کیا کہا مودی کے دیرینہ یار ٹرمپ نے؟

لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال میں تفصیلات کا ذکر ذہن کو الجھا دیتا ہے۔ پاک بھارت تناؤ جب حالتِ جنگ میں داخل ہوجائے تو مجھ ایسے قلم گھسیٹ کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ بال ٹو بال کمنٹری کے بجائے سوکالڈ بگ پکچر پر نظر رکھی جائے اور اس پر کڑی نگاہ رکھنے کی بدولت یہ لکھنے کو مجبور ہوں کہ مودی سرکار نے پہل گام میں ہوئی دہشت گردی کے 15 دن گزر جانے کے بعد پاکستان کی شہری عمارتوں خصوصاََ مساجد پر جو حملہ کیا وہ پنجابی محاورے کی اس نانی جیسا عمل ہے جس نے بڑھاپے میں ایک اور شادی کرتے ہی طلاق لے لی تھی۔

اپنے دعویٰ کے ثبوت میں امریکی صدر ٹرمپ کے وہ الفاظ یاد دلانا ہوں گے جو بھارتی حملے کی اطلاع ملتے ہی موصوف نے کیمروں کے روبرو ادا کئے۔ بھارتی حملے کو اس نے ’’شرم ناک‘‘ قرار دیا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی دہرائی کہ پاکستان اور ہندوستان دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑوں میں مصروف رہے ہیں۔ دہائیوں سے بھی وہ آگے بڑھا تو درحقیقت دو قومی نظریے کو درست قرار دیتا سنائی دیا۔ اس کی دانست میں جنوبی ایشیا میں جھگڑا دو ممالک یعنی پاکستان اور ہندوستان کے مابین نہیں بلکہ دو مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان ہے۔ اس رائے کے اظہار کے بعد امریکی صدر نے دونوں ملکوں میں جنگ بندی کو ناگزیر ٹھہرایا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو نریندر مودی 2016 سے اپنا ’’دوست‘‘ بنائے ہوئے ہے۔ اسے گماں تھا کہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اس کے ملک میں نہ صرف بھاری بھر کم سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا بلکہ اسے جدید ترین ہتھیار بھی فراہم کئے جائیں گے۔ امریکی تھپکی بالآخر اسے جنوبی ایشیا  کا حتمی تھانے دار ہی نہیں بلکہ چین کے برابرکھڑا ملک بنائے گی۔ امریکہ کو لبھاتے ہوئے نریندرمودی حیران کن حد تک اس حقیقت کو بھلا بیٹھا کہ ٹرمپ بنیادی طور پر ایک کاروباری شخص ہے جس کا مقصد امریکہ کو ’’ایک بار پھر عظیم‘‘ بنانا ہے۔ اپنے خواب کو عملی شکل دینے کے لئے اسے اتحادی نہیں ہاں میں ہاں ملانے والے جی حضوری درکار ہیں۔ اسی باعث وہ برسوں سے نیٹو میں شامل یورپی ممالک سے بھی فاصلہ رکھنا چاہ رہا ہے۔ ان میں سے برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک کی افواج نے نہایت مشکل دنوں میں نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ  کندھے سے کندھا ملایا۔ کینیڈا کو اس کے باوجود ٹرمپ امریکہ کا ایک اور صوبہ بنانے کو مصر ہے اور برطانیہ جو دہائیوں سے ’’اینگلوسیکسن‘‘ تہذیب کا مرکز رہا ہے اکثر اس کے جلے بھنے فقروں کی زد میں رہتا ہے۔

برطانیہ اور کینیڈا کے برعکس بھارت نے روس کے ساتھ یوکرین پر حملے کے باوجود اپنے دیرینہ تعلقات برقرار رکھے۔ روس کو مذکورہ جنگ میں کمزور کرنے کے لئے امریکہ نے اس کے تیل کی عالمی منڈی تک رسائی ناممکن بنانا چاہی۔ بھارت نے امریکی ترجیحات کو نظرانداز کرتے ہوئے اس سے سستے داموں تیل خریدا۔ خام تیل کی بھاری بھر کم مقدار بھی اپنے ہاں قائم ریفائنریوں میں صاف کرنے کے بعد وہاں سے نکلے پٹرول اور ڈیزل کو یورپی منڈی میں مہنگے داموں فروخت کیا۔ جدید ترین اسلحہ کے حصول کے لئے وہ امریکہ سے رجوع کرنے کے بجائے روس کی جانب بھی دیکھتا رہا اور یورپ میں فقط فرانس سے جنگی طیارے خریدنے کے لئے رجوع کیا۔ ٹرمپ ، بائیڈن کا سخت مخالف ہے۔ روس کے پوٹن سے دوستی بھی بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ دوستی مگر وہ دفاعی اور معاشی اعتبار سے چین کو تنہا کرنے کے عوض سے کرنا چاہ رہا ہے اور پوٹن سے رشتے استوار کرنے کے لئے اسے بھارت کی ضرورت نہیں۔

نریندر مودی نے مسلسل غیر ملکی دورے کرتے ہوئے اپنے عوام کو یہ تاثر دیا کہ بھارت اپنے تئیں ایک عالمی سطح کی قوت بن کر ابھر رہا ہے۔ دنیا کا ہر ملک وہاں سرمایہ کاری کو بے چین ہے اور آبادی کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے ملک کی منڈی میں اپنی اشیا  بیچنا چاہ رہا ہے۔  یہ خواب دکھاتے ہوئے نریندر مودی کو یاد نہ رہا کہ آبادی اپنے تئیں آپ کو طاقت ور نہیں بناتی۔ اہم سوال آپ کے ہاں ایسے لوگوں کا وافر تعداد میں ہونا ہے جو ایپل جیسے برانڈز کی اشیا خریدنے کے قابل ہوں۔ بھارت آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک ہونے کے باوجود آج بھی چین کی سب سے بڑی منڈی ہے کیونکہ وہاں سے درآمد ہوئی اشیا بھارت کا متوسط طبقہ خریدنے کی سکت رکھتا ہے۔

مجھے کامل یقین ہے کہ امریکہ نے پاکستان پر منگل کی رات ہوئے حملے کا جس انداز میں ردعمل دیا ہے، وہ بھارت میں نام نہاد مودی  ٹرمپ ’’یاری‘‘ کے بارے میں بے تحاشہ سوال اٹھائے گا۔ سیاسی اعتبار سے پاکستان پر حملہ مودی کا زوال یقینی بناسکتا ہے۔ اس کے پاس ایسی ایک بھی کہانی موجود نہیں جو عام بھارتی کو قائل کرسکے کہ پاکستان کی چند مساجد پر ہوئے حملے کس طرح پہل گام میں ہوئے واقعہ کا ’’بدلہ‘‘ لیتے ہیں۔ اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ پیشہ ورانہ فوج جنگ کا آغاز ہر حوالے سے دفاعی یا فوجی شمارہوئے اہداف پر حملے سے کرتی ہے۔ گنجان آباد شہروں اور قصبوں میں قائم عمارتوں خاص طورپر مذہبی عبادات کے لئے مختص عمارتوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ بھارت نے اپنی دانست میں ’’دہشت گرد‘‘ پیدا کرنے والی مساجد کو نشانہ بنایا۔ یہ بتانے کا البتہ تردد نہیں کیا کہ جن مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے وہاں پہل گام حملے میں ملوث کون سا ’’دہشت گرد‘‘ نماز ادا کرتا تھا یا مبینہ طورپر دہشت گردی کی تربیت کے عمل سے گزرا۔

رات کے اندھیرے میں اپنی شہری آبادی اور عمارتوں پر ہوئے بزدلانہ حملے کے باوجود پاکستان کی افواج نے پیشہ ورانہ اصولوں اور روایات کی پیروی کرتے ہوئے بھارت کے فقط فوجی مقامات کو نشانہ بنایا۔ زیادہ توجہ فرانس سے خریدے رافیل طیاروں پر مبذول رکھی جنہیں خریدنے کے بعد بھارت خود کو فضائی جنگ کے حوالے سے بالادست محسوس کرتا تھا۔ ہماری جانب سے کسی مندر کو ہندوانتہاپسندی کا مرکز شمار کرتے ہوئے تباہ کرنے کی کوشش نہیں ہوئی۔ ’’مسجد کے بدلے مندر‘‘کے بجائے پاکستان نے جنگ کے لئے بنیادی شمار ہوئے طیاروں اور عمارتوں پر ہی حملے کئے اور یوں حالتِ جنگ میں بھی اپنے اعصاب پر مکمل کنٹرول کا مظاہرہ کیا۔

امید ہے کہ منگل کی رات ہوئے حملے کا موثر جواب آجانے کے بعد بھارت اس خطے میں چوہدراہٹ قائم کرنے کے جنون سے باز رہے گا۔

(بشکریہ: روزنامہ  نوائے وقت)