ناروے کا یوم آزادی 8 مئی ہے!

آٹھ مئی کو ناروے کا یوم آزادی منایا جاتا ہے حالانکہ ہم سترہ مئی کو شان و شوکت سے منائے جانے والے یوم آئین کو ہی یوم آزادی تصور کرتے ہیں۔ 8 مئی کا دن دوسری جنگ عظیم کے دوران ناروے پر 1940 سے 1945 تک پانچ سالہ جرمن قبضہ کے خاتمے کی یاد میں بطور یوم آزادی قرار پایا۔

دوسری جنگ عظیم کی ابتدا پر ناروے کی غیر جانبدار رہنے کی خواہش اُس وقت ادھوری رہ گئی جب برطانیہ کی طرف سے نارویجن سمندری حدود میں جرمنی کے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بارودی سرنگوں کو پھیلا نے کا آغاز ہوا۔ برطانیہ سویڈن سے خام فولاد کے مادہ کی ناروے کے سمندری راستے جرمنی لے جانے والی ترسیل کو روکنا چاہتا تھا۔ جرمنی کے نزدیک یہ ترسیل جنگی سازوسامان کے لیے ریڑہ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی، جس کی بندش کو وہ قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔ لہذا جرمنی نے ان رکاوٹوں کا قلع قمع کرنے کے لیے ناروے کو اپنے قبضہ میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح ناروے بھی دوسری جنگ عظیم کی لپیٹ میں آگیا۔

جرمنی 9اپریل 1940 کو ناروے پر حملہ آور ہو کر قابض ہو گیا۔ آٹھ اپریل کی رات کو ہٹلر کے ایلچی کُھرٹ برائیور  نے نارویجن حکومت کو رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال کر ناروے کو جرمن تحویل میں دینے کی پیشکش کی جسے ناروے نے مسترد کرتے ہوئے ملکی دفاع کے لیے سینہ سپر ہونے کا فیصلہ کیا۔ جرمن افواج کی دارالحکومت اوسلو کی جانب پیشقدمی کی اطلاعات پر حکومت، پارلیمنٹ اور شاہی خاندان اوسلو سے نکل گئے اور نارویجن پارلیمنٹ کا آخری اجلاس ایلویرم کے مقام پر منعقد کرتے ہوئے جرمن کو کیے گئے انکار کی توثیق کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی تمام اختیارات حکومت کو تفویض کر دئے۔

نارویجن افواج نے جرمن جارحیت کا ممکنہ حد تک مقابلہ کیا اور 7جون 1940 کو اس شدت میں اس وقت کمی آئی جب شاہی خاندان بحری جہاز کے ذریعے برطانیہ روانہ ہو گیا۔ گو ناروے کا دفاع اتنا مضبوط نہ تھا لیکن نارویجن عوام اور فوج نے بڑی جوانمردی سے جرمن افواج کا مقابلہ کر کے نارویجن بادشاہ ہوکن اور اس کے خاندان کی گرفتاری کی جرمن خواہش کو ناممکن بنایا، جسے تاریخ فتح کے طور پر گردانتی ہے۔ کیونکہ بادشاہ کی گرفتاری سے ناروے کی قومی غیرت پامال ہو جاتی۔ نارویجن حکومت کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد جرمنی نے نارویجن سیاستدان ودکُھن کویسلنگ کی زیر قیادت نئی حکومت تشکیل دی لیکن حقیقی حاکم جرمن ایدمنسٹریٹر جوزف تھر بُھوان تھا، جسے ہٹلر نے نامزد کیا تھا ۔

ناوریجن بادشاہ اور حکومت نے لندن پہنچ کر ناروے کی آزادی کے لیے مزاحمتی جنگ کا آغاز کیا جس کے ہر اول دستے کا کردار قومی محاذ نے ادا کیا۔ اسے کا نام دیا hjemmefronten نام دیا گیا۔ اس نے پانچ سال قابض جرمن فوج سے برسر پیکار رہتے ہوئے عوام کا قومی جذبہ زندہ رکھا۔ قومی محاذ کی قربانیوں نے اسے 8مئی 1945 کو کامیابی سے ہمکنار کیا جب جرمنی نے باضابطہ طور پر بلامشروط ہتھیار ڈال کر شکست کو تسلیم کرلیا۔ اس کے ساتھ ہی یکم ستمبر 1939 کو شروع ہونے والی جنگ عظیم اختتام کو پہنچی ۔

ناروے کے اندر اس وقت موجود تین لاکھ جرمن فوج کے کچھ جرنیل اور مقامی نازی قائدین نئی جرمن مرکزی قیادت کی حکم عدولی کرتے ہوئے جنگ کو جاری رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن نئے جرمن صدر کارل دونیتز  نے 7مئی کو ناروے کے جرمن چیف ایڈمنسٹریٹر جوزف تھر بُھوان کو سبکدوش کر کے تمام اختیارات جنرل فرانز بُھوئے کو منتقل کر دیے۔ اس نے صدر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آٹھ مئی 1945 کو ہامر کے مقام پر اتحادی افواج کے تین رکنی عسکری کمیشن کے سامنے باضابطہ طور پر ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے بعد تمام جرمن فوج کو شہروں اور چھاؤنیوں سے نکل کر مخصوص جگہوں پر جمع ہونے کاحکم صادر ہوا۔

ناروے میں پانچ سال سے حکومتی نظام چلانے والے جرمن جوزف تھر بُھوان نے خود کشی کرلی۔ 9مئی کی صبع کو ناروے کا غدار اعظم اور پانچ سالہ کٹھ پتلی حکومت کا سربراہ کیوسلنگ اوسلو میں مولرگاتا پولیس سٹیشن پہ پیش ہوکر گرفتار ہوا جس کو بعد میں ناروے کی عدالت نے سزائے موت دے دی۔ اس کے علاوہ غداری کے الزام کی زد میں آنے والے کئی نارویجنوں نےخود کشیاں کرلیں۔ نارویجن عوام اور قومی محاذ کی مہیا کردہ معلومات پر 16ہزار افراد کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا جن میں سے بیشتر کو عدالت نے سزائیں سنائیں۔ بڑی تعداد میں نارویجن خواتین جن کے بطن سے جرمن فوجیوں کی اولاد پیدا ہوئی تھی، سے نارویجن شہریت چھین کرجرمنی ملک بدرکر دیا گیا۔ 13 مئی کو اتحادی فوج کے نمائندہ جنرل انڈریو تھورن نے ناروے پہنچ کر عبوری دور کے اختیارات سنبھالے۔ اور ناروے سے جرمن افواج کےمکمل انخلا کی نگرانی کی۔

14 مئی کو مزاحمتی جنگ لڑنے والے ناروے کے قومی محاذ نےباضابطہ طور پر اپنی تنظیم کو تحلیل کردیا ۔ جنرل انڈریو تھورن نے 7 جون کو ناروے کے بادشاہ ہوکن کی وطن واپسی پر اقتدار بادشاہ کے حوالے کر دیا اور اس طرح پانچ سال کے بعد جرمن قبضہ سے آزاد ہونے پر ناروے کی خودمختاری بحال ہو گئی۔ اسی سال اکتوبر میں وہ روسی افواج بھی ناروے سے واپس چلی گئیں جنہوں نے شمالی ناروے کو جرمن افواج سے آزاد کرایا تھا۔

ناروے کی حکومت نے 12 اکتوبر 1945 میں ایک شاہی فرمان کے تحت ناروے کی جرمنی سے آزادی کا دن 9 مئی کو قرار دیا جس کو بعد میں 1962 میں بدل کر 8 مئی کو پرچم کشائی کا دن قرار دیتے ہوئے یوم آزادی قرار دے دیا گیا۔ اسے ہر سال عزت و احترام سے مناتے ہوئے، اس دن کو جنگ میں حصہ لینے والے جانبازوں کے نام کیا گیا ہے۔ ان کی یاد ہر سال اس دن خصوصی طور پر بڑے اہتمام کے ساتھ منائی جاتی ہے۔