مودی ناقابل اعتماد کیوں؟
- تحریر حامد میر
- سوموار 12 / مئ / 2025
یہ 9مئی کی رات تھی۔ رات 12بجے کے بعد کئی بھارتی ٹی وی چینلز نے یہ بریکنگ نیوز نشر کرنا شروع کر دی کہ بھارتی فوج نے آزاد کشمیر پر قبضہ کرلیا ہے۔ پھر یہ معاملہ آزاد کشمیر سے بڑھا اور بھارتی ٹی وی چینلز نے کراچی اور لاہور کو بھی فتح کرلیا۔
رات ڈیڑھ بجے کے بعد مجھے کچھ بھارتی صحافیوں نے فون کرنے شروع کئے۔ میں نے ان فون کالوں کو نظر انداز کیا۔ پھر ایک سینئر بھارتی صحافی کا واٹس ایپ پر میسج آیا۔ یہ خاتون صحافی انڈیا ٹوڈے سے وابستہ ہیں۔ ان کا تعلق پرنٹ میڈیا سے ہے۔ میرا ان سے تعلق ایڈیٹر اور کالم نگار کا ہے۔ کئی سال سے ان کے جریدے کیلئے کالم لکھ رہا ہوں کیونکہ وہ ایک پروفیشنل ایڈیٹر ہونے کے ناطے میری تحریر کو سنسر کرتی ہیں اور نہ ہی اس کا مفہوم تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے صرف یہ پوچھا کہ کیا آپ خیریت سے ہیں؟ میں نے بتایا کہ بالکل خیریت سے ہوں۔
مجھے سمجھ آ چکی تھی کہ زی نیوز سمیت کئی بھارتی ٹی وی چینل کراچی اور لاہور سمیت پاکستان کے پانچ شہروں کو دنیا کے نقشے سے مٹا چکے تھے۔ اسلام آباد پر بھارتی فوج کا قبضہ بھی کرا چکے تھے۔ وزیراعظم ہاؤس میں دھماکہ کروا کے وزیراعظم شہباز شریف کو لاپتہ قرار دے چکے تھے اور میری ایڈیٹر صاحبہ کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ انہوں نے صرف میری خیریت دریافت کرکے ان تمام خبروں کی سچائی کا اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی۔ ان کا دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا سب ٹھیک ہے؟ میں نے جواب دیا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی ہے لیکن اسلام آباد میں بالکل خیریت ہے۔ اس کے بعد ان کے اور میرے درمیان کافی باتیں ہوئیں۔ انہوں نے ارناب گوسوامی کی طرف سے میرے خلاف ہرزہ سرائی پر افسوس کا اظہار کیا۔ اب میں نے سونے کی کوشش کی لیکن بھارتی میڈیا نے جھوٹ کا جو طوفان برپا کیا تھا، اس نے امریکا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں پاکستانیوں کو پریشان کردیا تھا۔
زی نیوز کے ایک اینکر نے اعلان کردیا تھا کہ آج کی رات پاکستان کی آخری رات ہے کل سے پاکستان دراصل اکھنڈ بھارت کا حصہ بن جائے گا۔ اکھنڈ بھارت کا ذکر مختلف بھارتی ٹی وی چینلز اپنے اپنے انداز میں کر رہے تھے۔ صبح چار بجے کے قریب فجر کے بعد میں نے سونے کی کوشش کی لیکن اب دنیا بھر میں پھیلے ہوئے صحافی دوست مجھ سے بھارتی میڈیا کے دعوؤں کی حقیقت پوچھ رہے تھے۔ وضاحتیں دے دے کر تھک گیا تو فون بند کردیا اور پانچ بجے سو گیا۔ آٹھ بجے پھر اٹھ گیا تو بنگلہ دیش سے ایک صحافی دوست کا فون آگیا۔ آٹھ مئی کو روزنامہ جنگ میں میرے کالم کا بنگالی ترجمہ ایک بنگلہ دیشی اخبار نے شائع کیا تھا۔ بنگالی صحافی پوچھ رہا تھا کہ آپ نے لکھا ہے کہ پاکستان ایئرفورس نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا ہے اور اب بھارت ایک دفعہ پھر جارحیت کرے گا۔ اگر ایسا ہوگیا تو کیا ایٹمی جنگ نہیں ہوگی؟
میں نے اس دوست کو بتایا کہ بھارت کو ابھی تک زعم ہے کہ اسے روایتی ہتھیاروں میں پاکستان پر برتری حاصل ہے لہٰذا وہ روایتی ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کرے گا اور اپنی رسوائی کو آواز دے گا۔ میرے بنگالی دوست نے نیک تمنائوں کے ساتھ پاکستان کی کامیابی اور سلامتی کی دعا کی۔ 10 مئی کی رات بھارت نے پاکستان کے اہم فوجی اڈوں پر میزائل داغ کر ایک جنگ کا آغاز کردیا۔ پاکستان نے ان میزائل حملوں کا جواب زیادہ موثر انداز میں دیا۔ بھارت نے ہماری نو اہم تنصیبات پر حملہ کیا جس میں رحیم یار خان کا شیخ زید ایئرپورٹ بھی شامل تھا۔ پاکستان نے جواب میں بھارت کی 26تنصیبات پر حملہ کیا۔ بھارت کا سب سے بڑا نقصان جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان آدم پور ایئرپورٹ پر نصب ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی تباہی تھی جو 2018 میں ڈیڑھ ارب ڈالر کے عوض روس سے خریدا گیا تھا۔
7مئی کو پاکستان ایئرفورس نے فرانس کے رافیل طیاروں کی شان و شوکت کا جنازہ نکالا تھا اور 10مئی کو روس کا ایئر ڈیفنس سسٹم بھی اپنے انجام کو پہنچا۔ پاکستان ایئرفورس نے ناصرف ڈاگ فائٹ میں بھارت کو ناکوں چنے چبوائے بلکہ میزائلوں نے بھارت کے براہموس میزائل تباہ کرکے پوری دنیا کو حیران کردیا۔ بھارت کے پاس ایک طرف فرنچ جنگی طیارے تھے، روسی میزائل ڈیفنس سسٹم تھا اور دوسری طرف اسرائیلی ڈرون تھے۔ پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے 78سے زیادہ اسرائیلی ڈرونز کو تباہ کرکے ایک نئی جنگی تاریخ لکھ ڈالی۔ زمینی جنگ میں پاکستان آرمی نے بھارتی توپوں کو برباد کر ڈالا اور لائن آف کنٹرول پر جگہ جگہ بھارتی فوجیوں نے سفید جھنڈے لہرا کر زندگی کی بھیک مانگی۔ بھارت کا خیال تھا کہ امریکا، یورپ اور دیگر اہم ممالک اس کی حمایت کریں گے۔ سوائے اسرائیل کے کوئی اہم ملک بھارت کی حمایت میں کھڑا نہ ہوا۔
دوسری طرف چین، ترکیہ اور آذربائیجان کھل کر پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔ بھارتی میڈیا میں ایران کے خلاف گالی گلوچ کی جاتی رہی اور جب امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت میں سیز فائر کا اعلان کیا تو بھارتی میڈیا ٹرمپ کےخلاف بھی چیخ اٹھا۔ اس سیز فائر میں امریکا کے علاوہ برطانیہ، سعودی عرب اور ترکیہ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ بھارت جو ہمیشہ کسی تیسرے ملک کی ثالثی کو مسترد کردیا کرتا تھا، اس مرتبہ امریکا کو ثالث بنا کر مزید رسوائی سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جنگی اور سفارتی محاذ پر بھارت کی عبرتناک شکست اس پورے خطے کے مستقبل پر مثبت اثرات مرتب کرے گی۔
بھارت نے سیز فائر تسلیم کرلیا لیکن سندھ طاس معاہدے کو بحال نہیں کیا۔ جس پاکستان کو بھارت دہشت گرد کہتا تھا، اب اس پاکستان سے اسے مذاکرات کرنے ہوں گے۔ سیز فائر کے بعد بھارتی میڈیا پاکستان پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا جھوٹا الزام لگاتا رہا۔ میں اس سیز فائر کے نتیجے میں بامقصد مذاکرات کے آغاز کا حامی ہوں لیکن نریندر مودی کی سیاست میں پاکستان کے ساتھ بامقصد مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ نریندر مودی نے 24 مارچ 2012 کو احمد آباد میں کھل کر اکھنڈ بھارت کی حمایت کی تھی اور پاکستان کے صوبہ سندھ کو بھارت میں ضم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
مودی نے ہمیشہ بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت کی ہے لیکن اکھنڈ بھارت کے نظریے میں آزاد بلوچستان یا خود مختار افغانستان کی کوئی گنجائش نہیں۔ مودی دراصل پاکستان، بنگلہ دیش، برما، نیپال، تبت، سری لنکا، تھائی لینڈ، بھوٹان اور مالدیپ کو اکھنڈ بھارت میں شامل کرنا چاہتا ہے اسی لئے اکھنڈ بھارت کا نقشہ بھارتی پارلیمنٹ میں آویزاں کردیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے سیز فائر تو کروا دیا لیکن بھارت میں مودی کا زوال شروع ہو چکا ہے۔ اور مودی اپنی سیاست بچانے کیلئے سیز فائر سے بھاگنے کی کوشش کرے گا۔
ہم بھارت سے دشمنی نہیں چاہتے لیکن جب تک اکھنڈ بھارت کا نقشہ بھارتی پارلیمنٹ میں لٹک رہا ہے، مودی حکومت پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)