تحقیقی کتاب ”حیات و افکارِ اقبال“
- تحریر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم
- جمعرات 08 / مئ / 2025
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (1877۔ 1938)نے صحرائے ادب کو گلستان رُشد و ہدایت بنا کر خود کو عالمی ادب کے اُفق پر منورکیا ہے۔ اہل قلب و نظر اور آشفتگانِ ذوق ان کے افکار سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں افکارِ اقبال کی بازگشت سنی جا سکتی ہے۔ درویش صفت اقبال شناس طارق محمود مرزا کی شخصی عظمت اور اَدبی قدر و منزلت یہ ہے کہ وہ محب وطن پاکستانی ہیں۔
فکرِ روزگار کی زلفیں سنوارنے کے لیے وہ آج کل آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ تحریر و تقریر میں کمال رکھتے ہیں۔ باکمال دانش ور، صحافی، شاعر، نقاد، مصلح اور پاکستان کی محبت میں سرشار جبار مرزا نے اُن کی اسلام شناسی، انسان شناسی، اقبال شناسی اور وطن شناسی کے حوالے سے بہت سی معلومات فراہم کی ہیں۔ اُن کی کتاب ”حیات و افکار ِ اقبال“ بذریعہ ڈاک موصول ہوئی۔ معروف اشاعتی ادارے سنگِ میل پبلی کیشنز نے 2024 میں زیور طباعت سے آراستہ کیا۔ یہ کتاب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے فکر و فن کا نچوڑ ہے۔ طارق محمود مرزا نے فکرِ اقبال کے گلستاں سے اپنی پسند کے پھول چن کر اقبال شناسوں کے اذہان کو معطر کر دیاہے۔ شاعر، شاعری اور مثبت افکار خوشبو، روشنی اور ہوا کی مانند ہوتے ہیں جو اپنا راستہ خود تراشتے ہیں۔
یہ حسن طارق محمود مرزا کی فنی جولانیوں میں موجود ہے۔ دیارِ غیر میں بیٹھ کر اُنہوں نے اقبال کی شاعری کے جو پھول ہم پر بچھاور کیے ہیں، انہوں ں نے ہماری سانسوں کو معطر کر دیا ہے۔طارق محمود مرزا یکم جون 1961 کو پیدا ہوئے۔ اُنہوں نے راولپنڈی سے میٹرک پاس کر کے 1977ئمیں کراچی کا رخ کیا۔ 1983 میں مکینیکل انجیئنرنگ کا ڈپلومہ حاصل کر کے وزارتِ دفاعی انجینئرنگ سروس میں قدم رکھا۔ علم و اَدب سے گہرا شغف تھا۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ 1988 میں کراچی یونی ورسٹی سے ایم اے اسلامیات مکمل کر لیا۔ مطالعے کا شوق اُن کی زندگی کا حصہ رہا۔ 1988ئے1992 تک وہ مکینیکل انجینئر کی حیثیت میں سلطنتِ عمان میں کام کیا۔ 1994میں وہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی چلے گئے۔ اپنی بیگم اور تین بچوں کے ساتھ اُنہوں نے کاروبارِ حیات میں گہری دلچسپی لی۔ اُردو سوسائٹی آسٹریلیا میں فروغِ اُردو کے لیے مصروفِ عمل رہے۔ اپنا پندرہ روزہ اخبار ”اوورسیز فورٹ نائٹلی“شائع کیا اور 2003سے 2013تک آن لائن صدائے جرس کے ذریعے اَدب کی خدمت کرتے رہے۔ اُن کا اَدبی جنون ایک نقطے پر مرکوز نہیں ہے۔ وہ اَدبی دنیا میں خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتے ہیں۔ مختلف اخبارات و رسائل میں اُن کے کالم شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اُنہیں بہت سی علمی و اَدبی تنظیموں نے مختلف اعزازات سے نوازا ہے۔ اقبال دوستی کا اظہار اُن کی کتاب ”اقبال حیات و افکار“سے ملتا ہے۔علاوہ ازیں اقبال سٹڈی سرکل قائم کر کے آسٹریلیا میں فکرِ اقبال کی ترویج و اشاعت میں مصروفِ عمل ہیں۔
طارق محمود مرزا نے اقبال کی شاعری کے اُن پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جو ایک کامیاب انسان اور مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ اقبال کا آفاقی کلام امن، سلامتی، محبت،ارتقا، خودی اور انسانیت کی بقا کے گرد گھومتا ہے۔ طارق محمود مرزا کی ذات فکرِ اقبال کی مہک رکھتی ہے۔ عظیم شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کی شاعری خوشبو کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا کلام خوشبوئے گل کی طرح گلستانِ ادب کو مہکا رہا ہے۔ ہماری قومی او ر ملی زندگی میں فکرِ اقبال کی اہمیت مسلمہ ہے۔روشنی اور خوشبو اپنا راستہ خود تراشتی ہے۔ رُخ صبح کی طرح کلام اقبال آج بھی ترو تازہ ہے۔ ان کے خیال کی ندرت، لفظوں کی قوت اور اظہار کا انوکھا پن خزینہ اقبال ہے۔ فکر وفن کی اسی انفرادیت میں اقبال کا اقبال بلند سے بلند کر دیا۔ ان کے کلا م کی مہک جاوداں ہے۔ نظم اور غزل دونوں ہی میں ان کا انداز اپنی مثال آپ ہے۔ علامہ محمد اقبال ؒکے فکر و فن پر دُنیا بھر میں تحقیقی کام جاری ہے۔ اس کاروان ِ تحقیق میں طارق محمود مرزا شامل ہو چکے ہیں۔طارق مرزا نے ادبی دنیا کو بہت سی رشحات قلم سے نوازا ہے۔ انہوں نے اقبال کے افکار کو عمیق نظری سے پرکھا ہے۔ طارق محمود مرزا نے آسٹریلیا میں فروغ اردو اور فروغِ فکر اقبال کے لیے قابل تقلید کام کیا ہے۔ ان کے رشحات قلم میں ”سفر عشق“ (رودادِ سفر حج)، ”تلاش راہ (افسانوں کا مجموعہ)، ”خوشبو کا سفر“ (سفرنامہ)،”دنیا رنگ رنگیلی“ (سفرنامہ)، یورپ کے چند ممالک کا سفرنامہ بعنوان ”ملکوں ملکوں دیکھا چاند ”اور فکر اقبال کے حوالے سے ”حیات و افکار اقبال“ شامل ہیں۔ طارق مرزا ادب برائے زندگی کے حامی ہیں۔ وہ انسان اور انسانیت کی فلاح چاہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں جن موضوعات کا انتخاب کیا گیاہے اسے اقبال کے ذہنی ارتقاسے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
طارق محمود مرزا کی اس کاوش کو پاکستان اور دنیا کے کئی حصوں میں سراہا جا رہاہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ طارق مرزا کا دل پاکستان میں دھڑکتا ہے وہ اقبال کے افکار کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ معروف دانش ور ڈاکٹر جبار مرزا سے فون پر جب بھی بات ہوئی وہ طارق محمود مرزا کی شخصیت کی ادبی جہات کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ جبار مرزا، طارق محمود مرزا اور راقم السطور میں اقبال سے محبت مشترک ہے۔ ہم تینوں اقبال کو امت مسلمہ کا ہیرو تصور کرتے ہیں۔ طارق محمود مرزا نے اب تک دنیا کے متعدد ملکوں کی نہ صرف سیر کی ہے بلکہ وہاں گزرے لمحات کو قلم بند بھی کیا ہے۔
’افکارِ اقبال‘ کے عنوانات سے کتاب کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان میں علامہ محمد اقبال کی حیات اوع علمی و عملی کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
رشحات طارق مرزاکے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں:
”مولوی میر حسن کے مکتب میں جا کر اقبال کے جوہر نمایاں ہونے لگے۔ استاد نے بھی اس ہونہار شاگرد پر خصوصی توجہ دی۔ اس دور کے قاعدے کے مطابق اقبال نے مکتب میں اردو، فارسی، عربی او ردینی تعلیم حاصل کی۔ اقبال اس لحاظ سے خوش قسمت ثابت ہوئے کہ مولوی میر حسن ایک عام استاد یا مولوی نہیں تھے بلکہ اعلیٰ ادبی ذوق کے مالک تھے۔ انھیں پنجابی، اردو، عربی او رفارسی کے ہزاروں اشعار ازبر تھے۔ ایک شعر کی وضاحت کرنی ہوتی تو درجنوں مترادف اشعار سنا دیتے۔ زبان و بیان نہایت عمدہ تھے۔ اقبال پر اپنے استاد کا ذوق غالب آنے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی عربی اور فارسی کی استعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔“(”قابل اساتذہ سے کسب ِ فیض“ ص44)
”علامہ ایسے جوہر خالص کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے جو قرآنی پیام سے ملت کا لہو گرما دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ وہ ترجمان القرآن میں مولانا مودودی کے مضامین پڑھتے۔ اس نوجوان میں انھیں ایسی خاص بات نظر آئی کہ اس سے متاثر ہو کر انھوں نے سید مودودی کو حیدر آباد دکن چھوڑ کر پنجاب آنے کی دعوت دی۔ لہٰذا ۸۳۹۱ ء میں مولانا پنجاب آگئے۔ پہلے پٹھان کوٹ او رپھر لاہور میں بسیر ا کیا۔ جہاں ۱۴۹۱ ء میں انھوں نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال بالواسطہ طور پر جماعت اسلامی کے قیام کا ذریعہ بنے۔(”علامہ اقبال ؒ اور مولانا مودودی ؒ“ص167)
”علامہ اقبال نے تہذیب مغرب پر کھل کر تنقید و تنقیص کی ہے۔ اس موضوع پر ان کی کئی نظمیں او رغزلیں موجو دہیں۔ دیگر نظموں میں متعدد مقامات پر انھوں نے تہذیب یورپ کو نشانے پر لیا ہے بعض مقامات پر تو یہ تنقید خلاف موضوع او ربے جا بھی محسوس ہوتی ہے۔“(”اقبال او رتہذیبِ مغرب“: ص 184)
”حکیم الامت حضرت علامہ اقبال کے فکر و فلسفے کا مرکزی نکتہ او رجوہر کلام ان کا نظریہ خودی ہے ان کی فکر اور فلسفے کے دیگر مباحث اس نظریے کے گرد گھومتے ہیں۔ ان کا فلسفہ حیات بھی یہی ہے۔ علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کی تشریح او رتوضیح آسان نہیں ہے۔ جس فکر اور فلسفے کو بیان کرنے او راس کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے خود علامہ نے کئی کتابیں لکھ ڈالیں، اسے چند صفحات میں سمیٹنا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے تاہم اس الہامی فلسفے کی وادی اسرار میں ایک دفعہ داخل ہو جائیں تو اس کے قلبی اثرات او رکیف و سرور سے نکلنا بھی محال ہے۔“ ”اقبال کا فلسفہ خودی“:ص197)
”اقبال کا تصور خودی محض انفرادی یا شخصی نہیں ہے بلکہ وہ فرد کو قوم او ر قوم کو فرد کے بغیر ادھورا سمجھتے ہیں۔ روایتی خودی کے معنی انا یا خود پرستی تھے مگر اقبال نے اسے خود شناسی او رتکمیل ذات میں بدل دیا۔ اس کی اگلی منزل اجتماعی خود ی ہے۔ اگر کوئی فرد خود کو تو توانا بنا لیتا ہے مگر اپنی توانائی ملک و ملت، قوم او رمعاشرے سے بچا کر رکھتا ہے، اقبال کے نزدیک یہ تعمیر کی نہیں تخریب کی صورت ہے اور یہ خود ی کے برعکس عمل ہے۔“(ص215)
”اقبال نے جب خودی کا نظریہ پیش کیا تو بہت کم لوگوں نے اسے سمجھا۔ کچھ نقادوں نے الزام لگایا کہ یہ جرمن ادب سے اخذ کیا گیا ہے۔ کہا گیا کہ نطشے کے نظریہ فوق الانسان سے مستعار لیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ نظریہ مشرق او رمغرب دونوں میں پہلے ہی کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا۔ کبھی ماورا ء انسان، کبھی انسان کامل اور کبھی آئیڈیل شخص کے طور پر، مختلف زمانوں پر اس پر طبع آزمائی کی گئی مگر اقبال کا کامل انسان اتنا واضح نظریہ ہے کہ اس سے پہلے اس پر اس حد تک واضح انداز میں نہیں لکھا گیا تھا۔ کود اقبال کے روحانی استاد مولانا رومی کے اشعار میں بھی ایسے انسان کی تلاش کا ذکر ہے جو چراغ لے کر ڈھونڈا جاتا ہے۔ (”فلسفہ خودی کے ماخذ“:ص221)
”شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کے ہاں عشق کا تصور وسیع تر معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اقبال کا عشق عرفان ذات، باطنی شعور، خود آگاہی، شوق، ولولہ، حرکت پذیری اور دل کا دیا جلانے کا نام ہے۔ اقبال کے پیام کا مرکزی نکتہ اور ان کا موضوع خاص خود ی ہے۔وہ عشق کو خودی سے اس طرح مربوط کر دیتے ہیں کہ عشق کے بغیر خودی کاوجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ عشق سے خودی حرارت، روشنی اور توانائی حاصل کرتی ہے گویا عشق کے بغیر خودی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ خودی اگر منزل ہے تو عشق راستہ بھی ہے، زاد سفر بھی ہے او رذریعہ سفربھی ہے۔“ (”اقبال کا تصور ِ عشق“:ص233)
”اقبال نے عشق کے مفہوم میں وسعت اور گہرائی پیدا کر دی ہے انھوں نے عشق کو نئی سمت اور نیا انداز بخشا۔ عشق جو روایتی شاعری میں بے بسی او ربیخودی کی تصویر نظر آتا تھا، اسے زندگی کی علامت اور کار کشائے حیات بنا دیا۔ اسے مشن، چیلنج او رایڈونچر کے راستے پر ڈال دیا۔ گویا عشق زندگی کی علامت ہے۔ پلٹنے، جھپٹنے او رپلٹ کر جھپٹنے کا ذریعہ ہے۔ موت کے منہ سے زندگی چھین لینے کا نام ہے۔“ (”اقبال کا تصور ِ عشق“:236)
میں اپنے پیر و مرشد جبار مرزا کا سپاس گزار ہوں جنہوں نے ایک عظیم مفکر اور اقبال شناس طارق محمود مرزا سے متعارف کروایا۔