جنہوں نے جنگ نہیں دیکھی
- تحریر وجاہت مسعود
- ہفتہ 03 / مئ / 2025
پہلگام کے واقعے پر دس روز گزر گئے۔ حسب توقع پاکستان اور بھارت میں کسی بڑی محاذ آرائی کا خطرہ کم ہو رہا ہے۔ اسی تناسب سے اخبار اور ٹیلی ویژن سکرین پر ممکنہ جنگ کے پیش نظر شعلہ بیانی کی ذخیرہ اندوزی میں بھی مندی کے آثار ہیں۔
جنگ کے آڑھتی تصوراتی جنگ میں دھواں دھار گولہ باری، بستیوں کی بربادی اور شکست و فتح کی منظر کشی میں جذبات کی سرمایہ کاری کر چکے تھے۔ سرحد پار کے پترکاروں کی تند بیانی تو خیر اب ایک روایت بن چکی۔ ان کے ہاں ماضی میں کسی متوازن رائے کی روایت اب ہندوتوا کے ریلے کی نذر ہو چکی۔ جنگ کے شعلے بھڑکانے کے لیے تو قوم پرستی کا جنون ہی کافی ہوتا ہے۔ اگر اس نسخے میں دھارمک تعصب بھی شامل ہو جائے تو گویا مہابھارت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
ہندوستان میں ہندو آبادی 80 فیصد ہے۔ 1.42 ارب کی کل آبادی میں 28 کروڑ اقلیتوں کا مذہبی تشخص نظر انداز کر کے جمہوری معاشرہ کیسے تعمیر ہو سکتا ہے؟ پاکستان میں ہندو شہریوں کی تعداد 50 لاکھ سے متجاوز ہے۔ اب ایک پرجوش نوجوان جو 1977 میں پرائمری سکول کا طالب علم تھا، مجھے ہندو مت اور اسلام میں فرق سمجھانا چاہتا ہے۔ میں اسے کیسے بتاؤں کہ قومی ریاست میں شہریت مذہبی شناخت سے ماورا ہوتی ہے۔ ہمارے دستور میں لکھا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری میرا مساوی ہم وطن ہے۔ حالیہ کشیدگی میں ہماری صحافت نے قدرے احتیاط برتی ہے تاہم یہ حقیقت بہرصورت نظر انداز ہوئی ہے کہ نیوکلیائی صلاحیت کی موجودگی میں جنگ انفرادی بہادری یا حیران کن چالوں سے مرتب نہیں ہوتی۔ جنگ ایک انسانی المیہ ہے جسے صرف اپنے ملک کے دفاع کی ناگزیر ضرورت میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔
صحافیوں پر تنقید کرنا مجھے مرغوب نہیں۔ وجہ یہ کہ پورے ملک میں کوئی درجن بھر صحافی مجھے پسند ہیں۔ باقی کا غول بیابانی میرے لیے اجنبی ہے۔ میں کان پر قلم رکھ کے گلی کوچوں میں ’ارزاں کلامی‘ کی جنس بیچنے والوں کو صحافت کی بنیادی اخلاقیات سے بیگانہ پاتا ہوں۔ کوئی چھ دہائیاں گزریں، ایک صحافی کو اعزازی کرنل قرار دے کر فوج کا ترجمان بنا دیا گیا۔ ’کرنل‘ موصوف نے صحافیوں سے پہلی ملاقات ہی میں اس مضحکہ خیز جملے سے اپنی بھد اڑوائی کہ ’آپ سویلین لوگ ہم فوجیوں کی حساسیت نہیں سمجھتے‘ ۔ درویش جن دنوں صحافت پڑھاتا تھا تو طلبا کو صدیق سالک کی کتاب ’Witness to Surrender‘ اور بریگیڈیئر اے آر صدیقی کی کتاب ’Endgame: An Onlooker’s Journal ’تجویز کیا کرتا تھا تاکہ وہ جنگی حقائق اور پراپیگنڈے میں تناسب کی اہمیت سمجھ سکیں۔ آئیے آپ کو گزشتہ صدی کے چار بہترین جنگی وقائع نگاروں سے متعارف کراتے ہیں۔
یکم جنوری 1867 کو لندن میں پیدا ہونے والا Charles Montague جنگ مخالف خیالات رکھتا تھا۔ 1914 میں عالمی جنگ شروع ہوئی تو Montague فوجی بھرتی کی عمر سے متجاوز تھا۔ تاہم اس نے سوچا کہ جنگ سر پر آن پڑی ہے تو اس میں حصہ لے کر اسے مختصر کیا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے سفید بالوں کو خضاب لگا کر بھرتی ہوا، بہادری سے لڑا اور جنگ کے بعد پھر سے امن پسند ہو گیا۔ اس کی کتاب Disenchantment کا یہ جملہ جنگجو صحافیوں کی ذہنیت پر دال ہے۔ ”۔War hath no fury like a non-combatant“ ۔ اخبار کے دفتر میں بیٹھ کر پرجوش مضامین لکھنے والوں کو کیا معلوم کہ سنسناتی ہوئی گولی ایک نوجوان اور اس کے گھرانے پر کیا قیامت ڈھاتی ہے۔
دوسری عالمی جنگ میں روس کے صحافی Vasily Grossman نے براہ راست ماسکو، سٹالن گراڈ، کرسک اور برلن کی لڑائیوں میں فوجیوں کے شانہ بشانہ صحافت کی تھی۔ جنگ کے بعد اس نے اپنے مشاہدات کو ناولوں کی صورت میں بیان کرنے کی کوشش کی لیکن اسے سرکاری اعزاز دینے والی سوویت حکومت نے 1964 میں اس کی موت تک اس کی کوئی تصنیف شائع نہیں ہونے دی۔ Grossman Vasily کی کتابیں 1988میں روسی زبان میں شائع ہو سکیں۔ وجہ یہ تھی کہ روسی بہادری کی داستانیں لکھنے والے گراس مین نے جنگ کی ہیبت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اس پر زمانہ امن اور جنگ کی تباہ کاری کا فرق کھل گیا۔
امریکا کے جنگی وقائع نگار Ernie Pyle نے جنگی فتوحات کی بجائے عام سپاہیوں کے احساسات اور تکلیفوں کو آسان زبان میں بیان کیا۔ Ernie Pyle کی تحریروں کو 1944 میں پلٹزر پرائز سے نوازا گیا۔ ہیری ٹرومین اس کی تحریروں کا مداح تھا۔ وہ واحد سویلین صحافی تھا جسے 6 جون 1944 کو نارمنڈی حملے میں براہ راست شرکت کی اجازت ملی تھی۔ Ernie Pyle نے ایک فوجی کپتان کی موت پر لکھا تھا۔ ’You feel small in the presence of dead men and ashamed at being alive۔‘ ۔ اپریل 1945 میں برلن کی فتح سامنے نظر آ رہی تھی لیکن Ernie Pyleجاپان کے خلاف جنگ کی خبریں بھیجنے کے لئے نکل گیا جہاں 18 اپریل 1945 کو 44 برس کی عمر میں اوکی ناوا کے مقام پر گولی کا نشانہ بن گیا جہاں وہ چند لمحے پہلے تک عام سپاہیوں کے ساتھ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔
بہادر لیکن امن پسند صحافیوں کی فہرست میں ایک نام Robert Capa کا بھی ہے۔ ہنگری میں پیدا ہونے والے رابرٹ کاپا نے ہٹلر کو اقتدار میں آتے دیکھا۔ اپنے ملک پر قبضہ ہونے کے بعد وہ پیرس چلا آیا۔ رابرٹ کاپا نے چالیس برس کی عمر میں پانچ مختلف جنگوں میں صحافتی فرائض انجام دیے۔ وہ ہسپانوی خانہ جنگی، چین اور جاپان کی لڑائی، یورپ میں جنگ، 1948 کی عرب اسرائیل لڑائی اور ویت نام کی لڑائی میں صحافت کرتا رہا۔ رابرٹ کاپا تحریروں کے علاوہ جنگی فوٹوگرافی بھی کرتا تھا۔ اس کی کھینچی ہوئی درجنوں تصاویر کو اساطیری شہرت حاصل ہوئی۔ رابرٹ کاپا 1954 میں ویت نام کی لڑائی میں ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوا۔
صحافی کا فرض جنگ کے شعلوں کو ہوا دینا نہیں بلکہ اپنی تحریروں او ر دیگر صحافتی سرگرمیوں کے ذریعے جنگ کے المیے کو عام انسانوں تک پہنچانا ہے۔ چارلس مورٹیگ نے ٹھیک کہا تھا کہ امن کو سب سے زیادہ خطرہ ان لوگوں سے ہوتا ہے جنہوں نے کبھی جنگ نہیں دیکھی۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)