نفرت اور خونریزی کا دھندا کب تک؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 10 / مئ / 2025
میں زہرِ ہَلاہِل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
یہ درویش ہوش سنبھالنے سے “میں میں” کو سخت ناپسند کرتا آیاہے۔ اسی لیے “میری کہانی” نام کی کوئی تحریر کبھی نہیں لکھ پایا شاید اس لیے کہ بچپن سے ہی صوفیوں سادھوؤں سے جو واسطہ پڑا یا ناتہ بندھا، اس نے شوبازی، تعلی، ملمع کاری، بلے بلے اور ”میں میں“ سے متنفر کردیا۔
وحدت الوجود والوں سے یہی سیکھا کہ ”موتو قبل الموت“ پہلی جنگ اپنے نفس یا نفسانی خواہشات سے کر: نہ کر بندیا میری میری، نہ تیری نہ میری، چار دناں دا میلہ دنیا، فیر مٹی دی ڈھیری۔ زندگی بھر بابا بلھے شاہ سرکار کے ان وچاروں کا بہت اثر لیا:
پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں، اپنا آپ پڑھیا نیں،
جا جا وڑدا ایں مندر مسیتی، کدی من اپنے وچ وڑیا نیں،
ایویں لڑدا ایں شیطان دے نال بندیا، کدی نفس اپنے نال لڑیا ای نیں۔
بلھے شاہ آسمانی اڈدیاں پھڑدا ایں جیڑا گھر بیٹھا اونوں پھڑیا ای نیں
پہلے اپنے آپ نو ں پڑھ فیر مندر مسیتی وڑ
جدوں نفس جاوے تیرا مر ، فیر شیطاناں نال وی لڑ
بابا جی ”میں میں“ مکانے کے لیے کیا خوب فرماتے ہیں:
پھلاں دا تو عطر بنا، عطراں دا فیر کڈھ دریا
اس دریا وچ توں رج نہا، مچھیاں وانگوں تاریاں لا
فیر وی تیری بو نہیں مرنی، پہلے اپنی میں مکا
جبکہ ہماری دنیاداری کا اسلوب ہی الٹا ہے۔ سادھو بابوں نے کہا تھا۔ نیکی کر دریا میں ڈال
مگر دنیادار اصرار کرتے ہیں کہ نیکی کر اور جنگ اخبار میں ڈال۔ قاضی حسین نے درویش کے سامنے کہا کہ اچھی مارکیٹنگ کا اصول یہی ہے کہ چار آنے کی چیز بناؤ ایک روپے کی تشہیر کرو اور ڈیڑھ روپے کی بیچ ڈالو۔
ایک دن اپنے اخبار کے ایڈیٹر سے کہا کہ کیا وجہ ہے، یہ درویش ایک جینوئن بات یا تلخ سچائی لکھتا ہے تو وہ سب رک جاتی ہے جبکہ وہی بات فلاں نے لکھی ہے تو تفصیل سے چھپی ہے۔ فوراً بولے ان کا نام پاپولیریٹی ہے۔ وہ جو لکھتے ہیں وہ اُن کی بات سمجھی جاتی ہے جبکہ آپ کا نام نہیں۔ آپ جو لکھتے ہیں وہ اخباری کھاتے میں پڑتی ہے، اس لیے کاٹ دیتے ہیں۔ اس کے جواب میں کیا کہہ سکتا تھا کہ نام و نمود یا پاپولیریٹی کے لیے ناچیز سے ضمیر کے خلاف ہولی حرکتیں نہیں ہوپاتیں۔ چاہوں بھی تو ایسی بے اصولی کرسکتا ہوں نہ خیال و افکار بدل سکتا ہوں۔ اپنی “میں” کو تو مار سکتا ہوں ضمیر کو نہیں۔ اور نہ پاپولیریٹی کیلیے الٹی سیدھی چھلانگیں لگا سکتا ہوں۔ سو بالآخر یہی کہنا پڑتا ہے کہ:
اپنے ہی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہَلاہِل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
سانحۂ پہلگام کے ردِعمل میں انڈیا نے ”آپریشن سندور“ کے تحت دیگر مقامات کے علاوہ لشکرِ طیبہ کے مرکز طیبہ پر جب سے میزائل مارے ہیں، مریدکے خبروں میں ہے۔ جبکہ یہ درویش تو جم پل ہی مریدکے کی ہے۔ غلہ منڈی مریدکے جو اس وقت سیاسی، سماجی اور مذہبی تقریبات اور جلسوں کی آماجگاہ یا رونق ہوا کرتی تھی، یہیں اس کی رہائش تھی۔ اپنے بچپن میں ملک کی بڑی بڑی سیاسی و مذہبی شخصیات کو یہیں آتے جاتے اور تقاریر کرتے دیکھا سنا۔
تعمیرِ ملت اور مندر والے سکول سے لے کر جی ٹی روڈ کے گورنمنٹ ہائی سکول تک، مریدکے کی گلیوں، بازاروں اور محلوں کا کوئی ایک کونہ یا گوشہ اس درویش کی دست برد سے باہر نہیں تھا۔ یہیں پر فیملی فرقے بریلوی سے، دیوبندی پھر وہابی اور مابعد مودودیہ ہوا۔ اسلامی جمعیت کے مقامی ناظم کی حیثیت سے ہر کسی کی آگاہی گویا اپنا دینی و مذہبی فریضہ خیال کرتا۔ اور یہ دعویٰ رکھتا کہ درویش یہ بتا سکتا ہے کون یہاں کا مقامی ہے اور کون باہر سے آیا ہوا۔ صبح یا شام کا معمول تھا کہ ریلوے ٹریک پر سیر کرنی ہے جو بعض اوقات ننگل سادھاں تک چلی جاتی جس جگہ اب لشکرِ طیبہ کا مرکز ہے، تب یہاں کھیت کھلیان ہوتے تھے۔
سچ تو یہ ہے کہ موجودہ مرکزِ طیبہ درویش کی آنکھوں کے سامنے تعمیر ہوا۔ اس کے معماران میں حافظ سعید صاحب سے لے کر پروفیسر ظفر اقبال تک جناب امیر حمزہ ذکی الرحمن لکھوی اور یحییٰ مجاہد تک، سبھی سے نہ صرف ذاتی شناسائی رہی بلکہ حافظ سعید اور ان کے معتمدِ خاص ظفر اقبال صاحب کے تو ایک زمانے میں تفصیلی انٹرویوز بھی کیے جو ہمارے میگزین کی زینت بنے۔ امیرحمزہ صاحب کی قرأت اور خوش الہانی میں دلسوزی کا اتنا مدح رہا کہ جب درویش کے فادران لا کی رحلت ہوئی تو رِقت آمیز دعاؤں کے ساتھ نمازِجنازہ پڑھانے کے لیے خصوصی فرمائش کی جو انہوں نے پوری کی جس کا امیرحمزہ صاحب نے اپنے کالم میں تذکرہ بھی کیا تھا۔
مریدکے میں اہلِ حدیثوں کی پہچان مولانا اجمل صاحب سے بخاری و مسلم کے اسباق پڑھے۔ علامہ ساجد میر کے ساتھ بھی ایک زمانے میں قربت رہی۔ حافظ سعید صاحب انجینئرنگ یونیورسٹی میں اسلامیات کے لیکچرار سے ترقی کرتے ہوئے کیسے عالمی جہادی بنے؟ پوری داستان ازبر ہے۔ ان کی سادگی کے ساتھ جہادی زبان میں عجب تاثیر تھی کہ ایک مرتبہ اپنے بھتیجے سعد کے ساتھ ان کے پیچھے نماز عید پڑھی تو جہاد پر ان کا بیان سنتے ہوئے، وہ بچہ اسی میں کھو گیا۔ مجھ سے بولا کہ آپ مجھے ان کی تنظیم میں شامل کرادیں۔ حیرت اور ناراضی سے دیکھتے ہوئے پوچھا ”وہ کیوں؟“بولا میں بھی جہادی بننا چاہتا ہوں۔ بڑی مشکل سے اسے سمجھایا بجھایا اور آئندہ کے لیے سوچ لیا کہ معصوم ذہنوں کو کبھی ادھر لے کر نہیں آؤں گا۔
کتنے نوجوانوں کو جانتا ہوں جو حافظ صاحب کے لشکر میں شامل ہوکر اپنے بوڑھے ماں باپ کا سہارا بننے کی بجائے لقمۂ اجل بن گئے۔ اگر یہ کہوں کہ وہ اپنی جانیں جہادِ کشمیر میں گنوا بیٹھے تو کئی مہربانوں کو شاید بات بری لگے اور وہ فوراً کہیں کہ جہاد میں شہادت کی موت تو اختتامِ زندگی نہیں بلکہ یہ تو دوامِ زندگی ہے۔ اس لیے کہ واضح طور پر یہ فرمایا گیا ہے ”تم لوگ خدا کی راہ میں شہید ہونے والوں کو مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں مگر تم اس کا شعور نہیں رکھتے ہو۔“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”انہیں رزق دیا جاتا ہے جس کی تم لوگوں کو سمجھ نہیں۔“ اس کے بالمقابل درویش کئی ایسے واقعات کا گواہ ہے جو اتنے دردناک و غم انگیز ہیں اور اپنے نونہالوں کے لیے آہوں، آنسوؤں اور سسکیوں کے ساتھ روتی کرلاتی ہوئی ماؤں کی وہ داستانیں ہیں جو یہاں تحریر کردوں تو ہمارے اخبار والے یہ آرٹیکل شائع کرنے سے انکار کردیں گے۔ اس لیے درویش کا صبر ہی کافی ہے، خدا ان سب کو ہدایت دے:
نہیں منّت کشِ تابِ شنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری
ایک مرتبہ ایک انڈین سفارت کار نے جو درویش کی تحریروں سے آگہی رکھتے تھے اور لاہور سے تعلق کے حوالے سے جانتے تھے، درویش سے پوچھا کہ ریحان جی آپ کا اور آپ کے پرکھوں کا اصل تعلق کہاں سے ہے؟ جواب میں جب یہ کہا کہ ”آپ نے مریدکے کا نام تو سنا ہوگا؟“ تو ترنت بولے ”ریحان جی ہم سے جیادہ کس نے سنا ہے۔“ کبھی موقع ملا تو امام المجاہدین حافظ سعید صاحب کے متعلق ذاتی حوالے سے دو تین سخت نوعیت کے واقعات بھی تحریر کیے جائیں گے۔ اس وقت اسی پر اکتفا ہے کہ درویش کے پیر و مرشد سرسیدؒ جو اپنی اصل میں خود ایک سخت یا کٹر وہابی تھے اور تمثیلاً فرماتے تھے کہ ایک کریلا اور دوسرے نیم چڑھا کی طرح ہوں۔ مگر ساتھ ہی ان کا فرمان ہے کہ ہندوستان ایک خوبصورت دلہن کی مانند ہے۔ ہندو اور مسلمان جس کی دو روشن آنکھیں ہیں۔ اگر ایک آنکھ خراب ہوگئی تو اس دلہن کی خوبصورتی نہیں رہے گی۔
درویش آج بھی اس عظیم الشان تاریخی خطۂ ہند میں ہندو اور مسلمان کو اپنی دو آنکھوں کی طرح سمجھتا ہے سو وہ کیسے یہ برداشت کرسکتا ہے کہ اس کی کسی ایک آنکھ کو نقصان پہنچے۔ اسے دونوں کا درد برابر محسوس ہوتا ہے۔ سو اے طاقت کے بھوکے لیڈرو! نفرت کے بیوپاریو! خطے کے پونے دو ارب انسانوں کو پیار محبت ترقی و خوشحالی کے ساتھ جینے دو۔ تم نے چیڑ پھاڑ کرتے ہوئے دو قومی نظریے والے جنونی نعروں سے ان کا سکون سے جینا حرام کرڈالا ہے۔ خدارا اب ان کی نئی نسلوں پر ہی کچھ ترس کھاؤ۔ اور جہاد کے نام پر دہشت گردی کا گھناؤنا کھیل اب ختم کر دو۔