بھارت طے کرے، اسے تعاون چاہئے یا تصادم؟

قومی اسمبلی نے ایک قرار داد میں سندھ طاس معاہدہ  معطل کرنے کے بھارتی اقدام  کی مذمت کی ہے اورقرار دیا ہے کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا پاکستان کی پالیسی نہیں ہے۔ بھارتی حکومت بدنیتی سے پاکستان پر اس دہشت گردی کا الزام عائد کررہی ہے۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کو تصادم کی بجائے امن کا راستہ چننے اور ہمسایہ ملکوں میں تعاون کو فروغ دینے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارت نے  22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں فائرنگ سے 26 لوگوں کی  ہلاکت کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے خطے میں جنگی ماحول پیدا کیا ہؤا ہے۔ اس حوالے سے نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں نے اشتعال انگیز بیانات دیے اور بھارتی میڈیا  نے تقریباً یک طرفہ طور سے پاکستان کے خلاف جنگ جوئی کا ماحول پیدا کیا۔   یہ دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں کہ  بھارت  بھرپور حملہ کرکے پاکستان سے اس خوں ریزی کا انتقام لے گا۔ پاکستانی حکومت نے اس  سانحہ کی مذمت کرتے ہوئے   اس موقع پر ہلاک ہونے والے لوگوں کے اہل خانہ کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا  تھا۔ بلکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے  پیش کش کی تھی کہ اگر بھارت کو اس بارے میں  کوئی شبہات ہیں تو  پاکستان اس سانحہ کی غیر جانبدار تحقیقات کے لیے تیار ہے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے۔ پاکستانی حکومت مسلسل جنگ کی بجائے امن کی بات کررہی ہے۔

بدقسمتی سے بھارتی حکام نے اس پیشکش کا کوئی مثبت  جواب نہیں دیا اور پاکستان کے خلاف زبانی مہم جوئی کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ بھارت کی  ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)  کےسربراہ نے پہلگام میں 26 سیاحوں کے قتل  کومذہبی رنگ دیا ہے  ۔ موہن بھاگوت نے رامائن کا حوالہ دیتے ہوئے کہ  مذہبی احکامات کی روشنی میں ’ سنگ دل مجرمان سے بدلہ لیا جائے اور انہیں تباہ کردیا جائے‘۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے خود سخت  زبان استعمال کی اور  پہلگام حملہ میں ملوث  عناصر  کا دنیا کے آخری کونے  تک پیچھا کرنے کا وعدہ کیا۔ اس جنگجویانہ ماحول میں بھارت کے کچھ معتدل اور امن پسند   لوگوں نے اشتعال کی بجائے ہوش سے کام لینے کا مشورہ  دیا ہے۔  

بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج   مارکنڈے کاٹجو نے   متنبہ کیا کہ  جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایے کے خلاف جنگ کا ڈھول پیٹنے سے قبل پہلگام سانحے کی تحقیقات  کرالی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کسی کو ماسٹر مائنڈ قرار دینے سے پہلے مجرمان کو تلاش کریں‘۔ لیکن بھارت میں  زیادہ تر لوگ اب عقل  سے کام لینے اور دلیل سننے پر آمادہ نہیں ہیں۔  سیاست دانوں اور میڈیا نے بھارتی شہریوں  کی اکثریت کو مشتعل ہجوم میں تبدیل  کردیا   ہے۔  بدلہ اور انتقام  کے دعوؤں میں معقولیت کی بات کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دینے میں دیر نہیں کی جاتی۔ تاہم اس شدید ہیجان کے ماحول میں  اب کمی کے کچھ آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ ایک تو بھارتی حکومت پہلگام سانحہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکی ۔ اس نے دنیا کے جس ملک سے بھی اس حوالے سے تعاون مانگا تو  یہی سوال پوچھا گیا کہ اس کے ثبوت کہاں ہیں۔  بھارتی لیڈروں کے پاس اس سوال کا اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ  ماضی میں پاکستان کا کردار مشکوک رہا ہے۔ حتی کہ بھارت کے اسٹریٹجک پارٹنر اور قریبی دوست ملک امریکہ نے بھی  بھارت کو تصادم سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔

امریکہ کے  نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک ٹی وی انٹرویو میں  بھارتی حکومت سے کہا تھا کہ اس کا رد عمل ایسا سخت نہیں ہونا چاہئے کہ اس سے تنازعہ بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوجائے۔ یہ  بالواسطہ طور  سے بھارت کو تحمل سے کام لے کر اس بحران سے نکلنے کا مشورہ تھا۔  نریندر مودی نے  کابینہ کے علاوہ اپنے عسکری ماہرین سے طویل ملاقاتوں میں بھی پاکستان کے خلاف عسکری اقدام  کا جائزہ لیا ہے۔ تاہم ان کی شدید خواہش کے برعکس یوں لگتا ہے کہ بھارت کی عسکری قیادت نے  سیاسی  لیڈروں کو پاکستان کے ساتھ کسی براہ راست فوجی تصادم سے بچنے کا  مشورہ ہی دیا ہے۔    ایک تو خود مودی حکومت کسی محدود کارروائی سے بڑا کچھ کرنا چاہتی تھی۔ دوسری طرف پاکستان نے واضح کردیا تھا کہ بھارت جیسا اقدام کرے گا ، اس کا جواب اس ے زیادہ شدت سے دیا جائے گا۔ 2019 میں پلوامہ سانحہ  کے بعد بالا کوٹ  پر فضائی حملہ کا دعویٰ کیاگیا تھا لیکن اگلے ہی روز پاکستانی فضائیہ  نے بھارتی طیاروں کو چیلنج  کیا اور  دو بھارتی طیارے مار گرائے گئے جن میں سے ایک پاکستانی حدود میں گرا اور  اس کا پائلٹ گرفتا ربھی ہوگیا۔

لگتا ہے کہ بھارت کی عسکری قیادت ایک بار پھر ایسی ہی ناگوار صورت حال کا سامنا کرنے پر  آمادہ نہیں ہے۔  یہ اندازہ تو کیا جارہا ہے کہ پاکستان شاید طویل جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا جبکہ بھارت اپنی وسیع معاشی صلاحیت کی  وجہ سے  جنگ کو طول دے سکتا ہے۔ تاہم دوسری طرف اس بات کے اشارے موجود ہیں کہ   بھارتی حملہ کی صورت میں پاکستان کا جواب فوری،  شدید اور سخت ہوگا اور اس میں بھارت کے بعض حساس  مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایسی صورت میں  2019 کی طرح بھارت نے   اگریہ نقصان برداشت کرنے کی بجائے کسی بڑی جنگ کا ارادہ کیا تو  پاکستان واضح کرچکا ہے کہ اس کے پاس  جوہری ہتھیاروں کا آپشن موجود ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارتی حکومت   انتقام کی شدید خواہش کے باوجود   پاکستان کے ساتھ کسی بڑی جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔  اس میں ہونے والا نقصان بھارتی معیشت کے لیے بھی  ناقابل برداشت ہوگا۔

اس دوران معاشی ریٹنگ کا جائزہ لینے والی بین الاقوامی ایجنسی موڈیز نے کہا  ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ جاری رہنے کی صورت میں پاکستان میں معاشی بہتری متاثر ہوگی۔ حال ہی میں پاکستانی معیشت میں بہتری کے آثار دیکھے گئے ہیں۔ افراط زر کم ہؤا ہے، آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل کیا گیا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہؤا ہے۔ تاہم خطے میں بھارت کے ساتھ تنازعہ کی صورت میں پیدا ہونے والا عدم استحکام پاکستانی معیشت کے لیے مضر ہوگا۔  موڈیز کا خیال ہے کہ تنازعہ جاری رہنے سے البتہ بھارتی معیشت پر کوئی خاص منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔  اس لیے  قیاس کیا جاسکتا ہے کہ  بھارتی حکومت اگرچہ پاکستان کے خلاف کسی عسکری کارروائی کے معاملے میں خود کو لاچار محسوس کررہی ہے لیکن اس کی خواہش  ہے کہ ہیجان  کو جاری رکھ کر ایک تو پاکستان کو سفارتی طور سے نقصان پہنچایا جائے اور اسے مسلسل دفاعی پوزیشن پر رکھا جائے ۔ اور دوسری طرف  اس کی معیشت کو نقصان پہنچایا جائے۔ اسی لیے بھارت نے آئی ایم ایف سے پاکستان کے ساتھ امدادی معاہدہ ختم کرنے کے لیے رابطہ بھی کیا تھا۔ البتہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ بھارت کسی ملک یا عالمی ادارے کو پاکستان کے خلاف کوئی معاشی پابندیاں لگانے پر آمادہ  کرسکتا ہے۔ اگر وہ  جنگ کا موجودہ ماحول بحال رکھتا ہے تو  پاکستانی معیشت کے بارے میں ضرور بے یقینی پیدا ہوگی لیکن اس کے ساتھ ہی بھارت میں بھی  لوگ سوال اٹھانے لگیں گے کہ  باتیں بنانے والے لیڈر کوئی ٹھوس کارروائی کیوں نہیں کرتے۔ اس طرح  الزام تراشی کا  طویل الدت  ماحول   بی جے پی  اور نریندر مودی کے لیے سیاسی طور سے سود مند نہیں رہے گا۔

اس ماحول میں بلاول بھٹو زرداری نے نریندر مودی کی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دیا ہے۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلگام سانحہ میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ ہم دہشت گردی کی سرپرستی نہیں کرتے اور اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کی حمایت نہیں کرتے۔ ہم تو خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔ انہوں نے بھارت سے سوال کیا کہ آپ مقبوضہ کشمیر میں دہشت کا ماحول پیدا کرکے کیسے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا دعویٰ کرسکتے ہیں؟  بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے صرف ٹینک کافی نہیں، اسے شکست دینے کے لیے انصاف فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اسے گولیوں سے چھلنی نہیں کیا جاسکتا بلکہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے امید پیدا کرنا بھی اہم ہے۔ آپ  دوسری اقوام کو شیطان قرار دے کر دہشت گردی ختم نہیں کرسکتے ، اس کے لیے ان شکایات کاازالہ بھی کرنا ہوگا جس کی وجہ سے ناراضی جنم لیتی ہے۔  پاکستان اور بھارت کو اس مقصد کے لیے مل کر کام کرنا چاہئے۔ وزیر اعظم کی طرف سے پہلگام کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی  پیشکش اس سلسلہ میں ایک اچھا آغاز ہے۔

پیپلز پارٹی کے چئیر مین نے سوال  کیا کہ بھارت بتائے کہ اگر آپ واقعی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو آپ کو غیر جانبدار تحقیقات سے کیا پریشانی ہے؟ اس کی صرف یہی وضاحت ہوسکتی ہے کہ کشمیریوں کو خون میں نہلانے کے جرم کا سرا اسلام آباد سے نہیں بلکہ نئی دہلی سے جاکر ملتا ہے۔ اگر بھارت امن کا راستہ چننا چاہتا ہے، تو آپ کو بندوق تاننے کی بجائے وسیع القلبی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، جھوٹی کہانیوں کی بجائے حقائق پیش کرنے چاہئیں۔ ہمیں ہمسایوں کی طرح بیٹھ کر سچی بات کرنی چاہئے۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو ’جان لیجئے کہ پاکستانی مقابلے سے بھاگنے والے نہیں، انہیں جھکایا نہیں جاسکتا۔ اس لیے نہیں کہ ہم جنگ چاہتے ہیں بلکہ اس لیے کہ ہم اپنی آزادی کی حفاظت کا عزم رکھتے ہیں۔  بھارت فیصلہ کرلے کہ اسے مذاکرات کرنے ہیں یا تباہی درکار ہے۔ تعاون چاہئے یا تصادم‘۔ 

قومی اسمبلی میں ادا کیے گئے بلاول بھٹو زرداری کے یہ الفاظ  نئی دہلی کی حکومت کے لیے واضح پیغام  ہے۔ پاکستان  پہلگام تحقیقات میں تعاون پر آمادہ ہے، امن کا داعی ہے اور اس مقصد کے لیے مذاکرات پر بھی راضی ہے۔ موجودہ بحران میں اس سے اچھا کوئی دوسرا مشورہ نہیں ہوسکتا۔ نریندر مودی نے پہلگام  سانحہ کے سہارے پاکستان کے خلاف جو آگ بھڑکائی تھی، اس کی تپش اب وہ  خود بھی محسوس کررہے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ تصادم کا راستہ ترک کرکے تعاون و افہام و تفہیم کی طرف بڑھا جائے۔ دونوں ملکوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس سلسلہ میں  بنیادی کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بس انہیں موقع دینے اور دیواروں کی بجائے پل بنانے کی ضرورت ہے۔