آئی ایس آئی کے سربراہ عاصم ملک مشیر قومی سلامتی بنادیے گئے
پہلگام حملے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی کے ماحول میں وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ آئی ایس آئی کے کسی حاضر سروس سربراہ کو مشیر قومی سلامتی جیسے اہم عہدے کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مشیر قومی سلامتی کا عہدہ اپریل 2022 سے خالی تھا۔ اس ضمن میں بدھ کی شام جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو اِس عہدے کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ یعنی وہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی اپنا کام بدستور جاری رکھیں گے۔
گزشتہ رات پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کی بطور مشیرِ قومی سلامتی تقرری کا انڈیا کے ساتھ مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ نجی چینل جیو نیوز پر شاہزیب خانزادہ کے اس سوال پر کہ کیا آئی ایس آئی چیف کو قومی سلامتی کے مشیر کا چارج اس لیے دیا گیا ہے کہ پاکستان کو انڈیا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی توقع ہے؟ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ چاہے جتنی بھی کشیدگی ہو بالآخر مذاکرات کا راستہ ہی اپنایا جاتا ہے۔ تاہم آئی ایس آئی کے سربراہ کو مشیر برائے قومی سلامتی کا اضافی چارج دینے کا انڈیا کے ساتھ مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
خیال رہے مشیر قومی سلامتی کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر کا درجہ رکھتا ہے اور اس منصب پر تعینات شخص قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور سٹریٹجک امور جیسے معاملات پر وزیر اعظم کے پرنسپل مشیر کے طور پر کام کرتا ہے۔ مشیر قومی سلامتی اسلام آباد میں وزیراعظم سیکریٹریٹ میں قائم قومی سلامتی ڈویژن کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔
پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں میں اس تعیناتی کو اِس وقت بڑی اہمیت دی جا رہی ہے اور اس تعیناتی، اس کی ٹائمنگ اور مقاصد پر بحث زور پکڑ رہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کا تعلق ایک عسکری خاندان سے ہے اور اُن کے والد لیفٹیننٹ جنرل (ر) جنرل غلام محمد ملک 90 کی دہائی کے اوائل میں راولپنڈی کے کور کمانڈر رہ چکے ہیں۔
پاکستان آرمی کی بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے پاکستان ملٹری اکیڈمی سے اعزازی شمشیر کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔ وہ امریکہ کے ’فورٹ لیون ورتھ‘ آرمی کالج کے علاوہ برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز سے بھی فارغ التحصیل ہیں۔
عسکری حلقوں میں جنرل عاصم ملک کو خاص طور پر بلوچستان کے امور پر دسترس رکھنے والے افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اپنے عسکری کریئر میں انہوں نے دالبندین میں 41 ویں انفنٹری ڈویژن کی کمان کے علاوہ وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کی کمان بھی کی۔ اس کے علاوہ وہ نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں ’وار ونگ‘ کے چیف انسٹرکٹر اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں بھی بطور انسٹرکٹر تعینات رہ چکے ہیں۔