’آپریشن سندور‘ کا حاصل؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 08 / مئ / 2025
دنیا میں انتقام کی آگ اتنی گھٹیا ہوتی ہے کہ جس کا اگلا سرا معلوم نہیں ہوتا۔ آج تک جتنی بدترین خونی جنگیں لڑی گئی ہیں اکثر ان کی ابتدا بہت چھوٹی باتوں سے ہوئی ہے۔ پھر وہ رنجشیں انتقام کی آگ میں آگے بڑھ کر بہت کچھ بھسم کر ڈالتی ہیں۔
پہلگام میں جو اندوہناک انسانی سانحہ ہوا، جس طرح چھبیس بے گناہ اور معصوم انسان اپنی فیملیوں کے سامنے مارے گئے، اس کی پوری دنیا میں غم و غصے کے ساتھ مذمت کی گئی۔ خود انڈیا کی مودی سرکار کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ اندرون ملک بپھرے ہوئے جذبات کو مزید بھڑکانے یا مشتعل کرنے کی بجائے اس ایشو کو عالمی سطح پر سفارتی ذرائع سے اٹھاتی۔ اگر یہ لوگ صبر اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے تو اس سے نہ صرف انڈیا کی نیک نامی اور وقار میں اضافہ ہوتا بلکہ جن پر یہ الزامات عائد کیے جارہے تھے، کئی اخلاقی حوالوں سے ان کے لیے اچھی خاصی مشکلات پیدا ہوتی چلی جاتیں۔
مودی سرکار نے بالآخر متوقع ”آپریشن سندور“ کے تحت پاکستان پر جو چوبیس میزائل داغے ہیں ان کے ذریعے مظفرآباد، کوٹلی، باغ، مریدکے، بہاولپور اور احمد پورشرقیہ سمیت 9مقامات کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ ان میں اگر کوئی دہشت گرد مرتا پھر تو افسوس نہ ہوتا۔ مگرسرکاری رپورٹ کے مطابق متعقلہ عمارات سمیت 26شہری جاں بحق اور46 زخمی ہوئے ہیں۔ انڈین میڈیا کے مطابق انہوں نے اتنک واد کے اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ کسی ملٹری بیس پر حملہ نہیں کیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کا دورانِ امن پاکستان پر یہ سب سے بڑا میزائل حملہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کو اس سے سوائے اپنی انا کی تسکین یا انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے حاصل کیا ہوا ہے؟ کون سا دہشت گرد مرا ہے؟اس سے پاکستان کے ڈیفنس یا معیشت کو کیا نقصان پہنچ گیا ہے؟
الٹا سانحہ پہلگام کے بعد انڈیا کے ساتھ عالمی ہمدردی کی جو لہر چل رہی تھی، اب اس کے برعکس انڈیا کے سب سے بڑے اتحادی امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس صورتحال کو شرمناک قراردیا ہے۔ یو این کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اس بھارتی حملے کے بعد کہا ہے کہ وہ اس پر بہت پریشان اور فکر مند ہیں۔ اور یہ کہ دنیا بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی بھی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں۔
درویش کا انڈین ذمہ داران سے سوال ہے کہ آپ کے اس انتقامی حملے سے کیا اتنک واد ختم ہوجائے گا؟یا مزید جڑ پکڑے گا؟ سانحہ پہلگام میں مرنے والے چھبیس انسان بے گناہ اور معصوم تھے۔ اسی پس منظر میں بتائیے کہ آپ کے اس ”آپریشن سندور“ میں مرنے والے کیا معصوم کی بجائے دہشت گرد تھے؟ جن سہاگنوں کے سندرو کی آپ بات کررہے ہیں کیا ان بے گناہ آٹھ اموات اور پنتیس زخمیوں کے بعد ان کی مانگ میں سندور آگیا ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے اصل اتنک وادی مارے گئے ہیں؟ اتنے بڑے طوفان کے بعد بھی کیا وہ اپنے ان اڈوں پر بیٹھے ہوئے تھے، اس انتظار میں کہ اے انڈیاوالو آؤ اور ہمیں مارڈالو۔ کسے معلوم نہیں تھا کہ آپ لوگوں کا اولین جوابی ٹارگٹ لشکرِ طیبہ یا جیشِ محمد جیسی تنظیموں کے مراکز ہوں گے۔ جب عام سے عام بندے کو یہ معلوم تھا تو وہ جو اصل اتنک وادی ہیں، کیا وہ اتنے بیوقوف تھے کہ آرام سے اپنے ان ٹھکانوں میں براجمان مرنے کے لیے تیار بیٹھے رہتے؟
آپ نے سوائے اپنے جنونی لوگوں کو خوش کرنے کے اور خود اپنے اخلاقی چہرے کو داغدار کرنے کے کچھ حاصل نہیں کیا۔ رہ گیا ہمارا ملک پاکستان۔ آپ لوگوں نے خود اسے ایک نوع کا جواز فراہم کردیا ہے کہ وہ بھی بدلے کی آگ میں جلتے ہوئے آپ کی طرف بارود پھینکے۔ مان لیتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے ایئرپورٹ تباہ کیے ہیں، نہ چیک پوسٹیں اڑائی ہیں اور نہ پانچ طیارے گرائے ہیں۔ یہ سب سرکاری پروپیگنڈہ ہے لیکن ذرا سوچئے اس حملے کے بعد کم از کم وہ بھی آپ کی طرف پھول تو نہیں بھیجیں گے؟ تو پھر آپ کو اس سب سے حاصل کیا ہوا؟ حاصل یہ ہوا ہے کہ بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں کچھ دہشت گردوں کے ہاتھوں ہمارے جو 7جوان شہید ہوئے ہیں، پاکستان کے اس دعوے کو آپ لوگوں نے یہ جواز کیا خود فراہم نہیں کردیا ہے کہ آپ بھی اتنک واد کی وہی حرکتیں کررہے ہیں جن کا رونا
آپ کشمیر کے حوالے سے روتے چلے آرہے ہیں۔
اخلاقیات کا مسلمہ عالمی اصول ہے کہ آپ کو اپنے حریف سے جس برائی کی شکایت ہے، کم از کم آپ خود تو اس کے مرتکب نہ ہوئے ہوں۔ آپ کا اپنا دامن تو صاف ہو۔ بصورتِ دیگر آپ کس اصول کے تحت اسے مطعون کرسکتے ہیں؟ کیا آپ اس طرح اسے نیا جواز فراہم نہیں کررہے کہ وہ اپنی وہی کارروائیاں حسبِ سابق جاری و ساری رکھے، جن کا اصل نقصان اُن کو نہیں آپ کو ہے۔ ان کے لیے کھونے کو وہ کچھ نہیں ہے جو آپ لوگوں کے پاس ہے۔ آپ ہی کے زیرِ قبضہ کشمیر میں وہ مقامات ہیں جنہیں چھوٹے سوئیزرلینڈز کہاجاتا ہے۔ کیا اتنک واد کی ایسی بڑھتی فضا میں وہاں کی سیاحت اوپر اٹھ سکے گی؟ کیا انڈین کشمیر کے عوام کی محرومیاں دور ہوسکیں گی؟ امن و سلامتی کی اتنی ضرورت ہمیں نہیں ہے جتنی آپ لوگوں کو ہے مگر آپ کی بڑھاوا دی گئی موجودہ جنگی فضا کا اصل نقصان تو آپ لوگوں کو ہوگا۔
ہماری حکمران ایشٹیبلشمنٹ کو تو ایک طرح سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ہمارے ہائبرڈ سسٹم میں جس نوع کا انتشار ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا، آپ لوگوں نے ایسی فضا بنا دی ہے کہ آج پاکستان میں نفرت کا بیوپار کرنے والے تمام جنونی ذہنیت والے خوش ہیں۔ آج پورے پاکستان میں آمریت کے بدترین مخالفین بھی ہماری عسکری قیادت کی جے جے کے نعرے لگا رہے ہیں۔ بدترین مخالف بھی جنرل عاصم منیر کے ترانے پڑھنے لگے ہیں۔ آج ہمارے جناح تھرڈ کی پارٹی بھی اس کے خلاف زبان کھولنے کا یارا نہیں رکھتی۔ ورنہ وہ غدار اور ملک دشمن قرار پائے گی۔ انڈیا سے محبت اور دوستی کے درویش جیسے پرچارک بھی اب اس فضا میں کچھ بولنے یا لکھنے سے قاصر ہیں۔ بصورت دیگر ایسی کسی بھی اختلافی بات کو حب الوطنی کے خلاف گردانا جائے گا۔
اپنے پاکستانی ذمہ داران کی خدمت میں بھی درویش کی گزارش ہے کہ اس ملکِ بدنصیب کی معیشت پہلے ہی قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ مہنگائی بے، روزگاری سیاسی عدم استحکام اور مذہبی جنونیت نے سوائے چند لاکھ مراعات یافتہ طبقات کے دیگر پچیس کروڑ انسانوں کی زندگیاں برباد کررکھی ہیں۔ یہاں لوگوں کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ پہلے سے موجود ملک ہم سے سنبھالا نہیں جارہا۔ نئی فتوحات ہم نے کیا خاک کرنی ہیں۔ کیسے کرنی ہیں اور کیوں کرنی ہیں؟ کشمیر کشمیر کھیلتے ہوئے ہم لوگ پہلے ہی اپنا آدھا ملک گنوا چکے ہیں۔ اب بلوچستان کے حالات بھی سخت دگرگوں ہیں۔ اوپر سے پانی کا نیا پنگا پڑنے والا ہے۔ افسوس یہاں آزادی اظہار میسر نہیں ۔ ورنہ ہمارے اس تضادستان کو آنے والے ماہ و سال میں جو مشکلات پیش آنے والی ہیں، ان کے ایک ایک پہلو کی ایسی واضح نشاندہی کروں کہ آنکھیں کھل جائیں۔ انڈیا دشمنی میں آپ لوگوں نے خود کو برباد کر لیا ہے۔
ہر دو ممالک کے بھڑکاؤ میڈیا کی خدمت میں دست بستہ التماس ہے کہ وہ جلتی پر تیل کا گھٹیا ”فریضہ” ادا کرنا ترک کردے۔ ایک نفرت ہمیشہ دوسری بدتر نفرت کو جنم دیتی ہے۔ ایک جھوٹ کے ساتھ دس جھوٹ مزید بولنے پڑتے ہیں۔ فالس فلیگ آپریشن جیسا گھناؤنا پروپیگنڈہ، غلیظ الزامات اور تھرڈ کلاس طعنے بازیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آپ لوگوں کے جھوٹوں اور بڑک بازیوں سے نہ ہندوستان نے ختم ہوجانا ہے، نہ پاکستان نے تگڑا ہو جانا ہے۔ البتہ اس سے پونے دو ارب انسانوں کی زندگیاں ضرور بدحالی کا شکار رہیں گی۔ کیونکہ اس سرسبز و شاداب زرخیز اور معدنیات سے مالا مال خطۂ ہند کے تمامتر وسائل بجائے عوام کی زندگیوں میں خوشحالی لانے کے اسلحہ بندیوں اور بارود کے ڈھیروں پر خرچ ہوتے رہیں گے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے جس طرح ہم لوگ عسکریوں کے بوٹ چاٹتے رہیں گے، اسی طرح آپ گاؤماتا کے بول کی شانیں بیان کرنے والی ذہنیت کے نیچے دب کر رہ جائیں گے ۔
سچ تو یہ ہے کہ اس خطہ ہند کے باسیوں میں سوائے منافرت کے بیوپاریوں اور اقتدار و طاقت کی بھوک رکھنے والوں کے کروڑوں عام لوگوں میں کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا۔ سب امن و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کے متمنی ۔ لیکن ہمارا عام جذباتی آدمی سرکاری پروپیگنڈے کا اثر بہرحال لیتا ہے۔ اسی کے زیر اثر نعرے باز پیداہوتے ۔
اے حکمرانو! سیاستدانو! صحافیو! لیڈری کے بھوکو اور مذہبی جنونیو! خدارا، جنگی جنون اور منافرت کے پھیلاؤ سے باز آجاؤ، جو کچھ ہوچکا ہے اسی پر بس کردو، اسی پر رک جاؤ۔