جنگ بندی کے لیے پیوٹن کی یوکرین کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش

  • اتوار 11 / مئ / 2025

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کو 15 مئی کو ’براہ راست مذاکرات‘ میں شریک ہونے کی دعوت دی ہے، جس کے لیے یوکرینی صدر نے بھی رضامندی کا اظہار کر دیا ہے۔

خبروں کے مطابق روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ روس سنجیدہ مذاکرات‘ چاہتا ہے، جو پائیدار، مضبوط امن کی طرف بڑھنے کے مقصد کے لیے ہیں۔ پیوٹن نے کہا کہ وہ ’نئی جنگ بندی‘ پر اتفاق کو ’لازمی‘ نہیں کہہ سکتے۔ روسی رہنما نے کہا کہ تجویز کردہ مذاکرات ترکی کے شہر استنبول میں ہونے چاہئیں، جیسے کہ پہلے بھی ہوئے ہیں۔ وہ آج ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے بات کریں گے۔

دوسری جانب یوکرینی صدر ولادومیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ بندی مذاکرات کے لیے روس سے ملنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے استنبول میں بات چیت کی پیوٹن کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت اشاررہ ہے کہ روس نے آخرکار جنگ ختم کرنے پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو طویل مدت سے اس کا انتظار تھا۔  کسی بھی جنگ کو واقعی ختم کرنے کا پہلا قدم جنگ بندی ہے۔ چند دن کے لیے بھی قتل جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ توقع کرتے ہیں کہ روس مکمل، مستقل، اور قابل اعتماد جنگ بندی کی تصدیق کرے گا، جس کا آغاز کل 12 مئی سے ہوجائے گا۔ ہم روس سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پیوٹن کے اعلان کا مطلب ہے کہ 15 مئی روس اور یوکرین کے لیے ’ممکنہ طور پر عظیم دن‘ ہو سکتا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ ’سوچیں کتنی زندگیاں بچ جائیں گی، جب یہ کبھی ختم نہ ہونے والی ’خوں ریزی‘ ختم ہو جائے گی۔ یہ ایک بالکل نئی اور بہت بہتر دنیا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ فریقین کے ساتھ کام کرتے رہیں گے تاکہ یہ ممکن ہوسکے۔