غزہ پر قبضہ کرنے کا اسرائیلی منصوبہ
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 05 / مئ / 2025
اسرائیل نے ایک ایسے موقع پر غزہ پر قبضے اور وہاں سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ معلومات کے مطابق یہ دورہ 13 مئی کو شروع ہوگا اورٹرمپ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات جائیں گے۔ حماس کا کہنا ہے کہ نئی اسرائیلی حکمت عملی دباؤ اور بلیک میل کا ہتھکنڈا ہے ۔یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مکمل امن اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا ضروری ہے۔
یہ قیاس کرنا ممکن نہیں ہے کہ حماس کس حد تک کسی ایسی اسرائیلی جنگ جوئی کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہے جس میں اس کا ہدف صرف حماس کو ضرب لگانا نہ ہو بلکہ غزہ پر قبضہ کرکے ، وہاں پر آباد فلسطینیوں کو پناہ گزین کیمپوں میں دھکیلنا ہو تاکہ اسے حماس کی صورت میں کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ رہے۔ اب اسرائیل صرف حماس کو ختم کرنے یا اس کے جنگجوؤں کو غیرمسلح کرنے کا دعویٰ کرنے کی بجائے غزہ پر قبضہ کرنے اور وہاں آباد فلسطینیوں کو ان کی ’ حفاظت‘ کے لیے وہاں سے نکالنے کا اعلان کررہا ہے۔ اس اعلان میں یہ گنجائش موجود نہیں ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکلنے کا آپشن دیا جائے گا اور اگر وہ چاہیں تو وہاں سے منتقل ہوسکتے ہیں۔ بلکہ اسرائیل کی جنگی کابینہ یک طرفہ طور سے اس اقدام کا اعلان کررہی ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ فلسطینی باشندوں کو کہاں بھیجا جائے گا لیکن قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انہیں جنوبی غزہ میں پناہ گزین کیمپوں میں محصور کرکے مکمل طور سے بے بس اور لاچار کردیاجائے گا۔ اس طرح وہ خود ہی وہاں سے کسی دوسرے ملک کی طرف کوچ کرنے کا ارادہ کرلیں گے۔
یہ وہی منصوبہ ہے جس کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کیا تھا۔ اس منصوبہ کے مطابق غزہ کے تمام باشندوں کو وہاں سے اردن اور مصر منتقل کیا جانا تھا اور غزہ کو خالی کراکے وہاں دفاتر اور تفریحی مراکز تعمیر کیے جانے تھے۔ بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کو ایک سیاحتی مرکز کے طور پر پیش کرنے کے لئے مصنوعی ذہانت سے تیا رکردہ ایک ویڈیو بھی اپنے سوشل اکاؤنٹ پر جاری کی تھی۔ مصر، اردن اور سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک نے امریکی صدر کے اس منصوبہ کو مسترد کیا تھا۔ اور مصری تجویز پر مشتمل ایک عرب متبادل منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس منصوبہ کے تحت عرب ممالک غزہ کی تعمیر نو کے لیے 50 ارب ڈالر فراہم کریں گے لیکن غزہ کے باشندوں کو وہاں سے منتقل کرنے کی بجائے وہیں رہنے دیاجائے گا۔ غزہ کی تعمیر نو کے منصوبہ پر عمل کرنے کا ایسا خاکہ تیار کیا جائے گا کہ وہاں کے باشندوں کی نقل مکانی کے بغیر جنگ کے بعد یہ خطہ تعمیر کیا جاسکے اور عام شہری زندگی معمول کے مطابق بحال ہو جائے۔ اس منصوبہ میں بھی البتہ تعمیر نو کے دوران حماس کا کوئی کردار موجود نہیں تھا بلکہ ماہرین پر مشتمل ایک عبوری حکومت قائم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ اس عرب منصوبہ میں حماس کا براہ راست حوالہ نہیں دیاگیا تھا۔
اس سال جنوری میں امریکہ ، قطر اور مصر کے تعاون سے طے پانے والے امن معاہدہ میں یرغمایوں کو رہا کرنے اور غزہ سے اسرائیلی فوجوں کی مکمل واپسی پر اتفاق ہؤا تھا۔ معاہدے کے پہلے دور میں یرغمایوں کی رہائی اور ان کے بدلے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیل خانوں سے چھوڑنے کا معاہدہ ہؤا تھا ۔ دو ماہ تک اس جنگ بندی پر عمل ہؤا جس کے دوران ڈیڑھ سو کے لگ بھگ اسرائیلی یرغمالی رہا کیے گئے۔ تاہم اسرائیل نے 2 مارچ سے یہ عذر پیش کرتے ہوئے کہ اقوام متحدہ اور دیگر ایجنسیوں کے تحت غزہ آنے والی امداد حماس کے جنگجو لوٹ لیتے ہیں، غزہ کو ہر قسم کی امداد کا سلسلہ روک دیا ۔ غزہ کو خوراک اور ادویات کی فراہمی اب تک معطل ہے اور اقوام متحدہ متنبہ کرچکی ہے کہ اس سے قحط کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔ البتہ اسرائیل اس بلاکیڈ کو ختم کرنے پر راضی نہیں ہؤا۔ دوسری طرف 18 مارچ سے اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ یک طرفہ طور سے ختم کرتے ہوئے غزہ پر باقاعدہ حملے شروع کردیے اور افواج کو دوباہ غزہ میں داخل ہونے کا حکم دیا ۔ اس وقت غزہ کے ایک تہائی علاقے پر اسرائیلی فوج قابض ہے جسے ’سکیورٹی زون‘ کا نام دے کر جائز قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تاہم اسرائیلی حکومت کے تازہ بیانات سے واضح ہورہاہے کہ اب وہ غزہ پر ذبردستی قبضہ کرنے اور وہاں سے فلسطینیوں کو نکال دینے کے منصوبہ پر عمل کرنا چاہتی ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو نے آج ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ کہ ’ان کی جنگی کابینہ نے فوج کے سربراہ ایال زمیر کی سفارش پر غزہ کے لیے ایک نئی جنگی حکمت عملی تیار کی ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی فوج غزہ میں قلیل مدت قیام کے لیے نہیں جائے گی بلکہ نیافوجی آپریشن اس سے برعکس ہوگا‘۔ متعدد اسرائیلی اہلکاروں اور مبصرین نے وضاحت کی ہے کہ اسرائیل اب غزہ پر مکمل قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ یا عالمی اداروں کو غزہ میں امداد فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے گا بلکہ نجی کمپنیاں اسرائیلی فوج کی نگرانی میں امداد تقسیم کریں گی تاکہ یہ امداد حماس تک نہ پہنچے۔ نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام حماس کے قبضے میں اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن یرغمال ہونے والوں کے خاندانوں کی تنظیم نے اس منصوبہ کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نیتن یاہو اپنے سیاسی و عسکری عزائم کے لیے یرغمالیوں کو ہلاک کرانا چاہتے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کے دوران حماس کے جنگجوؤں نے 1200 افراد کو ہلاک کیا تھا جبکہ اڑھائی سو کے لگ بھگ لوگوں کو اغوا کرلیا گیا تھا۔ ان میں سے اب تک 59 افراد مسلسل حماس کی قید میں ہیں جبکہ اسرائیلی اطلاعات کے مطابق 74 یرغمالی کسی نہ کسی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں یا فطری طور سے انتقال کرگئے ہیں۔ حال ہی میں اسرائیل نے قطر پر ثالثی کے نام پر د وہرا کرداد ادا کرنے کا الزام لگایاتھا اور کہا تھا کہ اسے فیصلہ کرنا چاہئے کہ قطر مہذب دنیا کے ساتھ چلنا چاہتا ہے یا وہ حماس جیسے انتہا پسندوں کے ساتھ ہے۔ نیتن یاہو کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’غزہ کے خلاف مسلسل جارحیت کو تہذیب کے دفاع کے طور پر پیش کرنے سے ماضی کی ان حکومتوں کی بیان بازی ذہن میں آجاتی ہے جو معصوم شہریوں کے خلاف اپنے جرائم کو جواز فراہم کرنے کے لیے جھوٹے نعرے استعمال کرتی آئی ہیں‘۔ ترجمان نے پوچھا کہ اسرائیل یہ بتائے کہ کیا 138 یرغمالیوں کو فوجی کارروائیوں کے ذریعے رہا کرایا گیا ہے یا ثالثی کی ان کوششوں کے ذریعے جن پر اب سوال اٹھایا جا رہا ہے؟
دوسری طرف اقوام متحدہ اور غزہ کے لیے امداد فراہم کرنے والی تنظیموں نے اسرائیلی فوج کے ذریعے غزہ میں امداد کی تقسیم کے خیال کو مسترد کیا ہے۔ ناروے کی پناہ گزینوں کی تنظیم کے جنرل سیکرٹری یان ایگے لاند نے اسرائیلی اعلان کو بنیادی انسانی اصولوں سے متصادم قرار دیا ہے۔ ایگے لاند کا کہنا تھا کہ ہم کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بن سکتے جو بنیادی انسانی اصولوں کے خلاف ہو۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ایجنسیوں نے اس اسرائیلی فیصلے کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ اسرائیل اس طریقے سے امداد کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ عسکری مقاصد حاصل کیے جائیں۔ اس طریقے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس طریقے سے اسرائیل، لوگوں کو امداد کے لیے ایک خاص علاقے میں جانے اور بھوکا رہنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے رابطہ کاری دفتر نے بھی اسرائیلی اسکیم کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر عمل سے غزہ کے اکثر لوگوں کو بھوکا رکھا جائے گا۔
غزہ کے حوالے سے یہ المناک پیش رفت ایک ایسے وقت دیکھنے میں آرہی ہے جب خبروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 مئی سے سعودی عرب ، قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر ریاض پہنچ رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے غزہ میں پیش قدمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس منصوبے پر مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے دورہ کے بعد عمل شروع ہوگا۔ تاہم اس دوران اسرائیلی و دیگر حلقے یہ امید بھی ظاہر کررہے ہیں کہ امریکی صدر کے دورہ کے دوران غزہ میں جنگ بندی کا کوئی نیا معاہدہ طے پاسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ 13 مئی کو ریاض پہنچیں گے جہاں14 مئی کو ان کی ملاقات عرب لیڈروں سے ہوگی۔ سعودی ذرائع کے مطابق فی الوقت خلیج تعاون کونسل کے ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین، اومان اور قطر کو اس ملاقات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے لیکن اس میں دیگر عرب لیڈر بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔ عرب لیڈروں کے لیے صدر ٹرمپ سے غزہ کے سلسلہ میں کوئی رعایت حاصل کرنا بنیادی اہمیت کا حامل ہوگا۔ بصورت دیگر عرب لیڈر اسلامی دنیا میں اپنا وقار کھو بیٹھیں گے۔
صدر ٹرمپ نے 2017 کی طرح اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ اس بار قطر اور متحدہ عرب امارات کو بھی اس دورے میں شامل کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے لیے یہ تینوں ممالک ریجنل اسٹریٹیجک حکمت عملی کے علاوہ امریکہ میں سرمایہ کاری کے لیے بھی بے حد اہم ہیں۔ ان تینوں ممالک نے سینکڑوں ارب ڈالر امریکہ میں لگانے کا اشارہ دیا ہے۔ اس کے بدلے امریکہ ،سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کو کئی سو ارب ڈالر کا اسلحہ بیچنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم اس لین دین میں غزہ کا معاملہ سب سے زیادہ متنازعہ اور حساس ہوگا۔ دیکھنا پڑے گا کہ کیا عرب ممالک صدر ٹرمپ سے اپنے تعلقات اور مالی وسعت کی وجہ سے حاصل ہونے والے اثر ورسوخ کو اپنے کچھ مطالبات منوانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں کہ نہیں۔ عرب ممالک غزہ کی بحالی کے علاوہ، شام پر بشارالاسد کے دور میں عائد پابندیاں ختم کرنے اور ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے پر زور دیں گے۔ دوسری طرف امریکہ عربوں کی دولت اینٹھنے کے علاوہ ان ممالک سے چین کے خلاف تجارتی جنگ میں تعاون طلب کرے گا۔
غزہ پر 19 ماہ سے مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ میں 55 ہزار شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی حکمت عملی تمام انسانی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اسرائیل کو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ اس وقت وہ غزہ کے باشندوں کی امداد روکنے کے اقدام کے خلاف دلائل سن رہی ہے۔ دنیا دعوؤں کی حد تک اسرائیل کی مذمت کرتی ہے لیکن ابھی تک اسرائیلی جارحیت روکنے کا کوئی عملی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ اب دیکھنا ہوگا کہ کیا عرب لیڈر صدر ٹرمپ کے ذریعے اسرائیل کو غزہ پر قبضہ کرنے سے باز رکھ پاتے ہیں یا اسرائیل ٹرمپ کی خواہش کے مطابق غزہ کو فلسطینیوں سے پاک کرنے کے منصوبہ پر عمل شروع کردے گا۔