صرف بارہ گھنٹے میں

بھارت کی مسلسل جارحیت کے بعد صرف12گھنٹے سے بھی کم جاری رہنے والی جنگ نے بہت سی حقیقتوں کو واضح کر دیا ہے۔اِس جنگ کا پاکستان کو بہت فائدہ ہوا ہے۔اُس کے بارے میں نہ صرف بھارت،بلکہ اُن تمام ممالک کی غلط فہمیاں دور  ہو گئی ہیں جو پاکستان کو کمزور سمجھتے تھے۔

اِس جنگ سے اِس بات کا بھی نتارا ہو گیا ہے کہ برصغیر میں بھارت کی خود ساختہ برتری کا دعویٰ پانی کے بلبلے جیسا ہے،جسے پاکستان نے ایک پھونک مار کے تہس نہس کر دیا ہے۔اس چند گھنٹے کی جنگ سے بھارت کو یہ عقل  بھی آ گئی ہو گی کہ وہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے جو دراندازی کرتا رہتا ہے اور ایسے گمراہ لوگوں کی سرپرستی کرتا ہے،جو صرف اپنے مفادات کے لئے پاکستان کے خلاف آلہ کار بن جاتے ہیں،وہ ایک بے سود اور بے مقصد مہم ہے۔پاکستان ایسے ہتھکنڈوں سے کمزور ہونے والا ہے اور نہ اِسے توڑنے کی مکروہ سازش کامیاب ہو سکتی ہے۔

پاکستان نے کئی دِنوں کے تحمل و برداشت کے بعد بھارت کو جو جواب دیا اِس قدر بھرپور اور ہدف آمیز تھا کہ بھارتیوں کے حواس گم ہو گئے۔ یہ خود امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتوں نے بھی دیکھ لیا کہ ایسی منظم فوج کے ہوتے پاکستان کے بارے میں کوئی بھی منفی خیال اپنی ہی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے یہ بجائے خود ایک بہت بڑی حقیقت ہےلیکن اُس تک نوبت تو بہت بعد میں آئے گی،اُس سے پہلے پاکستان کے اردگرد جو اُس کی افواج اور بہادر عوام کا حصار ہے،اُسے توڑنا پتھر کو چبانے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔49 سال پہلے پاک بھارت جنگ ہوئی تھی، اگر بھارتی سورماؤں کو صرف وہی یاد تھی اور وہ اسی کی بھول میں تھے تو اُنہیں اِس بار 12گھنٹے کی جنگ نے سمجھا دیا ہے کہ معاملہ کچھ اور ہے۔

اپنی جغرافیائی برتری اور آبادی کی کثرت کو بنیاد بنا کر خطے کی چودھراہٹ کا خواب دیکھنے والے بھارت کے لئے پاکستانی ہوا بازوں کے یہ حملے ایسا ڈراؤنا خواب بنے رہیں گے جو برسوں نہیں بھلایا جا سکتا۔قابل ِ غور بات یہ ہے جب بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان کے چند شہروں کو نشانہ بنایا تھا تو امریکی وزیر خارجہ نے اُس کی سرزنش کرنے کی بجائے پاکستان سے کہا تھا بھارت کے تحفظات دور کیے جائیں لیکن ہفتے کی صبح پاکستان کے بھرپور جواب نے سب کی چولیں ہلا دیں،آنکھیں کھول دیں۔وہی امریکہ جو پاکستان پر دباؤ ڈال  رہا تھا، سفارت کاری  پر اُتر آیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں تسلیم کیا کہ رات بھر کی سفارت کاری کے بعد دونوں ممالک کو جنگ بندی پر راضی کر لیا گیا ہے،طاقت کو طاقت مارتی ہے۔پاکستان نے جواب نہیں دیا تھا تو اِسے اُس کی کمزوری گردانا گیا،بھارت کو برتری دے دی گئیلیکن پاکستان کے فضائی حملوں نے سب کو یہ باور کرا دیا پورا بھارت پاکستان کی فضائی فوج کی دسترس میں ہے،جہاں چاہیں گے گھس کر ماریں گے۔

پھر یہ بھی نہیں کہ بھارت کی طرح ڈرونز اندھا دھند بھیجے گئے یا بہاولپور اور مریدکے میں سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔پاکستان نے جتنا بھی فضائی آپریشن کیا،اُس میں بھارت کے ہوائی اڈوں اور اُن جگہوں کو نشانہ بنایا جہاں سے وہ جارحیت کا ارادہ رکھتا تھا۔ چند گھنٹوں میں اُس کی کمر توڑ کے رکھ دی، جس کے بعد غالباً یہ اس کی درخواست تھی، جس پر امریکہ نے رات بھر دونوں ممالک کو جنگ بندی پر راضی کرنے کے لئے کوششوں کا آغاز کیا۔

بھارت نے ہمیشہ ایشیا کی سپر پاور بننے کا جنون پالا ہے۔پنجابی میں اسے کہتے ہیں پلے نئیں دھیلہ تے کر دی میلہ میلہ،صرف سوا ارب آبادی کے بل بوتے پر اگر سپر پاور بنا جا سکتا تو آج بھارت سپر پاوری میں چین کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہوتا۔امریکہ اگر دنیا کی سپرپاور ہے تو اس کے لوازمات کچھ اور ہیں۔بھارت جو کہ غربت، افلاس اور پسماندگی میں ورلڈ ریکارڈ رکھتا ہے،کس خوشی میں ایسے خواب دیکھتا ہے جو خطے کے امن کو تہہ و بالا کر سکتے ہیں۔ اُس نے اپنے ہمسایہ چھوٹے ممالک میں خوف و ہراس پھیلا رکھا  ہے۔اُن میں دخل اندازی کو اپنا وتیرا بنایا ہوا ہے ۔وہ اسی قطار میں پاکستان کو بھی رکھنا چاہتا ہے۔اُسے اتنی بھی عقل نہیں کہ پاکستان نظریے کی بنیاد پر بننے والا ایک ملک  ہے،جس کی اپنی ایک شناخت ہے۔جس حقیقت کو گاندھی نے تسلیم کیا اُسے بھارت کے حالیہ حکمران تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

سازشیں   ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔وہ اس حقیقت کو جھٹلا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان نہیں خود کشمیری آزادی مانگ رہے ہیں۔یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے جسے بالآخر حل ہونا ہے۔وہ طاقت کے زور پر کشمیریوں کو محبوس رکھے ہوئے ہے اور دنیا کی توجہ اس زیادتی اور بربریت سے ہٹانے کے لئے پاکستان پر مختلف الزامات لگاتا رہتا ہے۔حالیہ واقعہ پہلگام میں کرایا اور پھر طے شدہ منصوبے کے تحت فوراً ہی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔جب اس سے بھی بات نہ بنی تو اپنی خود ساختہ تھیوری کے تحت پاکستان کے شہروں پر میزائل برسائے کہ وہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔ یہاں بھی منہ کی کھانی پڑی کہ ان حملوں کے نتیجے میں معصوم شہری جن میں بچوں کی تعداد زیادہ تھی، شہید ہوئے۔ آج یہ عالم ہے کہ بھارت دنیا کے سامنے نہ صرف اپنے اس بیانیے میں ناکام ہو گیا ہے، بلکہ برتری کے اُس زعم سے بھی اسے محروم ہونا پڑا ہے،جس کا وہ پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے۔

پاکستان بجا طور پر فتح  کی خوشی سے سرشار  ہے۔یہ خوشی دنیا کے لئے بھی ایک ایسا پیغام ہے، جس میں جارحیت کا عنصر شامل نہیں بلکہ یہ حقیقت موجود ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارت نے جو بلا ثبوت جارحیت کی،اُس کا پاکستان نے ایک موثر جواب دیا ہے،جو اُس کا حق تھا۔ پاکستانی ہوا بازوں کو دنیا بھر کے میڈیا نے جس طرح حیران کن مہارت کا حامل قرار دیا و ہ بھی ایک بہت بڑا انعام ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت کے اندر گھس کر حملہ کرنے کے باوجود پاکستان کا کوئی جہاز تباہ ہوا نہ ہی کوئی پائلٹ پکڑا گیا، جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت کے کئی جہاز تباہ ہوئے ۔ میرے نزدیک قدرت کی طرف سے پاکستان کا یہ ایک ایسا ٹیسٹ ہوا ہے، جس نے خود ہمارے اور دنیا کے کئی ابہام دور کر دیئے ہیں۔یہ بات حرفِ غلط کی طرح مٹ گئی کہ کسی بھی داخلی سیاسی اختلاف کی وجہ سے پاکستانی اپنے وطن کے مقابلے میں تقسیم  ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ابہام ختم ہوا کہ پاکستان کی افواج اور عوام میں کسی بھی وجہ سے کوئی فاصلہ پیدا ہو سکتا ہے۔خصوصاً اس صورت میں جب کسی بیرونی دشمن سے مقابلہ درکار ہو،قوم نے متحدد یک جان ہونے کا جو مظاہرہ ان دِنوں میں کیا وہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔

اس آپریشن کا نام سیسہ پلائی دیوار رکھا گیا تھا۔ قوم نے واقعی یہ ثابت کر دیا وہ سیسہ پلائی دیوار ہے۔بھارت اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہیں لیتا اور خطے میں برابری کی بنیاد پر امن و استحکام لانے کی کوشش نہیں کرتا تو یہ خود بھارتی رہنماؤں کی نہ صرف ناکامی ہو گی بلکہ یہ بھارت کے سوا ارب انسانوں پر ظلم بھی ہو گا جو غربت و افلاس میں زندگی گزار رہے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)