امریکی وزیرخارجہ کا آرمی چیف سے رابطہ، کشیدگی کم کرنے میں تعاون کی پیشکش
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں امریکی وزیرخارجہ نے پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مارکو روبیو نے مستقبل میں تنازعات سے بچنےکےلیےامریکا کی طرف سے تعمیری معاونت کی پیشکش کی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت نے پاکستان میں 3 ایئر بیسز پر میزائل داغے ہیں۔ تاہم پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے ان میزائل حملوں کو ناکام بنا دیا جس کے جوابی کارروائی میں پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص لانچ کرکے بھارت کی تین ایئر بیسزسمیت متعدد ایئر فیلڈز کو تباہ کر دیا۔
پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کا حق استعمال کرتے ہی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت سے ٹیلیفونک رابطے، کشیدگی میں کمی پر زور، تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ٹیلی فون کر کے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے تعاون کی پیشکش کی ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹیمی بروس کے مطابق مارکو روبیو نے فریقین کو مستقبل میں تنازعات سے بچنے کے لیے تعمیری بات چیت میں مدد کی پیشکش کی ہے۔مارکو روبیو نے وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی رابطہ کیا ہے اور تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ کو اسحاق ڈار نے بتایا کہ بال اب بھارت کے کورٹ میں ہے، اگر بھارت امن چاہے تو پاکستان بھی تیار ہے۔ اب اگر بھارت نے کوئی کارروائی کی تو پھر پاکستان بھی جواب دے گا۔
اسحاق ڈار کے مطابق مارکو روبیو نے زور دیا کہ پاکستان اور بھارت ایسا راستہ تلاش کریں جس سے دونوں ملکوں کے رابطے بحال ہوں اور مس کیکولیشن سے بچا جائے۔ دنیا یہ صورتحال افورڈ نہیں کر سکتی۔اسحاق ڈار کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کو کہا کہ ابھی صرف ہم نے بھارتی جارحیت کا جواب دیا ، آپ بھارت کو سمجھائیں اور اب اگر بھارت اب یہاں رک جائے تو ہم رک جائیں گے۔ اگر بھارت نے پھر حملہ کیا تو پھر یہاں سے بھی جواب دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ کے مطابق مارکو روبیو نے کہا کہ میں نے بھارت میں بات کی ہے اور دوبارہ کروں گا۔ یقینی بنائیں گے وہاں سے کوئی حملہ نہ ہو کیونکہ وہاں سے حملہ ہوگا تو آپ بھی دوبارہ حملہ کریں گے۔ وزیرِ خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ پُرامید ہیں کہ صورتحال بہتر ہوگی۔
اس سے پہلے چھ سے زائد وزرائے خارجہ نے سے پاکستانی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا تھا اور کہا کہ جنگ بندی کریں جس پر انہیں بتایا گیا کہ پاکستان نے حملے میں تاحال پہل نہیں کی۔ صرف جوابی اقدامات کیے ہیں۔اسحاق ڈار سے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے بھی دو بار رابطہ کیا ہے۔ جانوں کے نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا اور پاکستان کے نپے تلے ردعمل کو سراہا۔
چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کشیدگی پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ ’ہم فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ امن اور استحکام کے وسیع تر مفاد میں کام کریں اور تحمل سے کام لیں۔پرامن طریقے سے حل تلاش کریں اور کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کریں جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو‘۔
چین کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا اور پاکستان، دونوں کے بنیادی مفاد اور ایک مستحکم اور پرامن خطے کے لیے اہم ہو گا۔ بین الاقوامی برادری کو بھی یہی امید ہے۔ چین اس مقصد کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔