کشمیریوں کے دل چیرتی خونی لکیر

مسئلہ کشمیر کیا ہے؟ اس میں پاکستان اور بھارت کے دعوؤں کی حیثیت اور اقوام متحدہ کا کردار کیا ہے؟ 1947 میں تقسیم برصغیر کےاس فارمولے کہ مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل پاکستان اور ہندو اکثریت والے علاقوں پر مشتمل بھارت ہوگا کے تحت کشمیر پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

لیکن اس علاقے میں 550 سے زائد چھوٹی ریاستیں اپنا الگ وجود رکھتی تھیں۔ ان کا فیصلہ انہی پر چھوڑ دیا گیا کہ جو ریاست دونوں ممالک میں سے جس کے ساتھ چاہے الحاق کر لے یا اگر اپنی حیثیت الگ رکھ سکتی ہے تو آزاد رہے۔ انہی آزاد ریاستوں میں ایک ریاست کشمیر ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس فارمولے میں الحاق کرنے کا اختیار کس کو دیا گیا تھا۔ لیکن دنیا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی ریاست، ملک یا علاقے کے مالک اس کے باسی ہوتے ہیں۔ اور ریاست کے فیصلے کرنے کا حق بھی انہی کو حاصل ہوتا ہے۔ نہ کہ کسی سربراہ مملکت کو کہ وہ اپنی ریاست کا کہیں الحاق کر دے۔ اس وقت منتخب سربراہ بھی نہ تھے، اگر کوئی ریاست کا منتخب سربراہ بھی ہو تو اس کو بھی یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ اپنے طور پر ریاست کو کسی ملک میں ضم کر دے یا کسی بین الاقوامی اتحاد میں شامل کر لے۔ اس کے لیے عوام کی رائے جاننا لازم ہوتا ہے۔

اس کی قریب ترین مثال یورپی یونین کی ہے کہ کئی ممالک نے اپنے ہاں عوام کی رائے جاننے کے لیے ریفرینڈم کروائے تھے اسی ریفرنڈم کے نتائج کی بنیاد پر ناروے یورپی یونین میں شامل نہیں ہے۔ ڈنمارک میں بھی دو بار ریفرنڈم کرایا گیا تھا اس کے بعد ڈنمارک اپنے عوام کی اکثریتی رائے کے مطابق یورپی یونین کا حصہ بنا تھا۔ برصغیر کی تقسیم کی بھی بات کی جائے تو حیدر آباد اور جونا گڑھ دو ایسی ریاستیں تھیں جن کے سربراہان مسلمان تھے۔ لیکن عوامی اکثریت ہندوؤں کی تھی، اسی بنا پر وہ دونوں ریاستیں بھارت کے ساتھ شامل ہوئیں۔ کشمیر کے بارے کہا جاتا ہے کہ اس وقت کا کشمیری سربراہ مہاراجہ ہری سنگھ بھی اکثریتی عوام کی رائے کے مطابق پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہ رہا تھا۔ لیکن پاکستان کی طرف سے قبائلیوں نے کشمیر پر یلغار کر دی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا تو مہاراجہ نے بھارت سے فوجی مدد طلب کی جس پر بھارت کی طرف سے الحاق کی شرط پر فوج بھیجنے کی حامی بھری گئی۔

27 اکتوبر 1947 میں بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی تو کشمیریوں نے بھی پاکستان کے قبائلیوں اور پاکستانی فوج کی مدد کے ساتھ علم جہاد بلند کر لیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں کشمیر کا 15 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد حصہ آزاد کروا لیا۔ یہ پیش قدمی جاری تھی کہ بھارت معاملے کو اقوام متحدہ میں لے گیا۔ اقوام متحدہ نے فائر بندی کرواتے ہوئے دونوں ممالک کی فوجوں کو اپنی اپنی جگہ پر روک دیا اور اس لائن کو سیزفائر لائن قرار دے دیا۔ اور اقوام متحدہ میں یہ قرارداد پاس ہو گئی کہ کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنی رائے اور مرضی سے کریں گے۔ اس کا طریقہ کار یہ طے کیا گیا کہ سب سے پہلے پاکستان اپنی افواج اور قبائلیوں کا کشمیر سے انخلا کرے گا۔ اس کے بعد بھارتی افواج کشمیر سے نکلیں گی جس کے بعد اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کشمیر کے تمام حصوں میں استصواب رائے کروایا جائے گا۔ جس میں کشمیری پاکستان یا بھارت جس کے ساتھ چاہیں الحاق کریں گے۔ اقوام متحدہ میں دو قراردادیں پاس تو ہو گئیں لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ عمل نہ ہونے میں بھارتی سازش تھی یا اقوام متحدہ کی جانبداری تھی، پاکستان کی سستی تھی یا کشمیریوں کی، لیکن کشمیری ایک خونی لکیر کے دونوں طرف اس طرح پھنس گئے کہ ایک ہی علاقے میں رہتے ہوئے اپنے قریبی عزیز و اقارب کو مل نہیں سکتے۔

1972 کے شملہ معاہدے میں پاکستان و بھارت نے یہ بات تسلیم کر لی کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات باہمی گفت و شنید سے حل کیے جائیں گے اور کشمیر کی سیز فائر لائن کو کنٹرول لائن کا نام دے کر کشمیریوں کو مستقل طور پر جدا کر دیا گیا۔ پھر ضیا کے مارشل لا کے دوران افغان جنگ شروع ہوئی اور اس کے ساتھ ہی کشمیر کے لیے بھی مجاہدین تیار کیے گئے اور کشمیریوں کی آزادی کے لیے جہاد شروع کروا دیا گیا، جسے بھارت اپنے ملک میں مداخلت سے منسوب کرتا رہا ہے۔ بھارتی حکمران کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ اور پاکستانی اپنی شہ رگ قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کا مستقبل کیا ہے؟

دنیا کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرتی ہے مگر اس تنازعے کو حل کرانے کی طرف کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی۔ اس علاقے میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں، سرحدوں پر لمبا عرصہ فائرنگ کے بعد امن قائم ہوا۔ واہگہ بارڈر سے دونوں ممالک پاکستان اور بھارت کی آمدورفت ہونے لگی، سکھوں کو پاکستان کی راہداری دی گئی لیکن کشمیریوں کے ساتھ یہ ظلم کیوں روا رکھا گیا کہ وہ ایک تحصیل یا ایک یونین کونسل میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو مل نہیں سکتے ہیں؟ دنیا میں جہاں بھی ہم کشمیری اپنی بات کرتے ہیں تو ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس حیثیت میں بات کر رہے ہیں؟ آپ تو فریق ہی نہیں کیونکہ یہ تو دو ممالک کا سرحدی معاملہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تقسیم برصغیر کی روح کے مطابق مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے ناطے کشمیر پاکستان کا حصہ ہے تو پھر پاکستان کو اپنا علاقہ بھارت سے واپس لینا چاہیے، چاہے اس کے لیے جتنی بڑی جنگ لڑنی پڑے۔ اور اگر یہ کشمیریوں کی آزادی کا مسئلہ ہے تو پھر کشمیریوں کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ دنیا کے سامنے اپنا مسئلہ خود پیش کریں۔ اور اپنی آزادی کی جنگ بھی خود لڑیں۔

اس وقت بظاہر یہ لگتا ہے کہ پاکستان اور بھارت تقسیم کشمیر کے فارمولے پر متفق ہیں جس کی بنا پر بھارت نے 5 اگست 2019 اپنے آئین کی دفعات میں ترامیم کر کے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے لوگوں کو جائیدادیں خریدنے کی اجازت دے کر کشمیر کے اس حصے کو مکمل طور پر بھارت میں شامل کر لیا ہے۔ جبکہ پاکستان نے گلگت بلتستان کو اپنا صوبہ بنانے کے بعد آزاد کشمیر پر نظریں مرکوز کر لی ہیں کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنایا جائے یا مختلف ضلعوں میں ضم کر دیا جائے۔ لیکن یہ بات مت بھولیں کہ کشمیری اپنے سے بالا فیصلوں کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔