پاک بھارت جنگ نہیں ہوگی
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 02 / مئ / 2025
درویش کے ایک دانشور دوست نے پوچھا ہے کہ آپ تو ہمیشہ سے انڈیا کی حمایت میں لکھتے چلے آرہے ہیں۔ ان دنوں کیا ہوا ہے کہ آپ تواتر سے انڈیا اور مودی کی مخالفت میں کالمز لکھ رہے ہیں۔ وضاحت کی کہ چند سرخیوں سے لیا گیا آپ کا یہ تاثر درست نہیں ہے۔
یہ ناچیز کسی بھی قوم کی ناروا مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ چہ جائیکہ انڈیا کی۔ اس نے روزِ اول سے یہ اصول اپنا رکھا ہے کہ کسی بھی قوم کا گند اس کے اپنے لوگوں کو صاف کرنا چاہئے نہ کہ دوسرے ملک کے لوگوں کو ۔ جب بھڑکاؤ نوسربازوں نے کسی بھی قوم کے خلاف منافرتوں کا طوفان بپا کر رکھا ہوتو پھر اس قوم کی حمایت میں بولنا سیدھے سبھاؤ ممکن نہیں رہتا۔ نہ اخبار قبول کرتا ہے۔ بظاہر کڑوا اسلوب اپنا کر ہی میٹھی یا پیار کی بات کی جاسکتی ہے۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنی فیملی کے کسی فرد کو توجہ دلائیں یا کہیں بیٹی کو اور سمجھائیں بہو کو۔ اور پھر ہماری حمایت یا مخالفت کا معیار اول و آخر سچائی و بھلائی ہونا چاہیے نہ کہ قومیتی تعصب یا کسی نوع کی پاپولیریٹی کا ناروا خبط۔ ذاتی پاپولیریٹی یا سستی شہرت کا یہی خبط ہے جو نہ صرف اقوام کے باہمی تعلق بلکہ عام انسانی رشتوں کو بھی برباد کردیتا ہے۔ درویش کو بڑے دکھ سے یہ کہنا پڑرہا ہے کہ ان دنوں ہمارے قومی و سوشل میڈیا میں پاپولیریٹی کے یہ حریص اتنا گندا اور گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں کہ درویش کو اس سے گھن آتی ہے۔ دوسرے ممالک اور ان کی قیادت کے متعلق انسانی وقار اور اخلاقیات سے گری ہوئی نیچ درجے کی زبان بولی جارہی ہے۔ پاکستان میں تو چلیں ڈیموکریسی بھی دو نمبری ہے جبکہ کوئی مانے نہ مانے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نے بلاتعطل پیہم، ایک تسلسل کے ساتھ، جس طرح ڈیموکریٹک ویلیوز کو مضبوط کیا ہے یہ پوری ڈیموکریٹ ورلڈ کے لیےقابلِ فخر ہے۔
آج اگر ان میں کسی حد تک مذہبی شدت ابھرتی دکھائی دیتی ہے تو اس کا باعث یا کارن کوئی اور نہیں ہم ہیں، ہمارے اپنے بہت سے پاکستانی مخصوص جنونی مذہبیت کی ذہنیت سے لتھڑے ہوئے ہیں۔ ہماری دہائیوں پر محیط اسی ذہنیت کا یہ محض ایک وقتی ہندی ابال یا ردعمل ہے جو مستقل بالذات نہیں۔ جونہی ہمارا طوفان کہیں تھم،ا ان کا گراف بھی اس سے کہیں زیادہ ریشو سے بڑھ کر تیزی سے نیچے آجائے گا۔ البتہ ناچیز کو یہ تسلیم کرنے میں کوئی الجھاؤ نہیں کہ ہمارے میڈیا میں اس وقت منافرت کی ذہنیت جتنی چھائی ہوئی ہے۔ جس نوع کی جنونی بے لگام زبان میں بھڑکاؤ بھاشن دیے جارہے ہیں، اس کے ردِعمل میں انڈین میڈیا یا ان کا سوشل میڈیا بھی کسی طرح پیچھے نہیں رہا ہے۔ ان کی سوسائٹی میں بھی کئی میجرگورو آریا صاحب جسے شدت پسند چھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی دھروراٹھی جیسے باشعور لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ہمارے بلوچستان ایشو اور جعفر ایکسپریس کے اغوا جیسی دہشت گردی اور قیمتی جانوں کے نقصان پر انڈیا سے کئی غیر ذمہ دارانہ آوازیں درویش کے ہیومن تھاٹ سے ٹکڑاتی رہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی واضح رہے کہ مابعد سانحہ پہلگام پر کسر ہمارے تعلی باز بھڑکاؤ لوگوں نے بھی اٹھائے نہیں رکھی۔ بلکہ میڈیا تو رہا ایک طرف ہمارے کچھ غیر ذمہ دار سیاسی و عسکری لوگوں نے بھی حد کردی۔ ہمارے ایک تگڑے نے شروعات میں ہی جو کچھ بولا جو گڑھے مردے نکالے، نرم ترین الفاظ میں بھی وہ قطعی غیر ذمہ دارانہ رویہ تھا۔ جوکم از کم اس ذمہ داری پر فائز کسی بھی شخصیت کو زیب نہیں دیتا تھا۔ بھائی آپ جس فرسودہ آئیڈیالوجی کو آج نئے رنگ روغن لگا کر پیش فرماہے ہیں، پون صدی پر محیط اس کی تباہ کاریوں پر ہی ایک نظر ڈال لیں۔ جب اس کا سب سے بڑا علمبردار خود ہی اس کے بھیانک نتائج دیکھتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچتے ہی اس سے تائب یا فرار ہوگیا تھا۔
ہمارے عوام کالانعام کی سادہ لوحی کہیں یا سیاسی فہم و ادراک کا فقدان، فائدہ اپنی بلے بلے کے لیے محض عسکریوں نے ہی نہیں اٹھایا، سیاسی بہروپیے بھی ہر دور میں اپنی ہوس اقتدار کے لیے اپنی سستی نعرے بازی کے ذریعے اس کا خوب کھلواڑ کرتے چلے آرہے ہیں۔ جناح ثانی اور جناح تھرڈ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ یہ درویش ہمیشہ سے نئی نسلوں کا اس لیے بھی حمایتی چلا آرہا ہے کہ انہیں یہ موقع ملتا ہے کہ وہ پرانی نسلوں کی غلطیوں سے سیکھیں اور بہتر مدلل لائحہ عمل اختیار کریں۔ مگر افسوس کہ نئی نسلوں میں بھی کئی ایسے گرے پڑے ہوتے ہیں کہ وہ سیکھنا چھوڑ، اپنے بڑے کفن چوروں سے بھی کئی ہاتھ آگے نکل جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال ہمارے ایک سیاسی پیو کی ہے۔ انڈیا میں تو پیو ایک اہم لیڈرکے لیے استعمال ہوتا ہے، مگر ہمارا یہ پپو جب بھی بولتا ہے منافرتوں کے بھگولے چھوڑتا ہے تاکہ اپنے گرینڈ فادر کی طرح وہ بھی مہربانوں کا منظورِ نظر ہوجائے۔ ایسے ہی نام نہاد ”محب وطنوں“ کی وجہ سے اقوام عالم میں باہمی منافرتیں بھڑکتی ہیں اور حالات جلتی پر تیل چھڑکنے کی طرح جنگی جنون کی طرف جاتے ہیں۔
اپنے پچھلے آرٹیکل میں درویش نے پرائم منسٹر مودی کو ان کا اپنا نعرہ یاد دلایا تھا ”یدھ نہیں بدھ“۔ یہ کہ آپ ہمیشہ پاکستانی نیتاؤں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ آؤ ہم غریبی کے خلاف جنگ کریں اتنک واد سے لڑیں۔ لیکن اب سانحہ پہلگام میں بے گناہ و معصوم انسانوں کو مذہبی منافرت کے ساتھ جس درندگی سے مارا گیا ہے، اس کے ردِعمل میں آپ کی طرف سے بدلے کی جو آگ اٹھی ہے اس سے یوں لگا کہ پاکستان اور بھارت میں شایدخوفناک جنگ چھڑنے والی ہے۔ اس تمامتر شور شرابے میں بھی درویش یہ کہتا رہا کہ جنگ نہیں ہوگی۔ کئی احباب نے پوچھا تو یہی جواب دیا کہ کچھ جھڑپیں ہوسکتی ہیں، بڑی جنگ نہیں ہوگی۔ حالانکہ خود ہمارے اس ملکِ بدنصیب پر مسلط لال بچھکڑوں نے منافرت پھیلانے کا کوئی موقع جانے نہیں دیا۔ ایک وزیر نما شخص نے تو رات دو بجے قوم کو جگا کر خوفزدہ کرنے کی آخری کوشش کی کہ اگلے چوبیس یا چھتیس گھنٹوں میں بڑی جنگ چھڑنے والی ہے۔ اس سے ان لوگوں کی اندرونی بوکھلاہٹ ملاحظہ کی جاسکتی تھی۔ دوسری طرف پرائم منسٹر نریندرا مودی نے جب تمامتر میٹنگز کے بعد اپنے عسکری لوگوں کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں کارروائی کرسکتے ہیں تو اس کا واضح مطلب تھا کہ وہ یعنی انڈین قیادت اس نوع کا کوئی آخری اقدام اٹھانے سے گریزاں ہے۔ اور یہ ان کی دور اندیشی و امن پسندی کا واضح اظہار ہے
وہ دوسرے کو تباہ کرنے کی فضول شوق میں اپنی ترقی کا سفر روکنا نہیں چاہتے۔ پاکستان کے ایک سابق معروف سیاستدان ائر مارشل اصغر خاں کا بیان سوشل میڈیا پر ہر جگہ دستیاب ہے جس میں وہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا میں اب تک جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں، ان کا آغاز ہندوستان نے نہیں ہمارے پاکستانی مقتدروں نے کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ نقصان یا گھاٹا بھی ہمیشہ خود ہمیں کو اٹھانا پڑا ہے۔ اصغر خاں صاحب یہ بات نہ بھی کہتے تب بھی جو لوگ معاملات کی اصلیت جاننے کے لیے سٹڈی کرتے ہیں، حقائق ان پر بخوبی واضح ہوجاتے ہیں۔
اڑتالیس کی جنگ اس وجہ سے ہوئی تھی کہ ہمارے کچھ مہم جوؤں نے سوچا قبائلی لشکروں کے ساتھ ساتھ ان کے روپ میں اپنے عسکری لوگوں کو داخل کرتے ہوئے بذریعہ جہاد، مہاراجہ سے وادی چھین لیتے ہیں۔ پینسٹھ میں بھی کرسی کے ایک حریص نے اپنی جعلی دانشوری بگھارتے ہوئے چھاتہ بردار اتروائے۔ یوں نہ صرف ایوب کو مروادیا بلکہ پاکستان کی ابھرتی قومی ترقی کا ستیاناس کرڈالا۔ دوسرے لفظوں میں ایک تیر سے دو شکار کھیلے اور اپنی ہوس اقتدار کی راہ سیدھی کی۔ یہی بڑھی ہوئی ہوس تھی جس نے شیخ مجیب کی واضح جمہوری جیت کو ہار میں بدلواتے ہوئے وہ گھناؤنا کھیل کھیلا کہ نوبت اکہتر کی پاک بھارت جنگ تک پہنچ گئی۔ رہ گئی کارگل وار اس پر تو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ مشرف کی طالع آزمائی اور اقتدار کی ناروا ہوس سے کس کو آگہی نہیں ہے؟
لیکن نتائج میں تباہی کسی اور کی نہیں اس بدنصیب خطے کے باسیوں کی ہوئی۔
سانحہ پہلگام کی تازہ بربادی کا اصل مرتکب یا کارن کون تھا؟ اس پر تفصیلی دلائل کے ساتھ مباحثہ کروایا یا چھیڑا جاسکتا ہے۔ لیکن کم از کم ہمارے ملک میں اس وقت اس بیانیے کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔ اس کے ساتھ یہ امر بھی واضح ہے کہ اس اتنک واد کے خلاف ثبوت خود انڈین قیادت کے پاس بھی موجود نہیں ہیں۔ سواۓ توجیہات اور تخمینوں کے، ایسی صورت میں سزا دینا یا بڑی جنگ چھیڑنا بلا جواز و ناجائز ہے۔ اس کے باوجود موجودہ بدترین حالات میں خطۂ پاک و ہند کی جو فضا بنی ہوئی ہے، ہر امن پسند انسان پریشان اور خوفزدہ ہے کہ کہیں جنگ کی صورت میں بڑی تباہی تو یہاں مسلط نہیں ہونے والی۔ دور دور کی کوڑیاں لانے والے چلارہے ہیں کہ امریکا چائینہ کا مکو ٹھپنے کے لیے مودی کا کندھا استعمال کررہا ہے۔ ایسی ایسی من گھڑت کہانیاں پھیلائی جارہی ہیں کہ الامان، ایسے جیسے بڑی جنگ چھیڑنے کے لیے پہلگام میں خود مودی نے فالس فلیگ آپریشن کروایا ہے۔ اسی لیے اس کی ایف آئی آر اتنی شتابی میں کٹوائی گئی ہے۔ فالس فلیگ آپریشن جیسے گھٹیا الزامات عائد کرنے والوں کو درویش صرف اتنا کہنا چاہے گا کہ شکوۂ بیجا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ کسی کے بچے مرے ہوں اور آپ ان کے دل گرفتہ باپ سے تعزیت کرنے کی بجائے قاتل ہونے کا گھناؤنا الزام یا پروپیگنڈہ خود اسی پر دھر دیں۔
درویش کے یہ خدشات ضرور ہیں کہ جنگ سے بچتے ہوئے محض اشک شوئی یا اپنے بھڑکے ہوئے عوامی جذبات کی ڈھارس کے لیے کچھ ٹارگٹڈ میزائل چلائے جائیں جن کا نشانہ مریدکے میں موجود لشکر طیبہ کا مرکز بھی ہوسکتا ہے یا حافظ سعید جیسے کسی جہادی کا ٹھکانہ یا کوئی عسکری بیس بھی۔ اور جوابی طور پر بھی کچھ اسی نوع کے میزائلوں پر اکتفا کرلیاجائے۔ لیکن یہ اتنا حساس ایشو ہے اگر کچھ زیادہ بڑھا تو اس پھیلاؤ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ مگر درویش کو پانچ شخصیات کی وجہ سے ایک نوع کا اطمینان ہے اور اندر خانے وہ سب اپنا یہ رول ادا کربھی رہی ہیں۔
سب سے پہلی اور بڑی امریکی قیادت ہے، جس نے حال ہی میں ہر دو اطراف ٹھوس کردار ادا کیا ہے۔ دوسرے سعودی کراؤن پرنس ہیں۔ تیسرے متحدہ امارات والے ہیں۔ چوتھے نوازشریف ہیں اور پانچویں خود نریندرامودی جو جنگ کی سنگینیوں کا ادراک رکھتے ہیں۔ اور اپنی ترقی کے سفر کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ جتنے دن گزرے ہیں اندرونی طور پر بھرپور سفارتکاری ہو رہی ہے۔ حالیہ طوفان تو جیسے تیسے ٹل جائے گا البتہ اگر پاک ہند منافرت یا تناؤ جاری رہا، خطے میں پراکسیوں کو قابو کرتے ہوئے ٹیررازم کو نہ روکا گیا تو انڈین قیادت طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت بڑے ڈیمز تعمیر کرتے ہوئے پاکستانی دریاؤں کا کنٹرول بڑی حد تک لے سکتی ہے۔ پاکستان کے باہوش اور ذمہ دار طبقات کو اس حوالے سے ضرور غور و فکر کرلینا چاہئے کیونکہ ایسی صورت میں جو جنگ ہوگی وہ نہ صرف حقیقی ہوگی بلکہ پاکستان کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ عالمی طاقتیں بھی انڈیا کی ہمنوائی میں یہی بولیں گی کہ ان پانیوں پر پہلا حق انہی کا بنتا ہے، جہاں یہ پہاڑی سلسلہ ہے اور جہاں سے یہ پانی آتا ہے۔
اس تناظر میں انڈیا پر ہماری فضائی بندش عالمی سطح پر انڈین مورل سپورٹ کو مزید مضبوط کردے گی۔ لہٰذا ایسے ہلکے و منافرت بھرے اقدامات کسی طرح بھی ہمارے حق میں نہیں ہیں۔