قطر کا اسرائیل کو سخت جواب، ثالثی کی وجہ سے یرغمالی رہا ہوئے

  • اتوار 04 / مئ / 2025

قطر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کی جانب سے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی مذاکرات میں بطور ثالث ’دہرے کھیل‘ کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک اس ہی کی کوششوں کے نتیجے میں یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو پائی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں قطر پر دونوں فریقین سے دہری باتیں کرکے دہرا کھیل کھیلنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اب اسے ’فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ مہذب دنیا کے ساتھ ہے یا حماس کے ساتھ‘۔

نیتن یاہو کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے جاری ’اشتعال انگیز‘ بیان کو مسترد کرتا ہے جس میں ان کے مطابق ’نچلی ترین سطح کے سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری کا بھی مظاہرہ نہیں کیا گیا۔‘

قطری عہدیدار نے اسرائیل کی جانب سے مہذب دنیا کا ساتھ دینے کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’غزہ کے خلاف مسلسل جارحیت کو تہذیب کے دفاع کے طور پر پیش کرنے سے ماضی کی ان حکومتوں کی بیان بازی ذہن میں آجاتی ہے جو معصوم شہریوں کے خلاف اپنے جرائم کو جواز فراہم کرنے کے لیے جھوٹے نعرے استعمال کرتی آئی ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے، ’جنگ کے آغاز سے قطر نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کرتے ہوئے ثالثی کی کاوشوں کی ہر ممکن حمایت کی کوشش کی ہے جس کا مقصد لڑائی ختم کرنا، شہریوں کی حفاظت اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا ہے۔ ماجد الانصاری نے کہا کہ اسرائیل یہ بتائے کہ کیا 138 یرغمالیوں کو فوجی کارروائیوں کے ذریعے رہا کروایا گیا ہے یا ثالثی کی ان کوششوں کے ذریعے جن پر اب سوال اٹھایا جا رہا ہے؟

ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ ’جھوٹی معلومات پرمبنی مہم‘ اور ’سیاسی دباؤ‘ کو استعمال کرکے قطر کو لوگوں کے حقوق اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے کھڑے ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

نیتن یاہو کے الزامات قطر کی جانب سے جمعے کے روز دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں قطر نے اسرائیل پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔ نتن یاہو کا اصرار ہے کہ اسرائیل ’حق کی لڑائی‘ کر رہا ہے۔