی پر خاموش بھی نہیں رہے گا۔
آج لائن آف کنٹرول کے دورہ کے دوران پاکستانی سپاہ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دو ٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ ’پاکستان علاقائی امن کے لیے پُرعزم ہے مگر اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ اگر انڈیا نے کسی بھی طرح کی فوجی مہم جوئی کی تو پاکستان کی جانب سے اس کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا‘۔ قیاس کیا جارہا ہے کہ پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف کا یہ بیان 2019 میں پاکستانی فوجی قیادت کی طرف سے اختیار کیے گئے معتدل اور مفاہمانہ مؤقف سے برعکس ہے۔ اس وقت پلوامہ میں 40 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھی مودی حکومت نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے انتقام لینے اور پاکستان کو سزا دینے کا بیانیہ بنایا تھا۔ اسی کے نتیجے میں بالاکوٹ پر حملہ کرکے ’گھس کر ماریں گے‘ کے دعوے کیے گئے اور اس حملہ کو سرجیکل اسٹرائیک کا نام دے کر باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ بھارت ، پاکستان میں ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
2019 میں اس سانحہ کے بعد پاک فضائیہ نے بھارتی فائیٹرز کے ساتھ ایک جنگ میں دو بھارتی طیارے مار گرائے تھے جن میں ایک پاکستانی علاقے میں گرا اور اس کا پائلٹ گرفتار کرلیا گیا۔ پاکستان نے اس وقت مزید کشیدگی سے بچنے اور تنازعہ ختم کرنے کے مقصد سے پائلٹ کو فوری طور سے رہا کرکے حالات معمول پر لانے کی کوشش کی تھی۔ تاہم اس بار پاک فوج اور سیاسی قیادت کی طرف سے سامنے آنے والے اشاریوں میں واضح طور سے پیغام دیا جارہا ہے کہ اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں اور بھارت کو ہر چند سال بعد کسی واقعہ کا الزام پاکستان پر لگا کر کسی عسکری کارروائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس بار پاکستان کی طرف سے بین الااقوامی دارالحکومتوں کو یہی پیغام پہنچایا گیا ہے کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا اور امن کا خواہش مند ہے۔ پاکستان امن کے لیے ہر قسم کی بات چیت اور اقدامات پر آمادہ ہے لیکن اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف کوئی عسکری کارروائی کی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان کا یہ پیغام کئی طریقوں سے سامنے آیا ہے۔ پہلگام سانحہ اور اس کے بعد بھارت کی طرف سے الزام تراشی کے سنگین ماحول میں پاکستانی حکومت کے نمائیندوں نے تسلسل واضح کیا ہے کہ اس بار پاکستان کا رد عمل 2019 کے مقابلے میں مختلف ہوگا۔ گزشتہ روز آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاتھا کہ ’پہلگام کے سانحہ میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ اس کے باوجود اگر بھارت اشتعال انگیزی کرتا ہے اور کوئی جنگی صورت پیدا کی جاتی ہے تو یہ اس کا فیصلہ ہوگا لیکن پھر یہ جنگ کیا رخ اختیار کرتی ہے، یہ ہم طے کریں گے‘۔ اس بیان سے بھی یہی اندازہ قائم کیا جارہا تھا کہ پاک فوج بھارت پر واضح کررہی ہے کہ اس بار کسی نرمی کی توقع نہ رکھی جائے ۔ پاکستان کی خود مختاری پر کوئی حملہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ آج آرمی چیف نے اسی بات کو دہرایا ہے اور دوٹوک الفاظ میں امن کی ضرورت پر زور دیا ہے لیکن واضح کیاہے کہ پاکستان کسی قسم کی جنگ جوئی کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ یہ محض دھمکی یا عوام کے اطمینان کے لیے جاری ہونے والا بیان نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے بھارتی لیڈروں پر واضح کیا جارہا ہے کہ پاکستان بھارتی اشتعال انگیزی برداشت کرنے پر تیار نہیں ہے اور اس کا جوب دینے کے لیے کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ ہے۔
ایک اندازہ ہے کہ 2019 میں بھارت کو بالاکوٹ پر حملہ کرتے ہوئے یقین تھا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی چپقلش نہ تو کسی بڑی جنگ میں تبدیل ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کے جوہری ہتھیار استعمال ہونے کی نوبت آئے گی۔ البتہ اس بار نئی دہلی کو اس کے برعکس پیغام پہنچایا جارہا ہے۔ اسی پیغام رسانی کی وجہ سے بھارت کے عسکری تجزیہ نگار بھی دونوں ملکوں میں کسی بڑی جنگ کے امکان کو مسترد کررہے ہیں۔ البتہ کسی معمولی جھڑپ کے قیاس قائم کیے جارہے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے مودی حکومت کے لیے یہ مسئلہ موجود ہے کہ اس نے پہلگام کے بعد پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے ایسے سخت الفاظ کا چناؤ کیا اور بھارتی میڈیا نے جنگ کا ایسا سنسنی خیز ماحول قائم کیا کہ کوئی نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک قسم کا واقعہ بھارتی رائے عامہ کی تشفی نہیں کرپائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی طرف سے یہ بتا دیا گیا ہے کہ اگر کوئی حملہ ہؤا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ اس جوابی کارروائی کی نوعیت کے بارے میں ابہام موجود ہے لیکن پاکستانی لیڈر ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ سے زیادہ کی بات کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اگر جنگی کارروائی ہوئی تو ہم جوابی کارروائی کی شدت کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔ یہی ایک نکتہ بھارتی حکام کے لیے پاکستان کے ساتھ کسی جھڑپ سے باز رہنے کا پیغام ہے۔
بھارت نے پہلگام سانحہ کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کے باوجود ابھی تک اس کے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔ بھارتی حکومت نے امریکہ سمیت تمام ممالک سے سفارتی اعانت حاصل کرنے کے لیے جو رابطے کیے ہیں ، ان میں یہی کہا گیا ہے کہ ماضی میں پاکستان کا کردار مشکوک رہا ہے۔ لیکن دنیا پہلگام سانحہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت مانگتی ہے۔ اس کے واضح شواہد موجود نہ ہونے کی صورت میں بھارتی لیڈروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور محض اندازوں کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف جنگ جوئی سے باز رہیں۔ کیوں کہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ایک خود مختار ملک پر حملہ کرنے یا فوجی کارروائی میں اسے ’سزا‘ دینے کا طریقہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ کی حکومت بھی بھارتی لیڈروں کو یہی پیغام دے رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دونوں ملکوں میں قدیم دشمنی ہے۔ وہ خود ہی اس سے نمٹ لیں گے‘۔
اب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے فون پر بات کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے دونوں ملکوں کو جنگی صورت حال ختم کرنے اور مل جل کر معاملات طے کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ سے بات کی ہے اور موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے اس گفتگو کے بارے میں ’ایکس‘ پر ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’امریکہ انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کے حقِ دفاع کی حمایت کرتا ہے‘۔ امریکہ کی طرف سے پاکستانی و بھارتی لیڈروں کے ساتھ رابطوں کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ البتہ راج ناتھ سنگھ جو بیان امریکی وزیر دفاع سے منسوب کررہے ہیں، بظاہر اسے سیاق و سباق کے بغیر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امریکہ ، بھارت کو اہم حلیف سمجھتا ہے اور اس نے چین کے خلاف اپنی معاشی و اسٹریٹیجک حکمت عملی میں بھارت پر انحصار بڑھایا ہے۔ اسی لیے امریکہ کو اندیشہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ میں بھارتی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا اور وہ شاید علاقے میں وسیع تر امریکی اہداف میں معاونت کے قابل نہ رہے۔ اسی لیے امریکہ خاص طور سے بھارت کو جنگ سے باز رہنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ تقریباً سب تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی بھی قسم کی جھڑپ یاجنگ امریکہ کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔
ایک طرف بھارت کی طرف سے جنگ کا بیانیہ اختیار کیا گیا ہے لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان نے مسلسل امن کی بات کی ہے اور علاقے کے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آج آرمی چیف نے فوجی دستوں سے خطاب کرتے ہوئے بھی امن کو مقدم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی پہلگام سانحہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان امن ہی کی بات کی تھی۔ اس وقت اگرچہ برصغیر کی صورت حال خطرناک حد تک سنسنی خیز ہوچکی ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ بھارتی لیڈروں اور میڈیا کا جنگجویانہ رویہ ہے جس میں امن و مفاہمت کا کوئی پہلو موجود نہیں ہے۔ البتہ پاکستان صرف اپنا دفاع کرنے کی بات کرتے ہوئے امن کی خواہش کا اظہار کررہا ہے۔ اس حوالے سے امریکہ میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے میں مدد کریں۔ امریکی جریدے ’نیوز ویک‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے نشاندہی کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے دنیا میں امن اور جنگوں کے خاتمے کا ایجنڈا پیش کیا تھا۔ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے کیوں کہ دونوں ملکوں کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ اسی لیے صدر ٹرمپ کو اس تصادم کو روکنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
پاک بھارت کشیدگی کے ماحول میں اگر مختلف پہلوؤں سے سامنے آنے والے حقائق کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ دونوں ملک براہ راست فوجی تصادم کے بغیر موجودہ مشکل صورت حال کا کوئی حل تلاش کرلیں گے۔ دنیا بھر کے امن پسند لوگ یہی چاہتے ہیں۔ لیکن جنگ سے باز رہنے کا فیصلہ بہر حال نئی دہلی کی حکومت اور ہندو انتہاپسندی کے ایجنڈے پر یقین رکھنے والے نریندر مودی کو کرنا ہے۔